مس کیرج یا حمل ضائع ہونا: ’مجھے لگا شاید مجھ میں ہی کوئی خرابی ہے‘

روزینا ڈیوڈسن اور ویزلی کوئرک

،تصویر کا ذریعہPhillip Massey/ Getty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 سے 2016 کے درمیان روزینا ڈیوڈسن اور ان کے خاوند ویزلی کوئرک حمل ضائع ہونے کے 14 واقعات سے گزرے

سابقہ مس ورلڈ روزینا ڈیوڈسن اور ان کے شوہر ویزلی کوئرک دونوں کا ہمیشہ سے خواب تھا کہ ان کے بچے ہوں۔

وہ دیکھتے تھے کہ ان کے دوستوں کے ہاں حمل کے بعد بچے پیدا ہو رہے تھے لیکن محض دو برسوں کے دوران وہ حمل ضائع ہونے کے مسلسل 14 واقعات سے گزرے۔

روزینا یاد کرتی ہیں کہ یہ ’ہمارے لیے انتہائی پریشان کن تھا۔‘

’ایک لمحے کے لیے ہم سوچتے تھے کہ ہم ایک نئی زندگی کو جنم دے رہے ہیں اور اچانک یہ احساس غائب ہو جاتا تھا۔ یہ دل ٹوٹنے کے مترادف تھا۔‘

تنبیہ: بعض قارئین کے لیے تحریر کے کچھ حصے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

روزینا سنہ 2003 میں مس ورلڈ مقابلے کی فاتح تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مس کیرج یا حمل ضائع ہونے سے انھیں لگا کہ شاید ان کے جسم میں ہی کوئی خرابی ہے۔

’میں نے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ جنم لیا تھا لیکن یہ نظام اس طرح کام نہیں کر رہا تھا جیسے اسے کرنا چاہیے تھا۔‘

لیڈی ان ریڈ کے گلوکار کریس ڈی برگ کی بیٹی روزینا کا کہنا تھا کہ دوستوں اور خاندان سے بات کرنے سے انھیں کچھ حد تک حوصلہ ملا۔ مگر وہ کہتی ہیں کہ ’ایک جوڑا ہونے کے ناطے آپ کو مل کر اس کا مقابلہ کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔‘

روزینا نے بی بی سی کے ایک ریڈیو پروگرام ’گڈ مارننگ السٹر‘ میں اس بات کی مزید وضاحت کی کہ ’سنہ 2017 کے وسط میں ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔‘

’میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے لگتا ہے میں وہ خاتون نہیں بن سکوں گی جو آپ کو ایک خاندان دے سکے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ والد بننے کے لیے بےقرار تھے۔ یہ ان کا بھی خواب تھا۔‘

مگر جواب میں ان کے شوہر نے ان سے کہا کہ ’روزی، ہم ایک اچھی زندگی گزاریں گے، بے شک اگر ہم ایک خاندان نہ بنا سکیں۔ ہم سوچ سمجھ کر کوئی طریقہ نکال لیں گے۔‘

روزینا بتاتی ہیں کہ ’وہ میرے ساتھ رہے لیکن یہ بات آسانی سے لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرسکتی ہے۔‘

تصویر میں روزیرنا ڈیوڈسن اپنے والد اور گلوکار کریس ڈی برگ کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAndreas Rentz/ Getty Images

،تصویر کا کیپشنتصویر میں روزیرنا ڈیوڈسن اپنے والد اور گلوکار کریس ڈی برگ کے ساتھ

حمل ضائع ہونے کے بعد روزینا کے مختلف طبی ٹیسٹ ہوئے اور انھوں نے ماہرین کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست سے رجوع کیا تا کہ ’یہ پتا لگایا جاسکے کہ آخر ممکنہ طور پر غلطی کہاں ہوئی۔‘

پھر اس جوڑے نے ایسے دوستوں سے رجوع کیا جنھوں نے سروگیسی (کسی دوسرے کی کوکھ سے بچے کی پیدائش) کا راستہ اپنایا تھا اور ان کا تجربہ اچھا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

روزینا کے مطابق اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنے لیے اس بارے میں تحقیقات شروع کردی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس بارے میں تمام طبی اور قانونی مشورے حاصل کر لیے تھے۔‘

وہ یاد کرتی ہیں کہ ایک سال کی تگ و دو کے بعد انھوں نے خون کے ٹیسٹ اور معاہدوں پر دستخط کیے جس سے سنہ 2019 کے آغاز میں ایگز جمع کرنے کا عمل شروع ہوا۔ (آئی وی ایف ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے دوران عورت کے ایگز (انڈوں) کو مرد کے سپرم سے لیبارٹری میں فرٹیلائز کیا جاتا ہے اور اس کے بعد جنین کو عورت کے رحم (بچہ دانی) میں ڈالا جاتا ہے۔)

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے سروگیسی کا فیصلہ مشکل تھا۔ مجھے اس دوران اپنے احساسات سے مقابلہ کرنا پڑا کہ ’کوئی دوسری ماں کیسے میرا حمل، میرا بچہ اپنے پیٹ میں پال سکتی ہے؟‘

’پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمارے پاس یہ واحد راستہ ہے۔‘

اس جوڑے نے کمرشل سروگیسی کا طریقہ اختیار کیا کیونکہ ’ہم چاہتے تھے کہ کسی کا استحصال نہ ہو‘ حالانکہ انھیں لگا کہ یہ بہتر ہوگا اگر انھیں سروگیٹ ماں کے ساتھ تعلق نہ بنانا پڑے۔ آخری سکین پر انھوں نے سروگیٹ ماں سے رابطہ کیا اور اس کے بعد ہی ان کی بیٹی سوفیا کی پیدائش ہوگئی۔

’یہ ایک غیر معمولی تجربہ تھا‘

سنہ 2019 میں اس طریقے کی کامیابی کے بعد روزینا نے فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ 2020 میں سروگیسی کی مدد لیں گے۔ تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا جب انھیں پتا چلا کہ وہ جڑواں بچوں کے ساتھ حاملہ تھیں۔

اپریل 2020 میں جب ریپبلک آف آئر لینڈ میں کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث لاک ڈاؤن لگا تو انھیں ’تھکاوٹ، سر چکرانا اور کچھ جذباتی‘ محسوس ہوا تو انھوں نے حمل کا ٹیسٹ کرایا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فوراً اس کے نتائج دو گہری گلابی لائنز آئیں‘ جو ان کے لیے ’ایک غیر معمولی بات تھی‘ اور وہ آج بھی ’اس بارے میں بہت سوچتی ہیں۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

اپنی اور اپنے شوہر کی کہانی بتا کر روزیرنا یہ امید کرتی ہیں کہ وہ حمل کی صلاحیت اور مس کیرج (اسقاط حمل) کے بارے میں سماجی رویوں کو بدل سکیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم ان تمام برسوں کے دوران اس کا مقابلہ کر رہے تھے۔ یہ مشکل میں امید کی ایک کہانی تھی۔‘

’میں اس سب سے متاثر ہونے کے بعد اب بھی اس کا ذہنی دباؤ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے یقین نہیں ہوتا کہ ہم اس سے نکل گئے اور ایک خاندان بن کر ابھرے۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’میں ایسی خواتین اور جوڑوں سے تعلق محسوس کرتی ہوں کہ ہماری طرح اتنے خوش قسمت نہیں رہے۔‘