آئی وی ایف مکس اپ پر مقدمہ: ’ہمارا حیاتیاتی بچہ کسی اور کو دے دیا گیا تھا‘

کارڈینلز
،تصویر کا کیپشن'ہماری بچے کی پیدائش کی یادیں ہمیشہ اس بھیانک حقیقت سے داغدار رہیں گی کہ ہمارا حیاتیاتی بچہ کسی اور کو دے دیا گیا تھا‘

کیلیفورنیا میں ایک جوڑے نے اس فرٹیلیٹی کلینک پر مقدمہ دائر کر دیا ہے جس نے ’ان وٹرو فرٹیلائزیشن‘ یعنی آئی وی ایف کے دوران انھیں کسی اور کا ایمبریو دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے ہاں ایک اجنبی کے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔

فرٹیلیٹی کلینک ایسے کلینک ہوتے ہیں جو ایسے جوڑوں یا افراد کی مدد کرتے ہیں جو والدین بننا چاہتے ہیں لیکن طبی وجوہات کی بنا پر قدرتی طریقے کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور انھیں اس کام کے لیے ڈاکٹرز کی مدد کی ضرورت ہوتی۔

ڈیفنا اور الیگزینڈر کارڈینیل کا کہنا ہے کہ ستمبر 2019 میں ان کے ہاں ایک لڑکی کی پیدائش ہوئی تھی جس کی شکل اُن (والدین) سے بالکل نہیں ملتی تھی۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد انھیں پتہ چلا کہ وہ کسی اور کی بچی ہے اور یہ کہ اسی کلینک پر آنے والے کسی دوسرے جوڑے کے پاس اُن کی حقیقی بچی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ آئی وی ایف کے طریقہ علاج کے دوران ایسا مبینہ ’مکس اپ‘ یا ادل بدل ہوا ہو۔

آئی وی ایف ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے دوران عورت کے ایگز (انڈوں) کو مرد کے سپرم سے لیبارٹری میں فرٹیلائز کیا جاتا ہے اور اس کے بعد جنین کو عورت کے رحم (بچہ دانی) میں ڈالا جاتا ہے۔

کارڈینیل خاندان لاس اینجلس میں قائم ’فرٹیلیٹی سینٹر کیلیفورنیا سینٹر فار ریپروڈکٹیو ہیلتھ‘ (سی سی آر ایچ) اور اس کے ساتھ ایک ایمبرولوجی لیبارٹری ’ان وٹروٹیک لیبز‘ پر مقدمہ کر رہا ہے۔

مقدمہ میں طبی بدعنوانی، لاپرواہی اور دھوکہ دہی سے حقیقت چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ کسی بھی کمپنی نے اپنے موقف کے لیے بی بی سی نیوز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

پیر کو ایک جذباتی نیوز کانفرنس میں مسز کارڈینیل نے کہا کہ ان کے خاندان کے ’دل ٹوٹنے اور الجھن کو کسی بھی آسان طریقے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

Stock image of a baby's foot

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتقریباً دو ماہ بعد خاندان نے گھر پر ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا، جس سے بالآخر یہ پتہ چلا کہ وہ بچے کے حیاتیاتی والدین نہیں

’ہماری بچے کی پیدائش کی یادیں ہمیشہ اس بھیانک حقیقت سے داغدار رہیں گی کہ ہمارا حیاتیاتی بچہ کسی اور کو دے دیا گیا تھا، اور جس بچے کو دنیا میں لانے کے لیے میں نے جستجو کی تھی وہ میرا نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ مجھ سے ’میرے اپنے بچے کو کھوکھ میں رکھنے کی صلاحیت چھین لی گئی۔‘

مقدمے کے مطابق جوڑے نے 2018 کے موسم گرما میں فرٹیلٹی کلینک سے مدد طلب کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مسز کارڈینیل نے اس بچی کی پیدائش کے اگلے سال ہی ایک بچے کو جنم دیا تھا جو ان کے خیال میں ان کا تھا۔

مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ڈیلیوری روم میں مسٹر کارڈینیل نے اپنے پہلے بچے کی طرح ’ایک گوری رنگت والے بچے‘ کی توقع کی تھی، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بچی کی رنگت کافی گندمی تھی۔

قانونی کارروائی کے مطابق ’یہ اتنا پریشان کن تھا کہ الیگزینڈر حقیقت میں پیدائش کی میز سے کئی قدم دور دیوار سے لگ کے کھڑے ہو گئے۔‘

تقریباً دو ماہ بعد خاندان نے گھر پر ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا، جس سے بالآخر یہ پتہ چلا کہ وہ بچے کے حیاتیاتی والدین نہیں۔

بچہ

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

مسٹر کارڈینیل نے ڈی این اے کے نتائج واپس آنے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’کمرہ سکڑ گیا اور واقعی سر گھومنے لگا اور سب کچھ سُن ہو گیا۔‘

اس کے بعد سی سی آر ایچ نے کیلیفورنیا کے اس جوڑے کو تلاش کرنے میں ان کی مدد کی جن کے پاس ان کی بیٹی تھی۔ جب وہ پہلی مرتبہ ملے تو کارڈینیلز کی بیٹی کی عمر تقریباً چار ماہ ہو چکی تھی۔ کئی ملاقاتوں کے بعد دونوں جوڑوں نے بچوں کے باضابطہ تبادلے کے قانونی عمل سے گزرنے پر اتفاق کیا، جو جنوری 2020 میں مکمل ہوا۔

مسز کارڈینیل نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’اپنے بچے کو دودھ پلانے کے بجائے میں نے ایک ایسے بچے کو دودھ پلایا اور تعلق قائم کیا جسے بعد میں مجھے مجبوراً دینا پڑا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ان کی سات سالہ بیٹی کے لیے سب سے زیادہ مشکل رہا جس کو اس تبادلے کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’اس صورتحال کی ہولناکی کو آسان طریقے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

قانونی کارروائی میں کہا گیا ہے کہ مسز کارڈینیل، جو ایک لائسنس یافتہ تھراپسٹ ہیں، اور اُن کے شوہر جو کہ ایک گلوکار اور نغمہ نگار ہیں، دونوں کو ہی ’اضطراب، ڈپریشن، اور پی ٹی ایس ڈی کی علامات‘ کے لیے ذہنی صحت کا علاج کرانا پڑا ہے۔

کارڈینیلز کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل ایڈم بی وولف کہتے ہیں کہ مکس اپ سے متاثر ہونے والا دوسرا خاندان بھی مقدمہ کرنے کا سوچ رہا ہے، لیکن وہ اپنا نام بتانا نہیں چاہتے۔

سنہ 2019 میں، کیلیفورنیا کے ایک اور خاندان کو پتہ چلا تھا کہ ان کا بچہ نیویارک میں پیدا ہوا تھا۔

انھوں نے بچے کی پیدائشی ماں پر مقدمہ کیا، جو اطلاعات کے مطابق بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی۔ جج نے بعد میں جینیاتی والدین کے حق میں فیصلہ سنایا۔