جارحیت پسندوں سے کیے گئے معاہدے ختم کیے جائیں: ملا منصور

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغان طالبان کے نئے سربراہ ملا محمد اختر منصور نے واضح کیا ہے کہ آگے چل کر کابل حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے وقت کے تقاضوں کے مطابق پالیسی بنائی جائے گی۔
اس سال جولائی میں ملا محمد عمر کے انتقال کے بعد طالبان تحریک کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد عید الضحٰی کے پہلے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ’کابل انتظامیہ اگر چاہتی ہے کہ ملک میں جنگ کا خاتمہ ہو اور امن قائم ہو جائے تو ایسا جارحیت کے مکمل خاتمے اور جارحیت پسندوں سے ہونے والے تمام معاہدے منسوخ کر کے ہی ممکن ہو گا۔‘
ان کا اشارہ باقی ماندہ غیرملکی افواج کے انخلا اور افغانستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی کے مشترکہ معاہدے یعنی بی ایس اے سے تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانوں کے اختلافات آپس کی افہام تفہیم کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں اور اس کے لیے بیرونی دباؤ کا اثر منفی ہو سکتا ہے۔
’مسئلہ افغانستان کے حل کے بہانے ہر طرح کا بیرونی دباؤ، نہ صرف یہ کہ مسئلہ حل نہیں کر سکتا بلکہ مزید مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔‘
یہ واضح نہیں کہ اس بیان سے ان کا اشارہ پاکستان کی جانب ہے یا کسی اور ملک کی جانب۔
تنظیم کے اندر اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے نئے امیر کا کہنا تھا کہ ’ان مشکل حالات اور حساس وقت میں اللہ تعالی کی نصرت اور ساتھیوں کے تعاون کے بغیر اس ذمہ داری کی انجام دہی اکیلے طور پر ممکن نہیں ہے۔‘
انھوں نے ایک مرتبہ پھر تنظیم سے منسوب اہلکاروں، ذمہ داروں اور جنگجوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی سمت کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اطمینان دلاتے ہیں کہ ملا محمد عمر کی راہ پر چلیں گے اور تنظیم کو ماضی کی طرح متحد رکھیں گے۔
’متحد صف میں تقسیم کی بے بنیاد افواہیں باقاعدہ یا بے قاعدہ طور پر پھیلائی جارہی ہیں۔ عوام اور مجاہدین دشمن کے اس طرح کے پروپیگنڈوں کی طرف متوجہ رہیں۔ خصوصاً وہ ساتھی جنھیں شکوے ہیں، میں انھیں دعوت دیتا ہوں کہ دشمن کے اس طرح کے پروپیگنڈوں اور دیگر شیطانی چالوں کا راستہ روکیں۔‘
افغانستان کے شمال میں جنگی میدان میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کامیابیوں کو شمالی پڑوسی ممالک کے سامنے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ انھیں اپنا ساتھی بننے پر مجبور کریں۔ ’مگر پڑوسیوں کے لیے ہماری پالیسی واضح ہے۔ ہمیں ہمارے دشمنوں کے کرائے ہوئے تعارف سے نہ پہچانا جائے۔‘







