بانجھ جوڑے کے یہاں تین افراد کے مشترکہ بچے کی پیدائش

حمل ڈی این اے

،تصویر کا ذریعہSpl

،تصویر کا کیپشنپہلی بار کسی بانجھ خاتون پر اس نئی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے

یوکرین میں ایک سابقہ بانجھ جوڑے کے یہاں تین افراد کے آئی وی ایف کی ایک نئی ٹکنالوجی کے استعمال سے ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

'دی ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت كیف میں ڈاکٹروں نے جس طریقہ کار کا استعمال کیا ہے اسے ’پرونكليئر ٹرانسفر‘ کہتے ہیں اور یہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے۔

بہر حال تین والدین سے کسی بچے کی پیدائش کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

رواں سال پانچ جنوری کو پیدا ہونے والا بچہ تین والدین کے ملاپ سے پیدا ہونے والا دنیا کا دوسرا بچہ ہے۔ پہلا بچہ اس سے قدرے مختلف طریقہ کار سے گذشتہ سال میکسیکو میں پیدا ہوا تھا۔

ڈاکٹروں نے شدید جینیاتی گڑبڑی یا مائٹوکونڈریا کی بیماری سے دو چار خواتین کی امداد کے لیے تین افراد پر مبنی آئی وی ایف تیار کیا ہے تاکہ تندرست بچہ پیدا ہو سکے۔

اس طریقہ کار میں مائٹوکونڈریا سے دوچار خاتون کے بیضے اور صحت مند مائٹوکونڈریا کو جمع کیا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر پیدا ہونے والے بچے میں تین افراد یعنی ماں باپ کے ڈی این اے کے ساتھ بیضے کا عطیہ کرنے والی کے ڈی این اے کا بھی کچھ عنصر پایا جاتا ہے۔

نئی تکنیک

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشننئی تکنیک میں تین لوگوں کا جین شامل ہے

کیف کے نادیا کلینک میں اس تکنیک کا استعمال مائٹوکونڈریا کی بیماری والے افراد کے بجائے بانجھ جوڑے پر کیا گيا۔

برطانیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اعلیٰ سطحی تجرباتی عمل تھا۔

اس تجربے کے رہنما ویلری زوکن نے کہا کہ انھیں کہیں نہ کہیں یہ امید تھی کہ یہ عمل یوکرین کے ان جوڑوں کے لیے سود مند ہو سکتا ہے جن میں روایتی آئی وی ایف سے حمل نہیں ٹھہرتا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اس طرح کا یہ ان کا دوسرا مریض بھی ہے جس کے یہاں مارچ میں بچے کی پیدائش متوقع ہے۔

اس ٹیکنالوجی سے متعلق اخلاقیات پر دنیا بھر میں مباحثہ جاری ہے لیکن برطانیہ میں مائٹوکونڈریا بیماری سے دوچار افراد کے یہاں تین افراد کے جین پر مبنی آئی وی ایف کے استعمال کی اجازت ہے تاہم ابھی تک برطانیہ میں ایسے کسی بچے کی پیدائش نہیں ہوئی ہے۔