تین بچے مر گئے، خدا پر بھروسہ رکھوں یا آئی وی ایف کراؤں

Alishbah
    • مصنف, سو مشیل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، بریڈ فورڈ

روبہ اور ثاقب ایک ایسی جنیاتی بیماری میں مبتلا ہیں جو ناقابل علاج ہے یعنی ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے چار میں سے ایک کا بچپن میں ہی مرنے کا امکان ہوتا ہے۔

یہ دونوں پہلے ہی اپنے تین بچے کھو چکے ہیں۔ روبہ چاہتی ہیں کہ وہ آئی وی ایف کا استعمال کریں اور ایک صحت مند جنین کا انتخاب کریں۔ لیکن ثاقب خدا پر بھروسہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے کچھ رشتہ دار چاہتے ہیں کہ دونوں میاں بیوی علیحدگی اختیار کر کے دوبار شادی کر لیں۔

روبہ بی بی کم عمری میں شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ وہ اے لیول کر کے یونیورسٹی جانے کی خواہش مند تھیں لیکن ابھی انھوں نے سکول کی تعلیم مکمل کی تھی کہ والدین نے پاکستان میں موجود ان کے کزن ثاقب سے ان کی شادی طے کر دی۔

بریڈفورڈ میں پیدا اور پھر پلنے بڑھنے والی روبہ شادی سے پہلے دو بار ہی پاکستان گئی تھیں۔ پہلی بار جب وہ چار برس کی تھی اور دوسری مرتبہ جب وہ بارہ سال کی تھیں۔

روبہ کو اچھی طرح یاد بھی نہیں وہ شخص جس سے ان کی منگنی ہو گئی تھی نہ ہی اس کے ساتھ روبہ نے اکیلے وقت گزارا تھا۔ اس کی عمر 27 برس تھی اور وہ ایک ڈرائیور تھا جبکہ روبہ اس وقت فقط 17 برس کی تھی۔

اس وقت کو یاد کرتے ہوئے روبہ نے کہا ’میں بہت نروس تھی میں اسے واقعی بالکل نہیں جانتی تھی۔‘

’میں بہت شرمیلی تھی، میں بہت زیادہ بات نہیں کر سکتی تھی اور مجھے کبھی لڑکوں اور کسی چیز میں اس طرح دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں نے اپنی والدین سے کہا کی کہ ابھی مجھے سکول ختم کرنے دیں اور سب کچھ آگے پر رکھ دیں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔‘

Presentational white space

تین ماہ پاکستان میں گزارنے کے بعد وہ امید سے ہوئیں۔ وہ دو ماہ بعد بریڈ فورڈ لوٹ آئی تھی اتنی جلدی بچے کے بارے میں جان کر وہ حیران تو تھیں لیکن خوش بھی تھیں۔

مزید پڑھیے

جب سنہ 2007 میں ان کا بیٹا حسام پیدا ہوا روبہ نے پرجوش ہو کر اپنے شوہر ثاقب کو فون کیا اور بتایا کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے اگرچہ بچہ بہت زیادہ سوتا تھا اور اسے دودھ پینے میں مشکل ہوتی تھی۔

روبہ نے سوچا یہ نارمل ہے۔

line
line

کچھ ہفتوں کے بعد وہ اپنے چیک اپ کے لیے ہسپتال گئیں اور جیسے ہی ڈاکٹر نے حسام کو دیکھا تو انھیں اس کے کولھے میں سختی محسوس ہوئی۔

روبہ کہتی ہیں کہ ’ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ وہ اسے دوسرے ڈاکٹر کے پاس بھجوا رہی ہیں لیکن میں نے سوچا یہ کوئی معمولی سا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کچھ ٹیسٹ کیے۔ پھر مجھے بلایا گیا کہ بچوں کی وارڈ سے رزلٹ لے لوں۔‘

جب میں ڈاکٹر کے پاس گئی تو انھوں نے کہا کہ ایک بہت بری خبر ہے۔ انھوں نے مجھے کاغذ کا ایک ٹکڑا دیا اور بتایا کہ اس کی کیا حالت ہے اور یہ بہت کم کیسز میں ہوتا ہے۔ یہ میرے لیے بہت مشکل تھا میں صرف رو رہی تھی۔ میں گھر گئی اور پاکستان میں موجود اپنے شوہر کو کال کی۔ اس نے مجھے حوصلہ دینے کی کوشش کی۔ اس نے کہا کہ ہر ایک مشکل سے گزرتا ہے اور ہم دونوں اس مشکل کا اکھٹے سامنا کریں گے۔‘

روبہ کو اندازہ نہیں تھا کہ انھیں اور ان کے کزن کو آئی سیل کا پرابلم ہے جس میں دونوں کے جینز ’ریسیسو‘ تھے۔ یہ ایک ایسا جنیاتی مسئلہ ہوتا ہے جس میں بچے کی نشوونما مکمل طور پر نہیں ہو سکتی۔

سات ماہ بعد ثاقب کو برطانیہ میں رہنے کا ویزہ ملا اور تب ہی اس نے پہلی بار اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔

ثاقب کہتے ہیں کہ وہ بالکل نارمل بچہ لگ رہا تھا۔

روبہ کہتی ہیں کہ وہ بیٹھ نہیں رہا تھا، نہ ہاتھ کے سہارے چلنے کی کوشش کرتا تھا لیکن میرے شوہر نے کہا کہ کچھ بچے آہستہ آستہ ایسا کرتے ہیں۔

لیکن روبہ کو اپنے بچے اور اس کی عمر کے دوسرے بچوں کے درمیان بہت فرق محسوس ہو رہا تھا۔ حسام بہت آہستہ بڑھ رھا تھا۔ اس عرصے میں روبہ اسے سینے میں انفیکشن کی وجہ سے کئی بار ہسپتال لے کر گئی تھی۔

جوں جوں وہ بڑا ہوا اس کا سر بھی بڑھنے لگا۔

جب سنہ 2010 میں ان کے ہاں بیٹی علیشبہ کی پیدائش ہوئی تو ٹیسٹ کے فوراً بعد یہ پتہ چلا کہ وہ بھی آئی سیل کی بیماری میں مبتلا ہے۔ وہ تین سال کی عمر میں وفات پا گئی تھی۔ یہ سنہ 2013 کی بات ہے اور اس وقت اس کا بھائی حسام بھی دنیا سے جا چکا تھا۔

Presentational white space

تیسری بار حاملہ ہونے سے پہلے روبہ نے مفتی زبیر بٹ سے رابطہ کیا۔ وہ لیڈز ٹیچنگ ہسپتال میں مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ روبہ نے ان سے پوچھا کہ مذہب حمل کے دوران سکریننگ کے بارے میں کیا کہتا ہے اور اگر آئی سیل کا مسئلہ واضح ہو جائے تو حمل ختم کرنے کے لیے کیا کہتا ہے۔

مفتی صاحب نے روبہ کو کہا کہ یہ جائز اقدام ہوگا لیکن ساتھ ہی یہ بھی تاکید کی کہ وہ اس بارے میں بہت احتیاط سے سوچیں۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ روبہ کو ایسا اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ اسے یہ کرنے کے لیے گرین سگنکل مل گیا یعنی اجازت مل گئی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی حالت ہے جس کے ساتھ اسے ساری عمر گزارنی ہے۔

مفتی نے انھیں یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی کمیونٹی میں رہنے والوں سے بھی رائے لیں۔ ان میں سے بہت سے حمل ختم کرنے کے مخالف ہو سکتے تھے۔ ذاتی طور پر اس سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔

line

بریڈ فورڈ میں پیدائش

  • روبہ اور ان کا پہلا بچہ حسام بریڈ فورڈ میں ان 14000 خاندانوں پر کیے جانے والے مطالعے کا حصہ تھے جس میں 46 فیصد پاکستانی شامل تھے۔
  • اس شہر میں بچوں کی اموات کی شرح ملکی سطح پر موجود شرح سے دوگنی تھی اور اس کی وجہ معلوم کرنا ہی اس تحقیق کی وجہ تھی۔
  • ڈاکٹروں نے اس قسم کے 200 غیر معمولی قسم کی صورتحال کی شناخت کی اور اب اس پر کام کیا جا رہا ہے کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کی سکریننگ اور ماں باپ بننے والے جوڑوں کی معاونت کی جائے۔
line

روبہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا حمل ختم نہیں کرے گی۔

اپنی تیسری بچی انارا کی پیدائش سے پہلے انھوں نے طبی معائنے کرانے سے انکار کر دیا۔ یہ سنہ 2015 کی بات ہے۔ ڈاکٹروں نے انھیں بار بار کہا کہ وہ سکریننگ یعنی اندرونی معائنہ کروائے لیکن انھوں نے انکار کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ اسے ایک نارمل حمل کی طرح لیا جائے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ میرے ذہن میں کوئی شک ڈالیں۔ میں حمل گروانا نہیں چاہتی تھی اس لیے کہ میں اپنے ماں بننے کے عمل سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔‘

روبہ نے بتایا کہ میں اپنے شوہر سے کہتی تھی کہ یہ ممکن ہے کہ یہ بچہ بھی بیمار ہو لیکن وہ کہتے تھے وہ ٹھیک ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے بہت زیادہ شک تھا۔ میں جانتی تھی کہ یہ ویسی ہی مشکلات ہیں جیسے پہلے دو کی بار تھیں۔‘

Presentational white space

لیکن پھر انارا کی پیدائش بھی آئی سیل جیسے نقص کے ساتھ ہی ہوئی۔

میں واقعی بہت خوش تھی کہ میرا بچہ ہے لیکن جب ہم نے اسے دیکھا تو ہم جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔‘

انارا ایک سال قبل اپنی دو سال کی عمر میں وفات پا گئی تھی۔ وہ سینے کے انفیکشن میں گذشتہ دسمبر مبتلا ہوئیں اور پھر تیزی سے اس کی صحت گرتی چلی گئی۔ اسے بریڈ فورڈ سے یارک منتقل کیا گیا۔

یارک میں ڈاکٹروں نے اسے زندہ رکھنے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں۔

روبہ کہتی ہیں کہ نہیں معلوم کہ کیسے تین بچوں کو کھونے اور چھ بار حمل ضائع ہونے کی تکلیف برداشت کی۔

انھوں نے بتایا کہ انارا کی وفات کے کچھ ہی ہفتوں بعد مجھے پتہ چلا میں پھر امید سے ہوں۔

’مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ میں امید سے ہوں اور پھر انارا کی تدفین کے بعد مسِ کیرج ہوا۔‘

Presentational white space

وہ کہتی ہیں کہ انارا کی موت کے بعد انھوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ کزن میرج اور بچوں کی بدنصیبی کا کیا تعلق ہے۔

ایک لمبے عرصے تک وہ اس پر یقین ہی نہیں رکھتی تھی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہسپتال میں بیمار اور اپاہنچ بچوں کو دیکھا تھا اور وہ سب کزن میرج کی وجہ سے ایسے نہیں تھے۔ کچھ ان میں سے سفید فام کمیونٹی سے بھی تھے۔

روبہ نے بتایا کہ ان کے شوہر اب بھی اس پر یقین نہیں رکھتے۔

’میں اس پر اب یقین رکھتی ہوں کیونکہ یہ تین بار ہو چکا ہے۔ اس لیے کچھ ضرور ہوگا جس کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں اور وہ درست ہو گا۔‘

line

کزن میرج

  • سنہ 2013 میں محققین نے کزن میرج کے حوالے سے لینسٹ میں کی جانے والی تحقیق شائع کی۔ اس میں یہ سامنے آیا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی 63 فیصد مائیں ایسی تھیں جن کی شادی اپنے کزنز سے ہوئی اور ان میں ذہنی طور پر پسماندہ بچوں کی پیدائش کا دگنا امکان تھا۔
  • پیدا ہونے والے بچے کے دل یا نروس سسٹم میں کوئی مسئلہ ہونا پاکستان میں عام طور پر تین فیصد ہے لیکن یہ امکان چھ فیصد تک بڑھ جاتا ہے جب خونی رشتوں کے مابین شادی ہو۔
  • بریڈ فورڈ میں موجود خاندان اب بھی اپنے بچوں کے لیے پیچھے موجود خاندان سے دولہا، دلہن کی تلاش میں ہیں۔ تحقیق کے مطابق چار میں سے ایک بچہ ایسی ہی شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے۔
line

انارا کی موت کے بعد روبہ اور ثاقب کے پاکستان اور برطانیہ میں موجود رشتہ داروں نے کہا کہ ان کے ہاں صحت مند بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی اس لیے اس شادی کو بخوشی ختم کر دینا چاہیے۔ اس سے یہ ہو گا کہ دونوں روبہ اور ثاقب دوسری شادی کر سکیں گے اور کسی اور سے ان کے ہاں ایک صحت مند بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔

روبہ کہتی ہیں کہ ہم دونوں نے انکار کر دیا۔

میرے شوہر نے کہا ’اگر خدا نے مجھے اولاد دینی ہے تو وہ تم سے بھی دے سکتا ہے۔ اس نے مجھے تم سے بچے دیے ہیں وہ مجھے تم سے ہی صحت مند اولاد بھی دے سکتا ہے۔ اگر اس نے یہ لکھ رکھا ہے۔ تو تمھارے لیے لکھا ہے۔ نہ میں دوبارہ شادی کروں گا اور نہ ہی تم دوبارہ شادی کر سکتی ہو۔ ہم دونوں دوبارہ اکھٹے کوشش کریں گے۔‘

اگرچہ سنہ 2007 میں روبہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اب شادی شدہ زندگی کے 10 سال بعد وہ علیحدگی نہیں چاہتی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے رشتہ دار چاہتے ہیں کہ ہم بچوں کے لیے الگ ہو جائیں۔ تاکہ میرے صحت مند بچے پیدا ہو سکیں۔ کسی اور سے۔ لیکن کیا ہو گا اگر میرے کسی اور سے صحت مند بچے ہوئے لیکن میں وہ محسوس نہ کر سکی جو میں اس کے لیے کرتی ہوں۔ شاید میرے بچے ہوں لیکن خوشگوار شادی شدہ زندگی نہ ہو۔ شاید وہ کامیاب شادی نہ ہو۔ اور میں اپنے بچوں کو اکیلی ماں کے طور پر نہیں پالنا چاہتی۔ میں نے سنا ہے لوگ ایسا کرتے لیکن یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔‘

لیکن ان کے پاس کیا آپشنز بچ گئے ہیں۔

Child in pink pyjamas
Presentational white space

ایک چیز آئی وی ایف ہے۔ جس سے ڈاکٹرز جنین کو سکرین کر سکتے تھے۔ روبہ کہتی ہیں کہ ثاقب اس بارے میں پرجوش نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں ثاقب کا کہنا ہے کہ اگر اللہ نے ہمارے لیے ایسے ہی بچے لکھے ہیں تو کچھ بھی حالات ہوں ہمیں ایسے ہی بچے ملیں گے۔

روبہ آئی وی ایف کا استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن انتظار طویل ہے۔

’میں چاہتی ہوں کہ یہ جلدی سے ہو۔ اگر آپ کو کسی چیز کا طویل انتظار کرنا پڑے تو وہ قدرتی طور پر آپ جلد اس کی خواہش کرتے ہیں۔‘

روبہ کے شوہر ثاقب اپائنٹمنٹ کے موقع پر ان کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن ان کے لیے اپنے کام سے وقت نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ ایک بیکری میں کام کرتے ہیں اور بہت روانی سے انگلش بھی نہیں بول سکتے۔

روبہ کہتی ہیں کہ وہ میرے ساتھ بیٹھتے ہیں لیکن انھیں معلوم نہیں ہوتا ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں لیکن وہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں سب کچھ مجھ پر منحصر ہے۔‘

روبہ کہتی ہیں کہ میں نہیں پیش گوئی کر سکتی کہ کیا ہو گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگرچہ جب حسام کی بیماری کا پتہ چلا تھا تو میں نے سوچا تھا کہ میں یہ نہیں کر سکتی لیکن میں نے اسے کیا تین مرتبہ۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتی۔ لیکن یہ کسی بچے کے ساتھ انصاف نہیں کہ وہ اتنی تکلیف سے گزرے۔‘

line

تین بچے

  • حسام محمد، تاریخ پیدائش پانچ جولائی- تایخ وفات پانچ اگست 2012
  • علیشبہ محمود، تاریخ پیدائش 22 مئی 2010_ تاریخ وفات 13 نومبر 2013
  • انارا اصحال، تاریخ پیدائش 22 اپریل 2015_ تاریخ وفات چھ دسمبر 201
line

اس جوڑے کے تجربے کے بعد خاندان میں دیگر افراد نے کزن میرج سے انکار کر دیا ہے۔

روبہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے کبھی اس خطرے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ جب تک میرے بچے پیدا ہوئے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ خاندان میں شادی کرنا غلط ہے۔ لیکن چونکہ میں اس سے گزری ہوں اب میرے خاندان والے ایسا کرنے سے پہلے دوبار سوچیں گے۔‘

دس سال پہلے میں نے اپنے ماں باپ کی بات مانی تھی۔ لیکن اب میرے کزنز انکار کر رہے ہیں اور انھیں اپنی زندگی کا ساتھی چننے کا حق دیا جا رہا ہے۔

روبہ نے اپنے مذہب اور اپنے والدین کے سہارے سے اس صورتحال کو برداشت کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ خدا ایک انسان پر اتنا بوجھ ڈالتا ہے جتنا وہ اٹھا سکے۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں لوگ بہت خوش قسمت ہیں۔ انھیں ایک صحت مند بچے کے لیے بہت محنت نہیں کرنا پڑتی۔ لیکن کبھی کبھی وہی بچے بڑے ہو کر ان کے لیے مشکل پیدا کر دیتے ہیں۔ یوں ان کے لیے الگ آزمائش ہوتی ہے۔‘

’اس زندگی میں میں بدقسمت انسان ہوں لیکن اگلی زندگی میں میں خوش قسمت ہوں گی کیونکہ وہ معصوم بچے تھے اور وہ میری اگلی زندگی میں میرے ساتھ ہوں گے میری مدد کریں گے۔‘