کورونا وائرس: رکشہ چلانے والے ایک شخص کا گھر اجڑنے کی المناک کہانی

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
- مصنف, وکاس پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
جب راجن یادو نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سُنا تھا کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 24 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہو گا تو انھیں بالکل پتا نہیں تھا کہ اس اعلان کے بعد ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی ہے۔
وہ انڈیا کے دارالحکومت ممبئی میں تھے جہاں ہر روز ہزاروں افراد اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے ملک کے دیگر حصوں سے آتے ہیں۔
راجن کی کہانی بھی مختلف نہیں ہے۔
راجن بھی ایک دہائی سے قبل اپنی اہلیہ سنجو کے ہمراہ ممبئی آئے تھے۔ وہ فیکٹریوں میں کام کرتے جبکہ ان کی اہلیہ اپنے 11 سالہ بیٹے نتن اور چھ سالہ بیٹی نندنی کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سنہ 2017 میں ایک بڑا قدم اٹھایا جب انھوں نے ’ٹُک ٹُک‘ یعنی آٹو رکشا خریدنے کے لیے بینک سے قرض لیا۔ رکشہ چلانے سے اُن کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور انھون نے اپنے بچوں کا داخلہ انگریزی میڈیم سکول میں کروا دیا بہت سے انڈین والدین روشن مستقبل کی غرض سے اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اداروں میں بھیجنا ضروری سمجھتے ہیں۔
لیکن صرف دو سال بعد راجن اسی آٹو میں پڑی اپنی بیوی اور بیٹی کی لاش کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے۔
راجن وزیر اعظم کے اعلان کے بعد مئی میں شہر چھوڑنے کے اپنے فیصلے کو اس المیے کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ لیکن واقعتا ان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
اس کنبے نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد مارچ اور اپریل میں کرائے، قرض ادا کرنے اور گروسری خریدنے کے لیے اپنی زیادہ تر بچت استعمال کر لی تھی۔ وہ امید کر رہے تھے کہ یہ شہر مئی میں دوبارہ کھل جائے گا لیکن لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
پیسے اور دوسرے طریقے ختم ہونے کے بعد انھوں نے اترپردیش ریاست کے ضلع جون پور میں واقع اپنے گاؤں واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے خصوصی ٹرینوں میں ٹکٹوں کے لیے درخواست دی جو دوسری ریاستوں کے تارکین وطن کے لیے چلائی جا رہی تھی لیکن ایک ہفتہ تک قسمت آزمائی کے بعد بھی ان کی باری نہیں آئی۔
تھک ہار کر انھوں اپنے رکشے میں ہی 1500 کلومیٹر طویل سفر طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ چار افراد کا کنبہ نو مئی کو ممبئی سے روانہ ہوا۔
تین دن بعد ابھی وہ اپنی منزل سے محض 300 کلومیٹر (124 میل) دور تھے کہ ایک ٹرک نے پیچھے سے ان کے رکشے کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ سنجو اور بیٹی نندنی جائے حادثہ پر ہی ہلاک ہو گئے۔
راجن کی کوئی انوکھی کہانی نہیں ہے۔ درجنوں مزدور تارکین وطن انھی شہروں سے بھاگنے کی کوشش میں ہلاک ہو گئے تھے جنھوں انھوں نے بنایا تھا کیونکہ انڈیا میں ایسا لاک ڈاؤن پہلے کبھی نافذ نہیں کیا گیا تھا۔
ان مزدور تارکین وطن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ ان کی آمدنی بند ہو گئی تھی اور جمع پونجی ختم ہونے لگی تھی۔ ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی میں مرد، خواتین اور بچوں نے مجبورا پیدل، سائیکل رکشہ اور دوسرے پک اپ ذرائع سے اپنے گاؤں واپس جانے کا سفر شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
جب ایک جانب ڈاکٹر ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے خلاف لڑ رہے تھے تو دوسری جانب انڈیا کی سڑکوں اور شاہراہوں پر بقا کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔
شہروں سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے کنبوں کی جن میں کچھ چھوٹے بچے اور حاملہ خواتین بھی شامل تھین ان کی تصاویر کو بھولنا مشکل ہے۔
ایک رپورٹنگ کے دوران میں دہلی سے جانے والے تین بچوں سمیت پانچ افراد کے کنبہ سے ملا۔ ان کے پاس سواری کے نام پر ایک ٹوٹی پھوٹی سائیکل تھی اور بچے مئی کی شدید گرمی کو برداشت کرنے کے لیے بظاہر جدوجہد کر رہے تھے۔
راجن کے ممبئی چھوڑنے کے فیصلے کی جڑ میں یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں ان کا کنبہ بھوکوں نہ مرنے لگے۔ ممبئی چھوڑتے وقت انھوں نے کافی کھانا پیک کر لیا تھا۔ انھیں یاد ہے کہ ان کی اہلیہ نے بچوں کو بتایا تھا کہ وہ روڈ ٹرپ کر رہے ہیں۔
وہ صبح پانچ بجے سے گیارہ بجے تک گاڑی چلاتے۔ اس کے بعد وہ دن کے وقت آرام کرتے تھے اور پھر شام چھ بجے سے رات 11 بجے تک سڑک پر آ جاتے۔ یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن گاؤں میں محفوظ رہنے کی امید انھیں اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
لیکن صرف راجن اور ان کا بیٹا نتن ہی گاؤں صحیح سلامت پہنچے۔ اگلے کچھ دن ایک قسم کے چکر میں گزرے۔
انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا ’میں یہ سوچتا رہا کہ یہ سب ایک برا خواب ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا اکثر انھیں جھٹکے سے بیدار کرتا۔
نتن اپنی بہن اور والدہ کے بارے میں پوچھنا بند نہیں کرتا لیکن راجن کے پاس کوئی جواب نہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ دنیا جو انھوں نے ممبئی میں اپنے لیے بسائی تھی اب موجود نہیں ہے۔
راجن نے اپنا دن کھیتوں میں گزارنا شروع کیا، کبھی کبھی وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرتا لیکن وہ زیادہ تر ایک درخت کے نیچے بیٹھا آسمان کی طرف دیکھا کرتا۔
وہ مشکل سے کسی سے بھی بات کرتا، یہاں تک کہ نتن سے بھی نہیں اور اس کے دادا دادی اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں شہر سے نکلنے کے اپنے فیصلے پر سوال کرتا رہتا ہوں۔ کیا میں نے جلد بازی کی؟ کیا میں نے لاک ڈاؤن کے دوران پیسے کمانے کی پوری کوشش کی؟ میرا دماغ سوالات سے بھر جاتا ہے لیکن میرے پاس کوئی جواب نہیں۔‘
اس طرح تین مہینے گزر گئے اور اس کے والدین اس کی ذہنی حالت کے بارے میں فکر کرنے لگے۔ پھر نتن کے ایک معصوم سوال نے اس کے لازوال غم کو پھوڑ دیا۔
نتن نے پوچھا: ’پاپا، ماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھی۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اب بھی ممکن ہے؟ کیا آپ مجھے گاؤں میں چھوڑنے جا رہے ہیں؟'
اس سے راجن کو سنجو سے کیا وعدہ یاد آیا کہ ان کے بچوں کی تعلیم ہمیشہ اولین ترجیحات میں شامل رہے گی۔
انھیں اچانک احساس ہوا کہ وہ نتن کی طرف دھیان نہیں دے رہا ہے۔ پھر انھوں نے اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کیا لیکن ممبئی واپس جانا ان کے ذہن میں نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
انھوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں رہا۔‘
وہ سنجو کے بغیر اس شہر واپس نہیں جانا چاہتے۔ انھوں نے کہا: ’میں اس کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہوں؟ وہ میری کامیابی میں برابر کی شریک تھیں۔ ممبئی اسی کی وجہ سے میرا گھر بنا تھا۔ ممبئی میں اس کے بغیر کوئی زندگی نہیں۔‘
دوسرے امور بھی قابل توجہ تھے۔ ان کے خاندان کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ یعنی رکشہ حادثے میں بری طرح خراب ہو گیا تھا اور راجن کے پاس اتنی رقم نہیں کہ اس کی مرمت کرائے۔
لیکن سنجو سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے کے لیے وہ پرعزم تھا۔ انھوں نے مقامی سیاستدانوں اور عہدیداروں سے مدد طلب کی لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔
پھر راجن کے والدین نے انھیں رقم کا بندوبست کرنے کے لیے سنجو کے زیورات بیچنے کا مشورہ دیا۔ لیکن وہ اس خیال کے خلاف تھا۔ زیورات نے انھیں سنجو اور ان کے خوشگوار وقت کی یاد دلا دی۔
’یہ میری خوشی کا آخری ٹکڑا بیچنے کی طرح تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے سنجو کی یاد کا آخری ٹکڑا بیچنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔‘
لیکن راجن جانتا تھا کہ نتن کو اچھی تعلیم دینے کے لیے سنجو ہر ممکن کوشش کرتی۔ ’وہ ایسی ہی تھیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ہمارے بچے ان مشکلات سے گزریں جن سے ہمیں گزرنا پڑا ہے۔‘
آخر کار انھوں نے سپر ڈال دی اور ٹک ٹک کی مرمت کر دی گئی۔ لیکن یہ رقم ٹرک میں اسے ممبئی بھیجنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
سستا آپشن اسے پھر سے چلاتے ہوئے ممبئی لے جانا تھا لیکن پھر سے اسی شاہراہ پر واپس جانے کے خیال نے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی بھر دی۔ ٹرک کے زور سے ٹکرانے کی صدا ابھی تک اس کے دماغ میں تازہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
’یہ ایک ذہنی لڑائی تھی جس کا مقابلہ مجھے کرنا تھا۔ میں ٹک ٹک میں بیٹھ جاتا اور یہ خيال کرتا کہ میں اسے چلا رہا ہوں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔‘
ہفتوں تک جدوجہد کرنے کے بعد راجن نے نومبر کے اوائل میں نتن کے ساتھ گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
’میں نے اس حادثے کی جگہ والے راستے سے گریز کیا۔ لیکن میں سنجو اور نندنی کی عدم موجودگی کو نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔‘
انھوں نے سفر کے دوران محسوس کیا کہ نتن اپنی عمر سے زیادہ پختگی دکھا رہا ہے۔ راجن نے کہا کہ ’وہ پوچھتا رہا کہ میں کیسا ہوں اور مجھے یہ کہتا رہا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اب سنجو اس کی دنیا تھی اور اس کے پاس صرف میں تھا۔‘
’اور میں اب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم تھا کہ اسے وہ سب کچھ دوں گا جو اس کی والدہ چاہتی تھیں۔‘
باپ بیٹے چار دن بعد ممبئی پہنچے۔ ان کا پہلا کام ٹھہرنے کے لیے جگہ کا انتظام کرنا تھا۔
ایک دوست نے انھیں ایک کمرے میں ایک کونا رہنے کو دیا جہاں وہ خود کرائے پر رہتا تھا۔ ممبئی بھیڑ اور مہنگائی کے لیے بدنام ہے اس لیے ایک چھوٹا سا کمرا بھی کرایہ پر لینا اکثر چیلنج ہوتا ہے۔
پہلے کچھ دن سخت تھے۔ راجن کے لیے غم لوٹ آیا تھا کیونکہ وہ ممبئی میں سنجو کے بغیر مستقبل کی جدوجہد کر رہا تھا۔
آخر کار راجن نے ایک کمرہ کرائے پر لیا لیکن وہ گھر نہیں تھا۔ وہ زیادہ تر کمرے میں بند رہتا۔ اس کی ایک وجہ غم سے نجات حاصل کرنا تھا جبکہ دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ کورونا کا خطرہ ابھی کم نہیں ہوا تھا اور وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔
لیکن جو رقم بچائی تھی وہ جلد ہی ختم ہونا شروع ہو گئی اور اسے اپنی ٹک ٹک کے ساتھ واپس سڑک پر جانا پڑا۔ انڈیا میں ہر روز لاکھوں روزانہ مزدوری کرنے والوں کے لیے یہ چارہ کار ہے۔
یہ بھوک اور انفیکشن کے خطرے کے مابین مستقل جنگ ہے۔ لیکن بھوک کا خوف ہمیشہ جیت جاتا ہے۔ گھر میں رہنا عیش و آرام کی بات ہے جو زیادہ تر تارکین وطن مزدور برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRITESH UTTAMCHANDANI
سڑک پر واپس آنے کے پہلے کچھ دن سخت تھے کیونکہ بہت سے لوگ پبلک ٹرانسپورٹ لینے کو تیار نہیں تھے اور ان کی آمدنی معمولی ہو رہی تھی۔
وہ نتن کی آن لائن کلاسز کے لیے بمشکل انتظام کر رہا تھا اور اس پر سے اسے بھی گھر چلانا تھا اور نتن کی دیکھ بھال بھی کرنی پڑتی۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے ’سنجو ہر چیز کا خیال رکھتی۔ مجھے صرف اپنے ٹک ٹک پر سوار ہونا اور پیسہ کمانا تھا۔‘
لیکن اب راجن صبح چھ بجے بیدار ہو جاتا ہے اور اپنے اور نتن کے لیے کھانا پکاتا ہے اور پھر صبح نو بجے آن لائن کلاسز شروع ہونے سے پہلے وہ اپنے بیٹے کو ہوم ورک میں مدد دیتا ہے۔
وہ گھر سے نکلتا ہے اور دوپہر کا کھانا پکانے کے لیے واپس گھر آتا ہے اور پھر شام کو نکل جاتا ہے پھر آدھی رات کو ہی واپسی ہوتی ہے۔
اس کی غیر موجودگی میں پڑوسی نتن کی نگہداشت کرتے ہیں۔
’میں نے اپنا بیشتر وقت مسافروں کے انتظار میں سڑک پر گزارتا ہوں۔ کچھ دن اچھے ہوتے ہیں لیکن کچھ دن ایسے بھی ہیں جب مجھے صرف دو یا تین سواری ہی ملتی ہے۔‘
وہ شدت سے دنیا کو ’دوبارہ معمول‘ پر آنے کی خواہش مند ہیں تاکہ ان کا کام دھندہ چل پڑے۔ کووڈ 19 کی ویکسین کی آمد سے انھیں امید بندھی ہے، لیکن ان کے پاس سوالات بھی ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’کیا مجھ جیسے غریب لوگوں کو بھی یہ ویکسین ملے گی؟ میں اپنی زندگی کو ہر روز خطرہ میں ڈال رہا ہوں۔ مجھے فکر ہے کہ اگر مجھے کووڈ ہو گیا تو میرے بیٹے کا کیا حال ہو گا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ کوئی مجھ جیسے غریب لوگوں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ انھوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے سے پہلے بھی ہم لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا۔‘
’اگر انھوں نے سوچا ہوتا تو آج میری سنجو اور نندنی زندہ ہوتیں۔‘









