انڈیا: ایک ہی سرنج سے 30 بچوں کو کووڈ ویکسین لگا دی گئی

کووڈ ویکسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں محکمۂ صحت کے ایک اہلکار کے خلاف تفتیش کی جا رہی ہے جس نے ایک ہی سرنج سے سکول کے 30 طلبا کو ویکسین لگا دی۔

یہ واقعہ ساگر ڈسٹرکٹ کے ایک سکول میں پیش آیا جہاں بچوں کو کووڈ 19 کی ویکسین لگائی جا رہی تھی۔

انڈیا کی وزارتِ صحت نے کووڈ 19 کے لیے ایک وقت میں ایک سوئی اور ایک سرنج کا پروٹوکول اپنایا ہوا ہے۔ ملک میں اب تک 2 ارب سے زیادہ کووڈ ویکسین لگائی جا چکی ہیں۔

انڈیا میں ڈسپوزیبل سرنج بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتیں ہیں تاکہ ایج آئی وی جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

تاہم سرنجوں کی کمی کی وجہ سے ہسپتالوں میں ان کے دوبارہ استعمال کے واقعات ماضی میں سامنے آ چکے ہیں۔

محکمۂ صحت کے اہلکار جتندر رائے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں محکمے کی جانب سے صرف ایک سرنج ہی دی گئی تھی اور وہ صرف احکامات پر عمل کر رہے تھے۔

بچوں کے والدین نے جب دیکھا کہ ایک ہی سرنج کے ذریعے ویکسین لگائی جا رہی ہے تو انھوں نے سکول کی انتظامیہ کو اس بارے میں بتایا۔

جب حکام سکول پہنچے تو جتندر رائے وہاں موجود نہیں تھے اور ان کا موبائل فون بھی بند تھا۔

ریاست کے محکمۂ صحت نے جتندر کے خلاف غفلت برتنے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس دوران اس اہلکار کے خلاف بھی تفتیش شروع کر دی گئی ہے جو ویکسینیشن مہم کے لیے سرنج مہیا کرنے کا ذمہ دار تھا۔

حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے ایک ترجمان نے اس واقعے کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کے وزیرِ صحت اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔

چین کے بعد انڈیا وہ دوسرا ملک ہے جس نے دو ارب سے زیادہ کووڈ ویکسین لگائی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ملک کے 75ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے انڈین حکومت نے جولائی میں کووڈ کی بوسٹر ویکسین کے 75 روزہ پروگرام کا اعلان کیا تھا۔

انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں 98 فیصد افراد کو کووڈ ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگ چکی ہے جبکہ 90 فیصد افراد کو ویکسین کی دونوں ڈوز لگائی جا چکی ہیں۔

بدھ کو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ سے متاثرہ افراد کی تعداد اٹھارہ ہزار تین سو تیرہ بتائی گئی اور اس دوران کووڈ سے 57 افراد ہلاک ہوئے۔