چینئی کے بعض علاقوں میں بجلی کا نظام بحال

حکام نے اعلان کیا ہے کہ ہوائی اڈا اتوار تک بند رہے گا اور ٹرین سروس بھی معطل رہے گی
،تصویر کا کیپشنحکام نے اعلان کیا ہے کہ ہوائی اڈا اتوار تک بند رہے گا اور ٹرین سروس بھی معطل رہے گی

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی میں امدادی کام تیزی سے جاری ہے اور بعض علاقوں میں سیلابی صورت حال کے کئی دنوں بعد بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

بارش اور سیلاب سے متاثر ہزاروں لوگوں تک کھانا اور ادویات پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چینئی ریلوے سٹیشن اور ایئرپورٹ جہاں پانی بھر گئے تھے وہ سنیچر سے جزوی طور پر کام کرنا شروع کر دیں گے۔

100 سال میں ہونے والی اس شدید ترین بارش میں تقریبا 280 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بہت سے لوگ عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

بی بی سی کے سنجوئے مجمدار نے بتایا کہ چینئی کے کئی علاقوں میں بجلی کے نظام کودرست کر دیا گيا ہے جبکہ نواحی علاقے کے بہت سے مزدور اور نوکری پیشہ افراد کا کہنا ہے کہ انھیں شدید نقصانات ہوئے ہیں اور حکومت کو ان کی تلافی کے لیے مالی تعاون دینا چاہیے۔

تقریبا سات ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتقریبا سات ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گيا ہے

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ سو سال میں ہونے والی اس شدید ترین بارش کی وجہ ماحولیات کی تبدیلی بتائی جاتی ہے جبکہ چینئی میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس شہر کو اس قسم کے شدید موسم کے لیے بہتر طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

گذشتہ ہفتے جاری رہنے والی شدید بارش سے سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی تھی اور بعض علاقوں دس دس فیٹ سے بھی زیادہ پانی کھڑا تھا۔ جبکہ جمعے کو بارش رکنے کے بعد پانی میں کمی ہونے لگی۔ ابھی تک سات ہزار سے زیادہ افراد کو بچایا گیا ہے لیکن ابھی بھی بہت سے امداد کے منتظر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ابھی بھی ہزاروں گھر زیرآب ہیں اور بہت سے افراد ان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اشیا خوردنی اور ادویات پہنچانے کی کوشش پہلے کی جارہی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناشیا خوردنی اور ادویات پہنچانے کی کوشش پہلے کی جارہی ہے

سیلاب زدہ افراد کے لیے فوج نے 25 عارضی کمیپ اور اجتماعی مطبخ کا انتظام کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نے ریاست کے لیے 15 کروڑ امریکی ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

شہر میں سکول، کالج اور فیکٹریاں بند ہیں جبکہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ ادھر اشیائے خوردونوش کی قلت کے سبب شہر میں بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔