’ہندو بھی گائے کھاتے تھے‘

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
- مصنف, ڈی این جھا
- عہدہ, تاریخ داں
لوگوں میں یہ غلط تاثر ہے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی ہیں جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ بالکل ہی بے بنیاد خیال ہے کیونکہ اس کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں ہے۔
قدیم ہندوستان کے ویدک ادب میں ایسی کئی شواہد ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں بھی گائے کے گوشت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ جب یگیہ (ایک مذہبی تقریب) ہوتی تھی تب بھی گائے کو قربان کیا جاتا تھا۔
اس وقت یہ بھی رواج تھا کہ اگر مہمان آ جائے یا کوئی خاص شخص آ جائے تو اس کے استقبال میں گائے کوذبحہ کیا جاتا تھا۔
شادی بیاہ کے رسم میں یا پھر گھر باس (نئے گھر میں آباد ہونے کی رسم) کے وقت بھی گائے کا گوشت کھلانے کا رواج عام ہوا کرتا تھا۔ یہ عہد گپت (تقریبا 550- 320 عیسوی) سے پہلے کی بات ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گائے ذبح کرنے پر کبھی پابندی نہیں رہی ہے لیکن پانچویں صدی سے چھٹی صدی عیسوی کے آس پاس چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے وجود میں آنے اور زمین عطیہ کرنے کا رواج عام ہوا۔
اسی وجہ سے کاشت کاری کے لیے جانوروں کی اہمیت بڑھتی گئی۔ بطور خاص گائے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد کی مذہبی کتابوں یہ باتیں سامنے آئیں کہ گائے کو ذبحہ کیوں نہیں کرنا چاہیے۔
رفتہ رفتہ گائے کو نہ مارنا ایک نظریہ بن گیا، برہمنوں کا نظریہ۔
پانچویں اور چھٹی صدی تک دلِتوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت برہمن مذہبی اصولوں میں یہ بھی ذکر کرنے لگے کہ جو گائے کا گوشت کھائے گا وہ دلِت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اسی دوران اسے قابل تعزِیر بنایا گیا یعنی جس نے گائے کو ذبح کیا اسے کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔
پھر بھی ایسی سزا نہیں تھی کہ گو کشی کرنے والے کی جان لی جائے، جیسا کچھ آج لوگ کہہ رہے ہیں۔ لیکن گوکشی کو برہمن کے قتل کے زمرے میں رکھا گیا۔
اس کے باوجود اس کے لیے کسی سخت سزا کا قانون نہیں تیار کیا گیا۔
سزا کے طور پر صرف اتنا طے کیا گیا کہ گائے کوذبحہ کرنے والے کو برہمنوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔
مذہبی کتب میں یہ کوئی بڑا جرم نہیں ہے اس لیے زمانہ قدیم میں اس پر کبھی پابندی نہیں لگائی گئي۔

،تصویر کا ذریعہEPA
البتہ اتنا ضرور ہوا کہ مغل بادشاہوں کے دور میں کہ راج دربار میں جینیوں کا عمل دخل رہا اس لیے بعض مخصوص موقعوں پر گائے ذبحہ کرنے پر پابندی رہی۔
سارا تنازع 19 ویں صدی میں شروع ہوا جب آریہ سماج کی تشکیل ہوئی اور سوامی دیانند سرسوتی نے ’گوركشا‘ کے لیے مہم چلائی۔
اور اس کے بعد ہی یہ امتیاز سامنے آیا کہ جو 'بیف' فروخت کرتا اور کھاتا ہے وہ مسلمان ہے۔
اسی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی آغاز ہوا۔ اس سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوتے تھے۔
ویسے گوونش کی ایک پوجا ہوتی ہے جس کا نام ’گوپاشٹمي‘ ہے۔ اس کے علاوہ گائے کے لیے علیحدہ کوئی مندر نہیں ہوتے۔
کہیں کسی نے مندر بنائے ہوں تو یہ الگ بات ہے کیونکہ یہاں مندر تو فلمی ستاروں کے بھی بنائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اصل سوال یہ ہے کہ ریاست یعنی حکومت کھانے پر اپنا قانون چلا سکتی ہے یا نہیں؟
جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ملک کی اکثریت کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیف پر پابندی لگانا چاہیے تو آپ انھی میں سے ایک طبقہ کے جذبات کو ٹھیس بھی پہنچا رہے ہیں۔
وہیں ایک دوسرے طبقے کے کھانے پینے پر آپ قدغن بھی لگا رہے ہیں، ملک میں دلت بیف کھاتے ہیں اور کھلے عام کھاتے ہیں، قبائلی کھاتے ہیں۔
جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ میں برہمنوں کو چھوڑ کر باقی سب کھاتے ہیں۔ تمل ناڈو میں بھی ایک بڑا طبقہ ہے جو بیف کھاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت صرف توہمات پر چل رہی ہے۔








