’پیدائش سے محروم رکھنے پر ایمبریوز کا ماں پر مقدمہ‘

صوفیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناداکارہ صوفیہ ورگارا اور نک لوئب کی سنہ 2014 میں علیحدگی ہوگئی تھی

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اداکارہ صوفیہ ورگارا پر ان کے دو منجمند ایمبریوز نے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

ان ایمبریوز کو اداکارہ اور ان کے سابقہ پارٹنر نے محفوظ کیا تھا۔

اخبار نیویارک پوسٹ کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق ایما اور ازابیلا نامی دو ایمبریوز کا نام لوزیانا کی عدالتی دستاویزات میں شامل ہے۔

اداکارہ صوفیہ ورگارا اور نک لوئب کی سنہ 2014 میں علیحدگی ہوگئی تھی اور ان کے سابقہ شوہر ایمبریوز کی ملکیت حاصل کرنے کی ناکام عدالتی کوشش کرچکے ہیں۔

نئے مقدمے میں ایک ٹرسٹ کی جانب سے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ ایمبریوز کو پیدائش کا حق نہ دے کر ان کی وراثت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرسٹ ان ایمبریوز کے لیے لوزیانا میں بنائی گئی ہے، اگرچہ ایمبریوز کیلیفورنیا میں ہیں۔

خیال رہے کہ لوزیانا کو ایک 'پرو لائف' ریاست سمجھا جاتا ہے اور ان کے قوانین کے مطابق یہاں ایک فرٹلائزڈ انڈے کو 'قانونی انسانی' کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ مقدمہ ایک ٹرسٹی کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے جبکہ اس میں نک لوئب کا نام شامل نہیں ہے۔ مقدمے میں درخواست کی گئی ہے کہ ایمبریوز کو نک لوئب کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کا جنم ہو اور وہ اپنی وراثت حاصل کر سکیں۔

44 سالہ صوفیہ ورگارا اور 41 سالہ کاروباری شخصیت نک لوئب نے سنہ 2013 میں کیلیفورنیا کے ایک کلینک میں ان وٹرو فرٹلایئزیشن (آئی وی ایف) کے ذریعے یہ ایمبریوز تخلیق کیے تھے۔

صوفیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصوفیہ ورگارا کی اب امریکی اداکار جو مینگنیلو سے شادی ہوچکی ہے

اس وقت اس دونوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ دونوں پارٹنرز میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی مرضی کے بغیر ان ایمبریوز کا کچھ نہیں کر سکتا۔

صوفیہ ورگارا نے مبینہ طور پر ان ایمبریوز کو کسی سروگیٹ ماں میں منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اداکارہ کے وکلا یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ صوفیہ ورگارا اور نک لوئب دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہوئے آئی وی ایف کے عمل سے گزرے تھے کہ ان ایمبریوز کو وقت آنے پر زندگی فراہم کی جائے گی۔

صوفیہ ورگارا کی اب امریکی اداکار جو مینگنیلو سے شادی ہوچکی ہے اور ان کے سابقہ شوہر سے ان کا ایک بیٹا ہے۔

حالیہ مقدمے سے ایک بار پھر امریکہ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کب ایک فریٹلائیزڈ بیضے کو ایک انسان تصور کرنا چاہیے۔