’افغان طالبان میں اتحاد کے لیے علما کی کوششیں ناکام‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغان طالبان کے مابین اختلاف ختم کرنے کے لیے قائم سرکردہ علما کی کمیٹی نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی کوششیں معطل کر دی ہیں۔
گذشتہ جولائی میں طالبان تحریک کے بانی امیر ملا محمد عمر کی موت کے اعلان کے بعد جب ملا اختر منصور کی بطور امیر تقرری کا اعلان کیا گیا تو بعض طالبان حلقوں کی جانب سے نئی قیادت کی مخالفت کی گئی۔
اختلافات کو ختم کرنے اور افغان طالبان کی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے بعض علما سرگرم ہوگئے تھے۔
بی بی سی اردو سے خصوصی بات کرتے ہوئے افغان علما پر مشتمل اس کمیٹی کے ترجمان عبداللہ منصور نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ جب تک فریقین میں سے کوئی دوبارہ رابطہ نہیں کرتا یا مدد نہیں مانگتا ہم اس وقت تک اپنی سرگرمیاں روک رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق امیر ملا محمد عمر کی موت کے بعد ان کے بیٹے ملا محمد یعقوب اور بھائی ملا عبدالمنان نے ابتدائی مخالفت کے بعد ملا منصور کی بیعت کر لی تھی۔
مگر طالبان کے اندر بعض حلقے اب بھی ان کے طریقۂ انتخاب سے مطمئن نہیں ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ ملا اختر منصور کے مخالفین مذاکرات کی ناکامی کے بعد جلد نئی تنظیم کا اعلان کریں گے۔
اس بارے میں عبدللہ منصور کا کہنا تھا کہ ’علما کا واحد ہدف اتفاق و اتحاد ہے لہٰذا وہ اس جیسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہوں گے۔‘
ملا حسن رحمانی، ملا عبدالقیوم ذاکر، ملا محمد رسول، ملا عبدالرزاق اور حمد اللہ کا شمار ملا منصور کے مخالفین میں کیا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ملا منصور کے کہنے پر مخالفین سے شرعی اختلافات یا مطالبات کی فہرست مانگی گئی تھی، مگر بعد میں ملا منصور نے مخالفین کے مطالبات مسترد کر دیے۔
’اس کے بعد علما نے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ انھیں جو ذمہ داری سوپنی گئی تھی وہ انھوں نے نبھا دی ہے۔‘







