ماں بننے پر بحث: ’میں ماں نہیں بننا چاہتی، اس میں غلط کیا ہے؟‘

ماں بچہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامرُتا نندا اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ انڈیا میں عورتوں کا رول ماں بننے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا (فائل فوٹو)
    • مصنف, سِندھو واسنی
    • عہدہ, بی بی سی

47 سالہ سُدھا واسن دلی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کرتی ہیں۔ اُن کی شادی کو 20 برس ہو چکے ہیں اور زندگی ہنسی خوشی گزر رہی ہے۔

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ سُدھا کی زندگی میں کچھ کمی ہے۔ کمی اس لیے کیونکہ ان کے بچے نہیں ہیں۔ لیکن سُدھا کو ایسا نہیں لگتا۔

مزید پڑھیے

وہ کہتی ہیں 'جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے بچے پیدا کیوں نہیں کیے، تو میں ان سے پوچھتی ہوں کہ انھوں نے بچے کیوں پیدا کیے؟ پھر مجھے جو جواب سننے کو ملتے ہیں، میں ان سے مطمئن نہیں ہوتی‘۔

ماں بنے بغیر عورت ادھوری؟

بالی وڈ فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ میں رانی مکھرجی کہتی ہیں کہ ’عورت جب تک ماں نہ بنے، اس کا عورت ہونا پورا نہیں ہوتا‘۔ تو کیا وہ سبھی عورتیں جو ماں نہیں بنتی، ادھوری ہیں؟

ایلا جوشی

،تصویر کا ذریعہILAJOSHI/FACEBOOK

،تصویر کا کیپشنایلا جوشی نے بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے

ممبئی میں رہنے والی ایلا جوشی یہ سوال سن کر ہنس پڑتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'یہ پِدرشاہی کی سازش ہے جو بڑی چالاکی سے عورتوں کو بلیک میل کر لیتی ہے‘۔ 31 برس کی ایلا سیلز میں کام کرتی ہیں اور ان کی شادی کو چار سال ہو چکے ہیں۔

ایلا نے بھی بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں 'میں بچہ تبھی پیدا کروں گی جب مجھے لگے گا کہ میرا شوہر بھی بچے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے اتنا ہی تیار ہے جتنی میں‘۔

ایلا کا کہنا ہے کہ ماں بننے کے بعد عورت کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔ حمل سے بچے کے بڑے ہونے تک اس کی ساری توجہ صرف اپنے بچے پر اٹک کر رہ جاتی ہے۔

انھوں نے کہا 'آپ دیکھیں گے کہ سیلز میں بہت کم خواتین اونچے عہدوں تک پہنچ پاتی ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ کیرئیر میں تھوڑا اوپر آتے آتے وہ ماں بن جاتی ہیں اور پھر ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں‘۔

ایلا جوشی

،تصویر کا ذریعہILAJOSHI/FACEBOOK

،تصویر کا کیپشنایلا جوشی کہتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں

کچھ دن پہلے انڈیا کی مانوشی چھِلر نے ماں کے کردار کو سب سے زیادہ عزت کا حقدار بتا کر مِس ورلڈ کا تاج اپنے نام کر لیا۔

بےشک ماں بننا اور اس کے فرائض انجام دینا نہایت ہی مشکل کام ہے، لیکن اُن تمام خواتین کا کیا جو ماں بننا ہی نہیں چاہتیں؟

اس کے جواب میں ایلا بڑی بےباکی سے کہتی ہیں ’لوگ ہمیں خودغرض کہتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم صرف اپنے کیرئیر کے بارے میں سوچتی ہیں۔ میں کہتی ہوں کہ ہاں، میں خود غرض ہوں۔ میرا کام میرے لیے اہم ہے۔ میں ماں نہیں بننا چاہتی۔ اس میں کیا غلط ہے؟'

مانوشی چھلر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمانوشی چھلر نئی مِس ورلڈ ہیں

وہ کہتی ہیں، ’مجھے نہیں لگتا کہ بچہ نہ ہونے کی وجہ سے میں کچھ مِس کر رہی ہوں۔ میں بےفکر ہو کر سفر کر سکتی ہوں، کتابیں پڑھ سکتی ہوں، اور اپنی زندگی جی سکتی ہوں۔‘

ماں بننا ہی کافی نہیں

امرُتا نندا اپنی کتاب 'مدرہُڈ اینڈ چوائس: اِن کامن مدرز، چائلڈفری وومن' میں لکھتی ہیں کہ انڈیا میں عورتوں کا کردار ماں بننے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا۔

بچہ ہونے کے بعد اُن کے سامنے ’اچھی ماں‘ بننے کا چیلنج ہوتا ہے۔ اُن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ بچے کے لیے ہر طرح کی قربانی دیں۔

شادی کے 8 سال بعد بھی ماں نہ بننے والی سُدیپتی کہتی ہیں ’ایسا نہیں ہے کہ بچہ نہ ہونے سے عورت کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بالکل پڑتا ہے۔ ہمیں اور زیادہ مضبوط رہنا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں 'دوسرے کے بچوں کو پیار کرتے وقت میرے دل میں ہمیشہ یہ بات آتی ہے کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ میرا اپنا بچہ نہیں ہے، اس لیے میں ایسا کر رہی ہوں‘۔

مزید پڑھیے

حاملہ خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اپنی مرضی سے ماں نہ بننے کا رجحان آہستہ آہستہ دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔ امریکی سینسس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں 44 سال تک کی 47.6 فیصد خواتین ایسی تھیں جن کے بچے نہیں تھے۔

سال 2011 میں یہ تعداد 46.5 فیصد تھی۔ اس سروے کے مطابق 20-34 سال کی 28.9 فیصد خواتین کے بچے نہیں ہیں۔

تو کیا انھیں آگے کی زندگی کے بارے میں سوچ کر ڈر نہیں لگتا؟ انھیں یہ خیال نہیں ستاتا کہ بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال کون کرے گا؟

41 سال کی لوکیش اس کا جواب یہ دیتی ہیں 'مجھے یہ صحیح نہیں لگتا کہ ہم اپنی دیکھ بھال کا بوجھ اکیلے بچوں پر ڈال دیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے‘۔