مسلمانوں پر سخت گیر ہندوئیت کا بڑھتا دباؤ

انتہا پسند جماعتیں سمجھتی ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے ہندؤوں اور ہندو مذہب کے لیے خطرہ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنانتہا پسند جماعتیں سمجھتی ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے ہندؤوں اور ہندو مذہب کے لیے خطرہ ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

گذشتہ دنوں حیدرآباد کے ایک ہندو سرجن نائدو نے دہلی کی پرواز پکڑنے سے پہلے انٹرنیٹ کے ذریعے دہلی میں ایک ٹیکسی بک کی۔

ان کی ایک شرط تھی کہ ڈرائیور ہندو ہونا چاہیے۔

ٹیکسی کمپنی نے نائڈو کو جواب دیا کہ ان کی کمپنی مذہب کی بنیاد پر اپنے ڈرائیوروں کے ساتھ تفریق برتنے میں یقین نہیں رکھتی۔

لیکن اس غیر ملکی ٹیکسی کمپنی کی طرح بھارت میں ہر جگہ صورت حال ایسی نہیں ہے ۔ بھارت کے شہر بڑودہ میں سینکڑوں مسلمانوں کو مقامی انتظامیہ نے مکان کا الاٹمنٹ اس لیے روک دیا کیونکہ وہاں کے ہندؤوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے پڑوس میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

گذشتہ دنوں ایک مسلمان تاجر کو بھاؤ نگر میں اپنا بنگلہ فرخت کر دینا پڑا۔ انھوں نے یہ بنگلہ ایک نام نہاد ’ہندو علاقے‘ میں لیا تھا ۔ وہ ایک برس سے اس گھر میں منتقل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن مقامی ہندوؤں نے سخت گیر ہندو تنظیموں کی مدد سے انھیں اپنے ہی گھر میں نہیں رہنے دیا اور بالآخر انھیں اپنا گھر فروخت کرنے کے لیے مجبور کر دیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمان سیاسی طور پر بے چارگی کے احساس سے گزر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمان سیاسی طور پر بے چارگی کے احساس سے گزر رہے ہیں

گجرات کے معروف دانشور اور سماجی کارکن جے ایس بندوق والا مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک طویل عرصے سے سرگرم رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ گجرات، مہاراشٹر، اور کئی دوسری ریاستوں میں آبادیاں مذہب کے نام پر سکڑ رہی ہیں اور نئے علاقوں، بستیوں اور بازاروں میں مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو دور رکھا جا رہا ہے۔

’مسلمانوں کی بستیاں گیٹو بنتی جا رہی ہیں جہاں نہ سکول ہیں، نہ اچھے کالج۔ بینک اچھی سڑکوں اور جدید سہولیات کی شدید کمی ہے۔‘

بندوق والا کہتے ہیں: ’یہ آر ایس ایس کا پرانا منصوبہ ہے کہ دلتوں کو پوری طرح ہندو مذہب میں ضم کر لیا جائے اور ان کی جگہ مسلمانوں کو اچھوت بنا دیا جائے۔‘

سرکردہ صحافی اور ملی گزٹ` کے ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے معاملات کو اب ذرائع ابلاغ بھی نظر انداز کر رہا ہے۔

’ایک عرصے تک سینکڑوں بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا رہا اور جب برسوں بعد سارے کیس جھوٹے ثابت ہوتے ہیں یا جب انھیں فرضی پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جاتا ہے تو میڈیا میں کوئی سوال نہیں اٹھتا۔ سیاسی جماعتیں اور ملک کا سیاسی نظام دانستہ طور پر مسلمانوں کے ساتھ تفریق برت رہا ہے۔‘

بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا اور کئی ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے ہندؤوں اور ہندو مذہب کے لیے خطرہ ہے۔ بعض رہماؤں نے سبھی کے لیے خاندانی منصوبہ بندی یا دو بچوں کا ضابطہ لازمی کرنے اور مسلمانوں کی جبری نس بندی تک کرنے کی بات کی ہے۔

سخت گیر تنظیموں نے ’ہم چار ہمارے 40 ‘کا جھوٹا پرچار کر کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چھیڑ رکھی ہے۔

بھارت مسلمان تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت میں تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے نبرد آزما ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت مسلمان تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت میں تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے نبرد آزما ہیں

دانشور جاوید آنند کا خیال ہے کہ بھارت میں اس وقت دائیں بازو کی سیاست زور پر ہے لیکن ملک کی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے بھی مسلمانوں کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

وہ کہتے ہیں: ’دائیں بازو کی جماعتیں تو اب اقتدار میں آئی ہیں۔ 50 برس تک تو نام نہاد سیکیولر جماعتوں کی حکومت رہی۔ سارے مسائل تو اسی وقت کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔‘

ملک کی کئی ریاستوں بالخصوص جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں نے ترقی کی ہے لیکن شمالی ریاستوں کے بیشتر مسلمان غربت اور افلاس کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام کہتے ہیں: ’مسلمانوں کو آگے بڑھنے کے لیے تعلیم اور کاروبار پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔ چھوٹے کاروبار اور پیشے میں مسلمان پہلے ہی آگے آ رہے ہیں۔‘

ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمان سیاسی طور پر بے سہارا ہونے کے احساس سے سے گزر رہے ہیں۔ آئین اور سیکیولرزم کا تحفط کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانیوں کے باوجود بی جے پی اور ہندو تنظیموں کے سخت گیر رہنما وقتاً فوقتاً مسلم مخالف اور نفرت انگیز بیانات دیتے رہے ہیں۔

بھارت اس وقت سیاسی تغیر کے دور سے گزر رہا ہے اور بھارت کے 18 کروڑ مسلمان تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت میں تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے نبرد آزما ہیں۔