چینّئی کی مسجد غیرمسلموں کے لیے جائے پناہ

بھارت کے جنوبی شہر چینّئی کے علاقے پڈوپیٹ میں لوگ ایک مسجد اور اس کے امام کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے۔
ائیّا سوامي نامی سٹریٹ پر واقع مسجد سلام حالیہ بارش اور سیلاب کے دوران جن لوگوں کے لیے ’رحمت کا فرشتہ‘ ثابت ہوئی ان میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ زیادہ ہیں۔
ایک قدر تنگ سڑک کے ذریعے جب آپ مسجد پہنچتے ہیں تو وہاں صرف امدادی سامان بھرا ہوا ہے جسے علاقے میں صبح و شام تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ان دنوں مسجد میں نماز پہلی منزل پر پڑھی جا رہی ہے اور گراؤنڈ فلور پوری طرح سے امدادی سامان سے پر ہے جہاں امدادی اشیا جمع کی جا رہی ہیں۔
مسجد کے امام بہادر شاہ نے بتایا: ’ہمارا ارادہ مسلم اور غیر مسلم سب کی مدد کرنے کا تھا۔ گذشتہ منگل کی صبح جب ہم نماز پڑھ کر مسجد کے چاروں طرف والے علاقوں میں نکلے تو ہر طرف لوگ چیخ رہے تھے، مدد مانگ رہے تھے۔ علاقے میں پینے کا پانی بالکل نہیں تھا اور یہاں ہندو، مسلمان اور عیسائی سبھی لوگ ہیں۔‘

مسجد میں رہنے والے اور پڑوسی بتاتے ہیں کہ اس وقت مسجد سے لوگ باہر آئے اور متاثرہ لوگوں کو تین منزلہ اونچی مسجد کی عمارت میں لے جانے لگے۔
سیّد محمد آئی ٹی پروفیشنل ہیں۔ انھوں نے ہمیں لکڑی کے وہ پٹڑے دکھائے جن پر دو بڑی ٹیوبیں باندھی گئی تھیں۔ ان کی مدد سے پانی میں پھنسے لوگوں کو بچا کر مسجد تک پہنچایا گیا تھا۔
مسجد کے بغل میں رہنے والے عبدالشکور نے بتایا ’یہاں صرف دس فیصد ہی مسلمان ہیں اور ہمیں اس بات پر ناز ہے کہ ہم نے 90 فیصد ہندو اور عیسائی بھائیوں کی خدمت کی اور مشکل وقت میں ان کی مدد کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینّئی میں حالیہ بارش اور پھر سیلاب میں ڈھائی سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں لیکن یہاں ایک دوسرے کی مدد کی مثالیں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔

مسجد کے قریب ہی رہنے والے تھامس کہتے ہیں: ’یہ سچ ہے کہ مسجد کی وجہ سے بڑی مدد ملی۔ روز کھانے کے پیکٹ آ رہے ہیں، چٹائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں اور پینے کا صاف پانی بھی مل رہا ہے۔‘
اندازہ ہے کہ اس مسجد اور اس سے منسلک کارکنوں کے کی وجہ سے تقریباً 1،500 افراد تک امدادی رسد پہنچ رہی ہے اور ان میں سبھی مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔
مسجد کے ایک ملازم امداداللہ کہتے ہیں: ’مسجد میں بننے والا کھانا بھی سبزیوں پر مبنی ہے تاکہ ہندو اور عیسائی بھائیوں کو مشکل نہ ہو۔ ہمیں معلوم تھا کہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کو کھانا کھلانا ہے۔ ہم انھیں سانبر چاول، ڈبل روٹی، دودھ اور لیموں رائس جیسی چیزیں مہیا کر رہے ہیں۔‘







