افغان طالبان کی قیادت کے لیے جنگ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, داؤد قاری زادہ
- عہدہ, بی بی سی افغان سروس
افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔
یہ اعلان طالبان کے بانی رہنما ملا محمد عمر کے جانشین کی سربراہی میں تحریک کو متحد رکھنے کے لیے کی جانے والی کئی ہفتوں کی سرتوڑ کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ادھر طالبان اختلافات ختم کرنے کے لیے قائم سرکرہ علماء کی کمیٹی کے ترجمان عبداللہ منصور نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ جب تک فریقین میں سے کوئی دوبارہ رابطہ نہیں کرتا یا مدد نہیں مانگتا ہم اپنی سرگرمیاں اس وقت تک روک رہے ہیں۔‘
جولائی میں ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے فوراً بعد ملا منصور کو طالبان کے نئے امیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔
ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہepa

طالبان کے نئے امیر کے اصل حریف ملا عمر کے بھائی اور بڑے بیٹے تھے۔ انھوں نے ملا منصور کی تقرری کے طریقے پر سوالات اُٹھائے تھے۔
لیکن بالآخر دونوں نے ملا منصور کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب اور بھائی ملا منان نے ایک پروقار تقریب میں طالبان کے نئے رہنما سے اپنی وفاداری کا عہد کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اب تحریک منظم انداز میں جاری رہے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہnone
حالیہ دنوں میں طالبان کے درمیان موجود تنازعات پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں طالبان کمانڈر، جنگجو اور علما کی پاکستان آمد ورفت ہوتی رہی ہے۔
افغان سرحد کے قریب واقع پاکستانی شہر کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کو مشاورت کے لیے مقامی حامیوں کی ضرورت تھی تاکہ سینکڑوں طالبان کو مساجد، مدارس اور ذاتی گھروں میں ٹھہرایا جا سکے اور ان کی آمد و رفت اور دیگر ضروریات کا بندوبست کیا جا سکے۔
تحریک کو یکجا کرنے کے لیے جاری مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی کچھ اہم رہنماؤں کی جانب سے ملا منصور کی مخالفت کی جا رہی ہے اور انھوں نے اپنے ذاتی دھڑے بنا لیے ہیں جو طالبان قیادت کی منظوری کے بغیر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اتحاد کے لیے کوششیں

ملا منصور کی قیادت کو درپیش ابتدائی مسائل کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک کے لیے اتحاد قائم کرنا کس قدر اہم تھا۔
کابل میں تجزیہ نگار وحید مژدہ طالبان حکومت کے دور میں طالبان وزارتِ خارجہ کے لیے کام کرتے تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تنظیم کو اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ تحریک کی بقا کا اہم عنصر اتحاد ہی ہے۔
مژدہ کا کہنا ہے کہ ’اُن کا دشمن اُن سے زیادہ مضبوط ہے اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اُن میں اختلافات موجود رہے تو اُن کا صفایا ہو جائے گا۔‘
افغانستان سے متعلق ایک معروف امریکی ماہر بارنٹ رُوبن کہتے ہیں کہ طالبان ایک مربوط نظریے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں جس نے انھیں اب تک تقسیم ہونے سے روک رکھاہے۔
روبن کا کہنا ہے کہ ’طالبان کا قیام تعصب پسند دھڑہ بندی کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا اور اس کے خلاف اُن کا ایک مضبوط نظریہ ہے۔
’طالبان میں سب امیر کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ ان میں کچھ باغی بھی تھے جنھیں تنظیم سے نکال دیا گیا۔ تنظیم چھوڑنے یا تنظیم سے نکالے جانے کے فوراً بعد تنظیم میں اُن کا ہر طرح کا عمل دخل ختم ہو گیا۔‘
تنظیم اپنے نئے رہنما کی سربراہی میں کس طرح کام کر رہی ہے یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے طالبان امور کے کئی ماہرین سے گفتگو کی ہے۔
تنظیمی ساخت
ملا منصور اپنے دو نائبین کی مدد سے ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی کمان کرتے ہیں۔
ان میں سے ایک نائب سراج الدین حقانی ہیں جو حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔ انھیں افغانستان میں کیے جانے والے تباہ کن حملوں میں سےچند حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
سراج الدین حقانی امریکہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں جن کی گرفتاری کے لیےامریکہ نے 50 لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم مقرر کر رکھی ہے۔
ذیلی قیادت کونسل، جو رہبری شوریٰ کہلاتی ہے، 18 رکنی کونسل پر مشتمل ہے۔
پاکستانی صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق ملا منصور کی سربراہی میں یہ شوریٰ بڑھ کر21 رُکنی ہوگئی ہے۔ طالبان کی زیادہ تر قیادت افغانستان کے پشتونوں پر مشتمل ہے۔
رحیم اللہ کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے صرف دو ارکان غیرپشتون ہیں جن میں ایک تاجک اور اُزبک ہے جنکا تعلق افغانستان کے شمال سے ہے۔‘
ان کے علاوہ رہبری شوریٰ کے ممبران کی بھاری اکثریت کا تعلق جنوبی صوبوں قندہار، ارزگان اور ہلمند سے ہے جو طالبان تحریک کے مرکزی علاقے اور جائے پیدائش بھی کہلاتے ہیں۔
یہ کونسل بہت سے ذیلی شعبوں یا کمیشن کی نگرانی کرتی ہے، جو عملی طور پر طالبان کی وزارتوں کی طرح ہیں۔ افغانستان کے تجزیہ کاروں کے نیٹ ورک، اے این این، سے تعلق رکھنے والے برہان عثمان کہتے ہیں کہ مسلح کمیشن کا شورش پھیلانے میں سب سے اہم کردار ہے۔
’طالبان کے مسلح کمیشن کے سربراہ کی حثیت کسی بھی ملک کے وزیرِ دفاع کے برابر ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ شورش صوبائی کمانڈروں کے نیٹ ورک اور افغانستان کے مختلف صوبوں میں موجود طالبان گورنروں کے ذریعے برپا کی جاتی ہے۔
مزاحمت کے ساتھ قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر بھی قائم ہے، جسے مذاکرات کے لیے بین الاقوامی سطح پر رابطہ کاری کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔
خفیہ مواصلات
مرکزی قیادت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں موجود ہے، جب کہ اس کے کمانڈر اور جنگجو یونٹ افغانستان کے مختلف صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان تمام افراد کے درمیان مواصلاتی رابطے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
بی بی سی کے اسلام آباد بیورو کے مدیر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ اُن کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ حساس معلومات کو خفیہ رکھا جائے۔
ہارون رشید کے مطابق ’اُن کے لیے سب سے اچھا اور محفوظ راستہ زبانی بات چیت ہوتا ہے لیکن وہ خطوط کے ذریعے بھی بات چیت کرتے ہیں۔ میں نے شمالی وزیرستان کے مرکزی علاقے میران شاہ میں اُن کے چند خطوط دیکھے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبان کے درمیان بات چیت کا سب سے موثر طریقہ تحریری خطوط تھے۔‘
اے این این کے برہان عثمان کہتے ہیں کہ فیلڈ کمانڈروں اور طالبان گورنروں کے درمیان رابطے کے لیے برقیاتی طریقے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
صوبائی گورنر بذاتِ خود اپنے کمانڈروں سے بات نہیں کرتا بلکہ اُس کی جگہ اس کا کوئی نائب یہ کام انجام دیتا ہے۔ فون پر بات چیت کے دوران مخصوص اشاروں پر مبنی زبان (کوڈ لینگویج) میں بات چیت کی جاتی ہے یا پھر ایک ہی علاقے میں قریبی جگہ پر موجودگی کی صورت میں اب واکی ٹاکی کے ذریعے بھی زیادہ رابطہ کیا جاتا ہے۔
طالبان قیادت کونسل کے لیے استعمال کیے جانے والے چند ناموں میں سے ایک’کوئٹہ شوریٰ‘ ہے جو مخصوص علاقے میں استعمال ہوتا ہے لیکن برہان عثمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اصطلاحات گمراہی پھیلا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہیڈ کوارٹرز کے بجائے ایک طریقہ کار کا نام ہے۔ وہ اپنے ممبران یا حامیوں میں سے کسی ایک کے گھر پر ملاقات کرتے ہیں اور اگلے دن وہ کسی اور جگہ ملاقات کرتے ہیں۔‘
ہارون رشید اس بات سے متفق ہیں کہ یہ غلط ہوگا کہ طالبان کو مستحکم بنیادی ڈھانچہ رکھنے والی ایک تنظیم سمجھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ کم سے کم ضروریات پر انحصار کرتے ہوئے ہروقت ادھر سے اُدھر نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ پاکستانی مدارس اور مساجد اپنے کام کو چلانے کے لیے اُن کے پسندیدہ مقامات رہے ہیں۔‘
عسکریت پسندی کے لیے مالی امداد

،تصویر کا ذریعہGetty
روایتی طور پر طالبان خلیجی ممالک میں اپنے ہمدردوں کے عطیات پر ہی انحصار کرتے ہیں۔
لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ’غیر ملکی امداد‘ میں کمی آگئی ہے۔
بارنیٹ روبن کا کہنا ہے کہ ’میرا یہ خیال ہے کہ یہ ذرائع اب محدود ہو چکے ہیں کیوں کہ عرب دنیا اب خود عالمی جہاد کا مرکز بن چکی ہے۔ افغانستان میں ان کی آمدنی کا انحصار خرد برد اور بددیانتی، رشوت یا تجارتی لین دین سے حاصل ہونے والے ٹیکس یا دیگر ذرائع سے چھینی گئی رقوم پر ہوتا ہے۔‘
روبن کہتے ہیں کہ کچھ طالبان کے متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں اپنے ذاتی کاروبار بھی ہیں۔
’حقانیوں کا پاکستان، افغانستان اور خلیج فارس میں شہد کی فروخت سمیت بہت بڑا کاروباری نیٹ ورک موجود ہے۔ اور یقیناً افغانستان میں زمینی ملکیت رکھنے والے افیون کے ذریعے یا سڑکوں کے ذریعے پوست کی تجارت کر کے، منشیات کی صنعت کے تحفظ اور بھتہ خوری کے ذریعے پیسہ کماتے ہیں۔‘
افغانستان کے قومی ذخائر پر بھی طالبان کا قبضہ تاحال ختم نہیں ہو سکا ہے۔ طالبان حکومت کے سابق اہلکار وحید موژدہ کا کہنا ہے کہ تنظیم نے کان کُنی کے لیے گذشتہ سال ہی ایک مالیاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
انھوں نے بتایاکہ ’کمیٹی طالبان کے کنٹرول میں موجود کانیں افراد اور کمپنیوں کو پٹے پر دے گی۔‘
پاکستان سے تعلق
افغان حکومت مستقل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ اُس کا ہمسایہ پاکستان افغان طالبان کی حمایت کرتا ہے لیکن اسلام آباد نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی ہے۔
ہارون رشید کے مطابق ’پاکستانی حکام نے ہمیشہ افغان طالبان سے کسی بھی طرح کے رابطوں یا امداد کی تردید کی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اُن پر اپنا اثر و رسوخ اور رابطے رکھتا ہے۔‘
بارنیٹ روبن کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز دعویٰ کرتی ہیں کہ دولت اسلامیہ اور افغان طالبان کے مابین قریبی روابط ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسا ممکن ہے کہ طالبان کی متعدد کارروائیاں براہِ راست آئی ایس آئی یا پھر آئی ایس آئی سے منسلک وہ گروہ جو طالبان کے ساتھ ہوں اُن کی جانب سے کی جاتی ہوں۔ یہ صورتحال 1994 سے 2001 تک کے عرصے کے دوران تھی۔‘
روبن کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان کو افغانستان میں اپنے سٹریٹیجک مفادات کی حصولی تک مزید استعمال کر سکتا ہے۔
’پاکستان افغانستان میں بھارت یا پختون نواز حکومت روکنے کے لیے طالبان کی کارروائیوں کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور اگر اس کے مقاصد حاصل ہوجاتے ہیں تو وہ طالبان شورش کو ختم کرنے کا خواہاں ہے۔‘
حلیف اور حریف

پاکستان کو خود اپنے ملک میں بھی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کی وجہ سے اندرونی شورش کا سامنا ہے جس سے اُسے نمٹنا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے افغان طالبان سے روابط موجود ہیں۔
اے این این کے برہان عثمان کہتے ہیں کہ ’تحریکِ طالبان پاکستان نے ملا عمر سے وفاداری کا عہد کیا تھا اور ملا اختر منصور کے امیر بننے کے بعد خود بخود اُن کی وفاداریاں اُن کو بھی منتقل ہوگئی ہیں۔ لیکن آغاز سے ہی یہ ایک علامتی یک جہتی تھی۔ ٹی ٹی پی مختلف نظریے، مختلف مقاصد اور مختلف طریقۂ کار کے ساتھ ایک بالکل مختلف تنظیم ہے۔ اُس نے طالبان کے ساتھ وفاداری ضرور ظاہر کی ہے لیکن وہ صرف علامتی وفاداری ہے۔‘
افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے وفادار افغان طالبان کے ممکنہ حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ناراض طالبان ہیں۔
بارنیٹ روبن کا کہنا ہے کہ ’قیادت سے ناراض چند طالبان جن کا خیال تھا کہ دھڑوں کو دوبارہ منظم کرنا ناممکن ہے انھوں نے تنظیم کو چھوڑ کر دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔‘
نئے امیر کی بالا دستی کو اب بھی بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
شمالی افغانستان میں ایک سرکردہ فیلڈ کمانڈر ملا منصور داداللہ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کے نئے سربراہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کٹھ پتلی کا کام سرانجام دے رہے ہیں اور اُن کے حامیوں اور مرکزی طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اے این این کے برہان عثمان کا خیال ہے کہ ان تمام دشواریوں کے باوجود اس بات کے امکانات نظر نہیں آتے کے طالبان کمزور پڑرہے ہیں۔
’ہمیشہ کی طرح اب بھی لڑائی اُسی شدت سے جاری ہے۔ لہذٰا کم سے کم اب تک ہم کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں دیکھ رہے۔







