کووڈ 19: انڈیا کے وہ بچے جن کے دوست صرف زوم پر کچھ خانے ہیں

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انڈیا میں تقریبا 30 کروڑ بچے سکول بند ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق انڈیا میں تقریبا 30 کروڑ بچے سکول بند ہونے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں
    • مصنف, اینڈریو کلیرنس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی

انڈیا میں دسمبر سنہ 2019 میں سینو جیبراج کی تین سالہ بیٹی چند مہینوں میں سکول شروع کرنے کے خیال سے بہت پرجوش تھی۔

لیکن جب اس بچی کی کلاسز شروع ہونے والی تھیں تو انڈیا میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔

یہاں تک کہ مہینوں بعد جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو بھی ملک بھر میں سکول بند رہے۔ کچھ ریاستوں نے پچھلے دو سالوں میں تعلیمی ادارے کھولنے کی کوشش کی، لیکن پے در پے کووڈ کی وبائی لہروں نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

سینو جیبراج کی بیٹی اب پانچ سال کی ہو چکی ہیں۔ انھوں نے 600 دنوں سے زائد عرصے سے زوم پر لاگ ان کیا ہے اور اسے ہی وہ سکول کے طور پر جانتی ہیں۔ وہ ان سوا چار کروڑ انڈین بچوں میں شامل ہیں جو پرائمری سے پہلے کی سطح پر سکول بند ہونے سے متاثر ہوئے ہیں۔

جیبراج کہتی ہیں ‘میں دراصل سکول میں اس کے سماجی تعلقات بنانے کی منتظر تھی۔ لیکن اس کے لیے اس کے کلاس کے تمام دوست زوم پر چھوٹے چھوٹے خانوں میں موجود تصاویر ہیں۔‘

بہر حال اب وہ بالآخر انھیں ذاتی طور پر دیکھ سکتی ہیں کیونکہ دارالحکومت دہلی نے رواں ماہ سے سکول اور کالج کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ واضح رہے کہ جیبراج اور ان کے اہل خانہ دہلی میں رہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے سکول سے دور گزارے گئے سالوں نے ان کے سیکھنے کے عمل کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

سکولوں کو دوبارہ کھولنے کی حمایت کرنے والے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر چندرکانت لہریا کہتے ہیں 'اگر پہلی جماعت میں کوئی بچہ سیکھنے سے محروم رہتا ہے، تو اس کا اثر اگلے چند درجات پر پڑے گا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ بچہ جتنا چھوٹا ہے، طویل مدت میں نہ سیکھنے کا مجموعی نقصان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس کا اثر خاص طور پر ان لاکھوں بچوں پر پڑا ہے جن کے پاس لیپ ٹاپ اور بغیر رکاوٹ انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رہی ہے۔

گذشتہ سال اگست میں ماہرین اقتصادیات کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں طویل عرصے تک سکولوں کے بند رہنے کے نتیجے میں غریب بچوں 'تباہ کن اثرات' مرتب ہوئے ہیں۔ سروے سے معلوم ہوا کہ نمونے کے لیے منتخب 1400 بچوں میں سے تقریباً نصف چند الفاظ سے زیادہ پڑھنے سے قاصر تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے، لیکن پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے حالیہ سالانہ بجٹ میں جس حل کا اعلان کیا گیا ہے اس سے ماہرین غیر مطمئن ہیں۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ دیہی علاقوں اور پسماندہ طبقات کے بچے سکول بند ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ حکومت تعلیمی ٹی وی چینلز کی لائن اپ کو 200 تک بڑھا کر مقامی زبانوں میں اضافی تعلیم فراہم کرے گی۔

لاکھوں بچوں کے لیے سکول کا بند ہونا مطلب تعلیم کا بند ہونا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں لاکھوں بچوں کے لیے سکول کا بند ہونا مطلب تعلیم کا بند ہونا ہے

لیکن یہاں یہ واضح نہیں ہے کہ بجلی تک محدود رسائی والے بچے انھیں کیسے دیکھ سکیں گے۔

سیکھنے سے دور

اگرچہ قدرے زیادہ وسائل والے بچوں کے لیے آن لائن کلاسز تک رسائی آسان تھی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے بچوں کو زوم کلاسز کے دوران توجہ کو مرکوز کرنا مشکل لگتا ہے۔

جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کوڈائی کنال انٹرنیشنل سکول کی چائلڈ کونسلر، روتھ میری کہتی ہیں ‘بہت سے طلبا نے اپنے کیمروں کو آن کرنا بند کر دیا ہے۔ اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ آن لائن سیکھنے کے پورے عمل کے ساتھ علیحدہ ہونے لگے ہیں۔‘

روتھ میری بتاتی ہیں کہ اساتذہ کے لیے بھی یہ مشکل وقت ہے کیونکہ کلاس روم میں وہ بچوں کی حرکات و سکنات سے کچھ اخذ کر سکتے ہیں لیکن یہاں 'اب آپ صرف ایک سکرین کو دیکھ رہے ہیں۔'

جب مالتی کھاواس کے پانچ سالہ بیٹے نے سنہ 2020 میں آن لائن کلاسز لینا شروع کیا تو اس کے اساتذہ نے انھیں 30 منٹ کی کلاسز کے ساتھ مطابقت پیدا کرانے کی کوشش کی۔

وہ کہتی ہیں کہ 'لیکن اس آدھے گھنٹے میں بھی، استاد کو ان کی توجہ اپنی طرف برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی تھی۔'

یہ بھی پڑھیے

ایک چائلڈ کونسلر ماریجا سیتار کہتی ہیں کہ پانچ اور اس سے زیادہ عمر کے بچے اس وقت بہترین سیکھتے ہیں جب ان کے ارد گرد دوسرے بچے ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'وہ سماجی مہارتیں سیکھتے ہیں اور کھیل کے دوران مسائل سے کیسے نمٹنا ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے دور گھر میں یہ نہیں سیکھ سکتے۔'

مز کھاواس کہتی ہیں کہ ان کے بیٹے کے اساتذہ اس بات کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ بچے اپنا سبق سیکھیں۔

لیکن ساتھ میں وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ 'ہمیں جو امید تھی کہ وہ سماجی مہارتیں، دوستیاں بنانا اور یہاں تک کہ کلاس میں توجہ دینا سیکھیں گے، وہ یہاں غائب ہے۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچے دوسرے بچوں کی موجودگی میں زیادہ سیکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچے دوسرے بچوں کی موجودگی میں زیادہ سیکھتے ہیں

والدین کو اس بات کو یقینی بنانے میں بھی پریشانی کا سامنا رہا کہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کے بچے اپنے کلاسز کے حساب سے ترقی کر رہے ہیں یا نہیں۔

مز کھاواس کہتی ہیں کہ یہ ناگزیر ہے کیونکہ والدین کی مایوسی کا اثر بچے پر پڑتا ہے۔

وہ کہتی ہیں 'میرا پانچ سالہ بیٹا وہاں بیٹھا ہے، اس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے ہیں کیونکہ میں کوئی تربیت یافتہ ٹیچر نہیں ہوں کہ میں لکھنے کے عمل کو دلچسپ بناسکوں۔'

انھوں نے بتایا کہ آخرکار انھیں اپنی بہن سے مدد لینی پڑی جو کہ ایک تربیت یافتہ ٹیچر ہیں۔ لیکن مز کھاواس تسلیم کرتی ہیں کہ ہر ایک کو اس قسم کی مدد نہیں مل سکتی ہے۔

اب جبکہ سکول دوبارہ کھلنا شروع ہو رہے ہیں تو مز جیبراج اور مو کھاواس جیسے والدین پر امید کے ساتھ ساتھ فکر مند بھی ہیں۔

سنیو جیبراج کہتی ہیں 'میری بیٹی کو سکول بہت ہی عجیب لگے گا اور وہاں اسے ادھر ادھر آنے جانے پریشانی ہوگی۔'

'یقینی طور پر تھوڑی پریشانی ہونے والی ہے جب تک کہ اسے اس کی عادت نہ پڑ جائے۔'