انڈیا میں ادیبوں کو دبانے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے سب سے بڑے ادبی ادارے ساہتیہ اکیڈمی نے زبردست دباؤ کے بعد بالآخر اپنی خاموشی توڑ دی۔ اکیڈمی نے ایک قرار داد میں کنڑ زبان کے ادیب اور معقولیت پسند مصنف ایم ایم کلبورگی کے قتل کی مذمت کی اوراس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اظہار کی آزادی کے حق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی۔
اکیڈمی نےیہ قرارداد اس وقت منطور کی ہےجب ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور مذہبی منافرت کے خلاف اکیڈمی کی خاموشی پراحتجاج میں 30 سے زیادہ ادیبوں نے اپنے ادبی ایوارڈز لوٹا دیے۔
قرارداد کی منظوری کے وقت بھی ملک کے سرکردہ ادیبوں اور شاعروں نے اکیڈمی کے دفتر کے سامنے خاموش مظاہرہ کیا ہے۔ اکیڈمی نے ادیبوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ایوارڈز واپس لے لیں۔
بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اتنی بڑی تعداد میں ادیبوں نے ساہتیہ اکیڈمی کا باوقار ادبی ایوارڈز احتجاج میں واپس کیا ہو۔ بھارت کی تاریخ میں عدم رواداری کی شکل میں اظہار کی آزادی کوغالباً اتنا بڑا چیلنج پہلے کبھی درپیش نہیں ہوا۔ادیبوں پر حملے، نظریات پر حملے، فلم اور اداکاروں اور فنکاروں پر حملے۔

،تصویر کا ذریعہShib Shankar
ادیبوں کا کہنا ہے کہ ہر طرف ایک گھٹن کاماحول ہے۔ تصورات اور تخیلات پر پہرے لگانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ تاریخ کو نفرت پیدا کرنے والی داستانوں سے بدلا جا رہا ہے۔ سائنسی ذہنیت کی جگہ تنگ نظر مذہبیت کو فروغ دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد مودی کی توجہ معیشت اور خارجی تعلقات پرمرکوز ہے جبکہ تعلیم اور ثقافت بظاہرانھوں نے آر ایس ایس کےنظریات کے حامل رہنماؤں کےلیے چھوڑ دیا ہے۔ تعلیم اور علم و دانش کی سطح پر پورا ملک اس وقت ایک بحران سے گزر رہا ہے۔
ایک طرف وزیر اعظم مودی ملک کی معیشت میں اصلاحات اور خارجی تعلقات کو فروغ دینے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب ان کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس تعلیمی اور تحیقیقی اداروں اور ملک کی ثقافت کوہندوتوا کے رنگ دینے میں لگی ہو ئی ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم رواداری اسی عمل کا ایک حصہ اور نتیجہ ہے۔
اعتدال پسند اور سائنسی نظریات پراس وقت ہرطرف سے حملےکیے جا رہے ہیں۔ ملک کا سیکولر کلچر زبردست دباؤ میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہShib Shankar
نفرت اورعدم رواداری کےاس ماحول میں ملک کےادیبوں اور شاعروں کا احتجاج بھارت کےاجتماعی شعور اورگھٹن کی عکاسی کرتا ہے۔ ادیبوں اور شاعروں نے حکومت وقت اور ان کے نظریاتی اتحادیوں پر یہ واضح کردیا ہےکہ نفرتوں، ہجومی حملوں اور تشدد سے تصورات اور خیالات کو روکا نہیں جا سکتا۔
ادیب، شاعر، مصور اورفنکار عدم روادری اور نفرت کی طاقتوں کا پہلا نشانہ ہیں۔
بھارت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جس میں ادیبوں، شاعروں، اور دانشوروں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ملک کی سیاست کا رخ اگر اسی ڈگر پررہا تو آنے والے دنوں میں ان کی ذہنی اور تخلیقی ذمے داریاں اور بھی بڑھ جائیں گی۔
ایوارڈز لوٹا کرانھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہےکہ وہ اپنی تحریروں سے اس تاریکی کا مقابلہ کریں۔







