’مسلمان اقلیت ہیں کرایہ دار نہیں‘

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھارت کے سرکردہ مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت کی مہم پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔
جمعیت العلماء ہند کے تحت دارالحکومت دہلی میں ایک کانفرنس میں ان رہنماؤں نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی اداروں اور تشخص پر حملے سے خوفزدہ نہ ہوں۔
ان رہنماؤں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ آئین کی سیکولر روح کی پاسداری کریں اور جارحیت و مذہبی اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ بااثر مذہبی تنظیموں میں سے ایک جميعت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری محمود مدنی نے کہا: ’یہ مٹھی بھر فرقہ پرست لوگ ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری ہی زمین پر، ہمارے ہی وطن میں، ہماری ہی سرزمین پر ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘
گذشتہ چند ماہ میں مسلمانوں اور ان کی مذہبی اداروں کے خلاف کچھ لوگوں کے جارحانہ بیانات سے مسلمانوں میں بہت تشویش ہے۔

مولانا مدنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہم کرایہ دار نہیں ہیں۔ ہم اس کے مالک ہیں۔ ہم ہندوستانی اتفاقی طور پر نہیں ہیں، ہم نے ہندوستانی ہونا پسند کیا ہے۔ ہم یہی اس حکومت کو بتانا چاہتے ہیں۔‘
گذشتہ دنوں دہلی میں جميعت علمائے ہند کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں ملک کے کئی سرکردہ مسلم رہنماؤں نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز بیانات اور مذہبی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے کہا کہ ’کئی ہندو تنظیم مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہیں اور حکومت خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مدرسوں کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے لیکن مسلمانوں کو صبر و تحمل دامن ہاتھ سے جانے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

کانفرنس میں آچاریہ پرمود كرشنم اور سوامی اگنی ویش نے بھی فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی مذمت کی۔
مسلم لیڈروں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے مذہبی اداروں کو تحفظ فراہم کرے اور بعض ہندو تنظیموں کی مذہبی جارحیت اور نفرت پھیلانے کی کوششوں پر روک لگائے۔
اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی گذشتہ مہینوں میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ آئین کے تحفظ کے پابند ہیں لیکن گذشتہ دنوں اقلیتی فرقوں کے خلاف حملوں میں تیزی آئی ہے۔







