بھارت کے جمہوری اداروں کو سخت دباؤ کا سامنا

نریندر مودی نے پارلیمان کی کاروائی کے سلسلے میں پہلی بار حزب اختلاف سے بات کی ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے پارلیمان کی کاروائی کے سلسلے میں پہلی بار حزب اختلاف سے بات کی ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے قومی اخبارات میں یہ خبر شہ سرخیوں کےساتھ شائع ہوئی ہے کہ وزیر اعظم’نریندر مودی نے پارلیمان کا اجلاس خوش اسلوبی سے چلانے کےلیے حزبِ اختلاف کی رہنما سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے پہلی بار بات چیت کی۔‘

پارلیمان کا گذشتہ اجلاس حکمراں جماعتوں اور حزب اختلاف کےدرمیان اختلاف کے سبب تعطل کا شکار رہا تھا۔اجلاس کے دوران تقریباً کوئی کاروائی نہیں ہو سکی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی جمہوریت کا سب سے بڑا ادارہ غیر جمہوری طریقۂ کار کا یرغمال بنا ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اقتدار میں بی جے پی نےکئی بار پارلیمانی اجلاس چلنےنہیں دیا تھا جس کی وجہ سے پارلیمان میں بحث ومباحثے کا راستہ ہی بند ہو گیا تھا۔

اب جب بی جے پی اقتدار میں آ گئی ہے تو پارلیمان معطل کرنےکا وہی طریقۂ کار کانگریس نے اختیار کر لیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جن سوالوں پر بی جے پی نے کانگریس کےدور میں پارلیمان کو مفلوج کر رکھا تھا کانگریس بھی اب انہی سوالوں پر اسے جواب دے رہی ہے۔

اب ججوں کی تقرری کےسوال پر بھی پارلیمنٹ اور عدلیہ کےدرمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناب ججوں کی تقرری کےسوال پر بھی پارلیمنٹ اور عدلیہ کےدرمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں

لیکن سیاسی انتقام کی اس لڑائی میں جمہوریت کا سب سے بڑا ادارہ اور ملک کا سیاسی نظام رفتہ رفتہ اپنا اعتبار اور احترم کھوتا جا رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے پارلیمان میں سنجیدہ اور بامعنی بحث ومباحثے کا کلچر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ پارلیمان میں اب کوئی بحث ہو بھی جاتی ہے تو اکثر بحث برائے بحث اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہوتی ہے۔

ایک وقت تھا جب پارلیمان میں بحث کا میعار اعلیٰ ہوا کرتا تھا، مختلف مسائل پر الگ الگ آرا ہوا کرتی تھی اور قانون ساز تعمیری انداز میں ملک کےمسائل کا حل تلاش کرتے تھے۔ سیاسی جماعتوں میں نظریاتی اختلافات اب باہمی نفرت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

پارلیمان کی ہی طرح عدلیہ بھی جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔

بھارت کی عدلیہ ایک خود مختار اور آزاد ادارہ ہے اور عام طور پر اسے ایک ایماندار اور غیر جانبدار ادارہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ اس ادارے کے وقار اور اہلیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ملک کی عدالتوں میں کئی کروڑ مقدمے برسوں سے التوا میں پڑے ہیں اس سےنہ صرف یہ کہ انصاف کا عمل بری طرح مجروح ہو رہا ہے بلکہ اس سے عدلیہ کی ساکھ کو بھی زک پنہچ رہی ہے۔

اب ججوں کی تقرری کےسوال پر بھی پارلیمان اور عدلیہ کےدرمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں حکومت کے ایک قانون کوغیر آئینی قرار دیا ہے جس کےتحت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کےججوں کی تقرری حکومت کےمقرر کردہ ایک نئےعدلیاتی کمیشن کےذریعے کیے جانےکی تجویز تھی۔

پارلیمنٹ اور عدلیہ کی طرح میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپارلیمنٹ اور عدلیہ کی طرح میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کےلیے ججوں کی تقرری سینیئر ججوں پر مشتمل موجودہ کالیجیئم کے ذریعے ہی کی جائے گی۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما اور ماہر قانون ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ ملک کسی آمریت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مقننہ اور عدلیہ میں ٹکراؤ ابھی جاری ہے۔ اس دوران ممبئی ہائی کورٹ کے ایک سابق جج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوتوا کےنظریات کےحامل جج ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں فائز ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 400 عہدے خالی ہیں اگراس طرح کے نظریات کےجج بڑی تعداد میں آ گئے تو عدلیہ پر یقینا برا اثر پڑے گا۔

پارلیمان اور عدلیہ کی طرح میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے۔

میڈیا کی جانبداری رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے۔ صحافت سے معروضیت غائب ہو رہی ہے۔ اکثر اخبارت اور ٹی وی چینلز کاروباری وجوہات اور کسی مشکل میں پڑنے سے بچنے کےلیے حکومت نواز ہو چکے ہیں۔ صحافت میں غیر جانبداری ایک فطری اصول نہیں اب ایک چیلنج ہے۔ ٹی وی چینلوں پر بحث کے بجائے چیخنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

بھارت کی بدلتی ہوئی سیاست میں ملک کےجمہوری ادارے بھی اس وقت زبردست دباؤ اور تغیر سے گزر رہے ہیں۔