انڈیا: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے برخلاف ایک غیر شادی شدہ خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں ایک 24 ہفتوں کی حاملہ غیر شادی شدہ خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ نے دہلی کے ایمس (آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس) ہسپتال کو اس معاملے میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو یہ دیکھے گا کہ اسقاط حمل کی وجہ سے خاتون کی جان کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت کو میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (ایم ٹی پی) ترمیمی ایکٹ 2021 کی دفعات کو واضح کرنے کے لیے بھی نوٹس جاری کیا ہے، جس پر اگلی سماعت دو اگست کو ہونی ہے۔
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو یہ کہتے ہوئے اسقاط حمل کی اجازت نہیں دی تھی کہ اسقاط حمل کے قانون میں غیر شادی شدہ کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹاتے ہوئے سپریم کورٹ نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (ایم ٹی پی) ترمیمی ایکٹ 2021 کی دفعات کا دائرہ غیر شادی شدہ خواتین تک بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی تشریح صرف شادی شدہ خواتین تک محدود نہیں رہ سکتی۔
اطلاعات کے مطابق اس کیس کی درخواست گزار لیو ان ریلیشن شپ میں تھی اور رضامندی سے حاملہ ہوئی تھی۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں اس طرح کے دیگر معاملات میں خواتین کے لیے راحت کا باعث بن سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
جسٹس ڈی وائی چندرچور، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اے ایس بوپنا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ غیر شادی شدہ خاتون کو محفوظ اسقاط حمل کی اجازت نہ دینا ان کی ذاتی خود مختاری اور آزادی کی خلاف ورزی ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ نے کہا کہ ایم ٹی پی ایکٹ میں ترمیم کر کے غیر شادی شدہ خواتین کو اس کے دائرے میں لانے کا ارادہ ہونا چاہیے۔ اس لیے ترمیم شدہ قانون میں ’شوہر‘ کی جگہ ’پارٹنر‘ کا لفظ شامل کیا گیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی خاتون کو اس قانون کے تحت صرف اس وجہ سے مراعات سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شادی شدہ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ بچے کو جنم دینے یا نہ دینے کا انتخاب بھی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت عورت کے ذاتی آزادی کے حقوق کا لازمی حصہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت نہیں ہے تو یہ قانون کے مقصد اور روح کے منافی ہو گا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو غیر ضروری پابندی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ قانون کے تحت 20 ہفتوں تک کے حمل کو ختم کرنے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ ایسا کرنے سے غیر شادی شدہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہو گا۔
اسقاط حمل کا قانون کیا ہے؟
درحقیقت میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ سنہ 1971 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون میں سنہ 2021 میں ترمیم کی گئی اور کچھ خاص حالات کے تحت اسقاط حمل کی درست مدت 20 ہفتوں سے بڑھا کر 24 ہفتے کر دی گئی تھی۔
پرانے قانون میں یہ شرط تھی کہ اگر کوئی خاتون 12 ہفتوں تک کی حاملہ ہے تو وہ ڈاکٹر کے مشورے پر اسقاط حمل کروا سکتی ہے۔ ساتھ ہی 12-20 ہفتوں میں اسقاط حمل کروانے کے لیے دو ڈاکٹروں کا مشورہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔
لیکن ترمیم شدہ قانون میں 12 سے 20 ہفتوں میں اسقاط حمل کے لیے ڈاکٹر سے مشورے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اگر حمل 20-24 ہفتوں کا ہے تو دو ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے کے بعد ہی اس کے متعلق خواتین کو اجازت دی جائے گی۔
دہلی ہائی کورٹ نے کیا کہا؟
ایم ٹی پی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے رواں سال 16 جولائی کو درخواست گزار کو یہ کہتے ہوئے اسقاط حمل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ درخواست گزار غیر شادی شدہ ہے اور وہ رضامندی سے حاملہ ہوئی ہے۔ اور یہ حمل 23 ہفتوں کا ہے اور یہ حمل کے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز -2003 کی کسی بھی شق کے تحت نہیں آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد درخواست گزار کے وکیل امِت مشرا نے بی بی سی ہندی کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ’حاملہ خاتون سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ وہ 23ویں ہفتے میں عدالت کیوں پہنچی۔ میری مؤکلہ کو آخری وقت میں دھوکہ دیا گیا۔ اگر ایسے میں اس نے بچے کو جنم دیا ہوتا تو پہلے سے ہی اس پریشان عورت کی ذہنی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا۔
سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ راہل شرما نے درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ ’قانون میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کے حمل ٹھہرنے کے بعد رشتے میں تبدیلی آئی ہو، جیسے طلاق ہو گئی ہو یا شوہر کا انتقال ہو گیا ہو۔ انھیں 24 ہفتوں تک حمل ختم کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ایک غیر شادی شدہ خاتون کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔‘
قانون میں ایک سقم کی نشاندہی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ امِت مشرا نے کہا: ’سپریم کورٹ نے تبدیلیاں کی ہیں، لیکن پھر بھی اگر کسی خاتون کا خاندان مکمل ہو چکا ہو اور اس کے بعد بھی وہ حاملہ ہو جائے، تو اسے 20 ہفتے کے اندر اسقاط حمل کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ امتیازی سلوک ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
غیر شادی شدہ خواتین کے پاس اسقاط حمل کے کیا حقوق ہیں؟
اس پورے معاملے میں عورت کا ’غیر شادی شدہ‘ ہونا سب سے اہم مسئلہ تھا۔
اسقاط حمل کے حوالے سے غیر شادی شدہ خواتین کے کیا حقوق ہیں، اس معاملے پر پیشے سے وکیل سونالی کڑواسرا نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2021 میں ترمیم شدہ ایم ٹی پی ایکٹ کہیں بھی اسقاط حمل کا حق صرف ’بیوی‘ کو نہیں دیتا۔ اس ایکٹ میں لفظ ’حاملہ عورت‘ استعمال کیا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت کی سماجی حیثیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
قانون کی باریکیاں بتاتے ہوئے سونالی نے کہا کہ 'ترمیم شدہ ایکٹ کے سیکشن 3 کی وضاحت اول میں 'پارٹنر' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ساتھی میں لیو ان ریلیشن شپ بھی شامل ہیں۔‘
سپریم کورٹ نے بھی اسی نکتے کا حوالہ دیتے ہوئے خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت دی ہے۔
سونالی کڑواسرا نے بتایا کہ پچھلے کچھ سالوں میں عدالت نے گھریلو تشدد کے معاملات میں لیو ان ریلیشن شپ کو بھی شامل کیا ہے۔ یہ مساوات لانے، قانون کو معاشرے کے نئے رجحان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ہے۔
رواں سال اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ انڈیا میں ہر روز اوسطاً آٹھ خواتین غیر محفوظ اسقاط حمل کی وجہ سے مر جاتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا میں 2007 سے 2011 کے درمیان 67 فیصد اسقاط حمل غیر محفوظ تھے۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بارے میں وکیل امِت مشرا نے کہا کہ اب آنے والے وقت میں اگر کوئی خاتون 24 ہفتوں تک کا حمل ختم کروانا چاہتی ہے تو اسے راحت ملے گی۔ انھوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے وقت میں غیر شادی شدہ افراد کے لیے بھی اس قانون میں واضح دفعات ہوں گی۔











