کیا مسلم حکمراں جمہوریت سے خوفزدہ؟

،تصویر کا ذریعہUNIAN
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
کرسمس کے موقع پر پاپائے روم نے ویٹیکن سے اپنے خطاب میں اس بات پر تشویش ظاہرکی کہ مشرق وسطی کے جس خطے میں یسوع مسیح پیدا ہوئے اور جس خطے میں مسیحی مذہب ظہور میں آیا اور پوری دنیا میں پھیلا آج عیسائیت اسی خطے میں خاتمے کی دہلیز پر ہے۔ ابھی چند عشرے قبل تک اس خطے میں صرف عیسائی ہی نہیں یہودی، پارسی اور دوسری مذہبی اقلیتیں بڑی تعداد میں آباد تھیں۔
<link type="page"><caption> سانتا اس بار کنفیوژڈ کیوں ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151226_washington_diary_brajesh_christmas_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> مشرق وسطیٰ میں عیسائیت کو دولت اسلامیہ سے خطرہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151225_christianity_underthreat_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
سنہ 2015 کےکرسمس کے موقعے پرجنگ زدہ دمشق کا ایک منظر کل ٹی وی چینلوں پرپوری دنیا میں نشر کیا گیا۔ تاریکی میں ڈوبےہوئے اس حسین تاریخی شہر میں کچھ سہمے ہوئے بچے اور ان کے والدین اپنے روایتی لباسوں میں ملبوس کرسمس منا رہے تھے۔ جب سے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے شام میں خانہ جنگی کوفروغ دیا ہے تب سے وہاں مذہبی اقلیتوں کو انتہائی غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔
دولت اسلامیہ کی شکل میں شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر ایسے سنی مذہبی جنونیوں کا قبضہ ہے جنھوں نے اپنے مخالفین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف جبر، ظلم، تشدد اور غارت گری کی ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ جس کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ دولت اسلامیہ نے مذہبی منافرت اور تشدد کو ایک ایسی غیر انسانی سطح پر پہنچا دیا ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
دولت اسلامیہ کا مقصد سیاسی ہے لیکن اس کی بنیاد مذہبی جنون اور نفرت پر قائم ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کرسمس سے چند روز قبل برونائی کے مسلم حکمراں نے ایک نیا قانون نافذ کیا جس کےتحت ان کی سلطنت میں اگر کوئی بھی شخص کرسمس منائے گا یا کسی کے پاس ایسی کوئی شے پائی جاتی ہے جو کرسمس منانے میں استعمال ہوتی ہو تو اسے پانچ برس قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔کرسمس پر کسی کو مبارکباد کے پیغام پر بھی سزا کا اہتمام ہے۔
ایک وقت تھا جب سعودی عرب، شام، عراق، ایران، مصر، مراکش، اردن، یمن اور فلسطینی خطے میں مسلمانوں کےساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عیسائی، یہودی، پارسی، یزیدی، دروز اور کئی دوسرے مذاہب کےلوگ مل جل کر رہا کرتے تھے۔ لیکن مذہبی جبر، تفریق اور منافرت کے سبب رفتہ رفتہ مذہبی اقلیتیں ان ملکوں سے یا تو کہیں اور چلی گئیں یا پھر ختم ہو گئیں۔ مذہبی اقلتیں ہی نہیں مسلمانوں کے مختلف اقلیتی فرقے بھی اکثریتی فرقے کے ظلم اور جبر کا ہدف بنتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محض ایک دو ملکوں کو چھوڑکر دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت والے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ یہی نہیں بہت سے ملکوں نے اسلام کے بھی دروازے بند کر دیے ہیں۔ سعودی عرب نے تو مکہ اور مدینہ شہر میں ہی غیر مسلموں کے داخلے پر ہی پابندی لگا رکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مسلم اکثریت والے بیشتر ممالک سعودی عرب کویت، اردن اور متحدہ عرب امارات کی طرح کسی بادشاہ کی ذاتی ملکیت ہیں۔ ایران جیسےکئی ممالک سخت گیرملاؤں کی گرفت میں ہیں۔ مصر اور شام جیسےکچھ ممالک الگ الگ قسم کے آمروں کے تحت آتے ہیں۔ ترکی، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک جمہوریت آمریت اور مذہبیت کےدرمیان کنفیوژڈ رہے ہیں، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسی مذہبی جمہوریتیں سختگیریت سے لڑتے لڑتے اب لاغر ہوتی جا رہی ہیں۔
مشرق وسطی کی ہی طرح بھارت کا شمالی خطہ بھی دنیا کے کئی بڑے مذاہب کے ظہور کا مخزن تھا۔ یہیں پر ہندوازم، بودھ مت، جین اور سکھ مذاہب نے جنم لیا۔ ان میں سے بیشتر ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہوئے وجود میں آئے۔ لیکن ہندو اکثریت والی بھارتی جمہوریت میں یہ سبھی مذاہب پھل پھول رہے ہیں۔ یہاں ہر مذہب کو برابر کا درجہ ہی حاصل نہیں ہے بلکہ انھیں اپنے مذہب کی تبلیغ اور تبدیلی مذہب کا بنیادی حق بھی حاصل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مذہب ختم نہیں ہوا۔ یہی نہیں یہاں صدیوں سے ہر اس مذہب کے لوگ آباد ہیں جو اپنے ملکوں میں ستائے گئے۔
تو پھر کیا مسلم حکمراں آزادی، برابری اور آزادی اظہار کےجمہوری تصور سے خوفزدہ ہیں؟ کیا ان حکمرانوں نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفاد کےحصول کےلیے مذہب کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کا جواب اس حقیت میں پنہاں ہے کہ یہ حکمراں ہر طرح کی آزادی اور مذہبی مساوات کی مزاحمت کر رہے ہیں۔







