بہار بی جے پی اور آر ایس ایس کی مصیبت بن گیا

نتیش اور لالو کو شکست دینا مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کے لیے سیاست سے زیادہ وقار کا مسلہ بن گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننتیش اور لالو کو شکست دینا مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کے لیے سیاست سے زیادہ وقار کا مسلہ بن گیا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کی ریاست بہار میں دس برس قبل جب نتیش کمار نے وزیرِ اعلی کا عہدہ سنبھالا تو کچھ دنوں میں ایک رکنِ اسمبلی کی موت ہو گئی۔ ایم ایل اے کے جسدِ خاکی کو سرکاری اعزاز کے مطابق پانچ بندوقوں کی سلامی دی جانی تھی۔ بھارتی پرچم میں لپٹے ہوئے جسدِ خاکی کے سامنے پانچ پولیس اہلکار اپنی بندوقوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور سلامی کے لیے ہوا میں گولیاں داغیں۔ لیکن پانچ میں سے صرف ایک ہی بندو‍ق چل سکی۔

بہار کی حالت ان دنوں کچھ ایسی ہی تھی۔

لالو پرساد یادو کے 15 برس کے اقتدار میں ریاست کا سرکاری ڈھانچہ پوری طرح منتشر ہو چکا تھا۔ ریاست کا تعلیمی نظام بکھر رہا تھا۔ صحت کی جو سہولیات تھیں وہ تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر تھیں جبکہ سرکاری ادارے بدحالی کا شکار تھے۔ شاید انھیں حالات میں لالو کے اقتدار کو ’جنگل راج‘ کہا گیا تھا۔

لیکن یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ لالو پرساد یادو نے بہار میں ایک نئی سیاست کا آغاز کیا۔ ان کے 15 برس کے اقتدار میں سیاست کے ڈیموکریٹائزیشن کا عمل بھرپور طریقے سے ہوا۔ جو غریب اور کمزور تھے انھیں طاقت ملی۔ سماجی انصاف کے نام پر بہار میں ایک تحریک چلی جس نے بہار کے معاشرے کو بدل دیا۔ بہار کا جو حکمراں طبقہ تھا اس کی گرفت ٹوٹ گئی۔

لالو پرساد کی توجہ تفریق اورزمیندارانہ نطام کا شکار پسماندہ ذاتوں کو برابری اور خوداعتمادی کی سطح پر لانے پر مرکوز تھی

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنلالو پرساد کی توجہ تفریق اورزمیندارانہ نطام کا شکار پسماندہ ذاتوں کو برابری اور خوداعتمادی کی سطح پر لانے پر مرکوز تھی

پچھلے25 برس میں لالو اور نتیش نے بہار کے غریب ترین عوام کو سیاست کا محور بنا دیا۔

لالو کے دور میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرکاری نظام کو بہترکرنے پر توجہ نہیں تھی۔ ان کی توجہ تفریق اور زمیندارانہ نظام کا شکار پسماندہ ذاتوں کو برابری اور خوداعتمادی کی سطح پر لانے پر مرکوز تھی۔

نتیش کمار نے سماجی تبدیلی کی اس تحریک کو ترقی سےجوڑ دیا۔

ہر طرح کی مشکلات کے باوجود بہا گذشتہ 10 برس میں نتیش کے اقتدار میں خاصی ترقی ہوئی۔ سڑکیں، بجلی، ہسپتال، تعلیمی ادارے، سرکاری محکمے اور امن و امان سبھی شعبوں میں ایسی بہتری آئی کہ نظریاتی طور پر نتیش کی مخالفت کرنے والے بھی ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

لیکن ذات پات کی سیاست کا شکار بہار میں سب سےبڑی تبدیلی معاشرتی اور جمہوری سطح پر ہوئی ہے۔

لالو اور نتیش نے 25 برس کےاقتدار میں بہار کے غریب اور پسماندہ عوام کو ذات پات کی ذلت سےنکال کر نہ صرف ان میں خود اعتمادی پیدا کی اور انھیں برابری کی سطح پر لا کھڑا کیا بلکہ انھیں انسانی وقار حاصل کرنےمیں مدد دی۔

بہار شمالی بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی ابھی تک تن تنہا اپنے زور پر داخل نہیں ہو سکی ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے بہار کی انتخابی لڑائی ایک نظریاتی جنگ کی طرح ہے۔

نتیش کمار نے بہار میں سماجی تبدیلی کی لالو پرساد کی تحریک کو ترقی سےجوڑ دیا

،تصویر کا ذریعہbiharpictures.com

،تصویر کا کیپشننتیش کمار نے بہار میں سماجی تبدیلی کی لالو پرساد کی تحریک کو ترقی سےجوڑ دیا

خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت کی ہے۔ نتیش کو شکست دینے کے لیے انھوں نے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔ نتیش اور لالو کو شکست دینا مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کے لیے سیاست سے زیادہ وقار کا مسلہ بن گیا ہے۔

اب جبکہ انتخابات اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں بی جے پی کی قیادت گھبرائی ہوئی لگ رہی ہے۔ بہار کا انتخاب جیتنا وزیر اعظم مودی کے لیے انتہائی اہم ہو چکا ہے۔

ایک طرف نتیش ہیں جنھوں نے 10 برس کے دوران بہار کی صورت بدل دی ہے اور اب ریاست ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ دوسری جانب مودی ہیں جنھوں نےترقی کا وعدہ کیا ہے اور لوگ ڈیڑھ برس سے ان کے وعدے کی تکمیل کے انتظار میں ہیں۔

بہار کے انتخابات کے نتائج سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ لوگوں کا یقین ترقی کے کس ماڈل میں ہے۔