انڈیا میں لاک ڈاؤن: جھارکھنڈ کے مزدور ہوائی جہاز پر گھر پہنچے

جھارکھنڈ

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH/BBC

،تصویر کا کیپشنسوا دو گھنٹے بعد یہ لوگ رانچی کے برسا منڈا ہوائی اڈے پہنچے
    • مصنف, روی پرکاش
    • عہدہ, رانچی سے بی بی سی ہندی کے لیے

انڈیا میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے گزشتہ دو ماہ قبل جب حکومت کی جانب سے اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہوگئی تو بڑے شہروں اور مختلف ریاستوں میں کام کرنے والے مزدور اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے پیدل ہی نکل پڑے۔

اس دوران روتے بلکتے، بے یارو مدد گار مزدوروں، بچوں کی ہولناک تصاویر منظر عام پر آئیں۔ ان میں سے کئی مزدوروں کی راستے میں ہی موت بھی ہو گئی۔

دو ماہ بعد ابھی تک متعدد مزدور اپنے گھر پہنچنے کی کوشش میں ہیں حالانکہ اب تمام تنقید کے بعد ان مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینیں اور بسوں کو چلا دیا گیا ہے۔ لیکن ان میں ٹکٹ کی رقم، ٹکٹوں کے حصول اور ٹرینوں میں بدانتظامی کی خبریں آرہی ہیں۔ ایسے میں ان مایوس کن خبروں میں ایک دلچسپ خبر ریاست جھارکھنڈ سے آئی ہے۔

رانچی کے برسا منڈا ہوائی اڈے پر جمعرات کو ممبئی سے واپس لوٹنے والے غریب مزدوروں کے بعض مسکراتے چہرے دیکھائی دیے۔ یہ وہ مزدور ہیں جو ممبئی میں کام کرتے ہیں اور لاک ڈاؤن کے بعد کام بند ہونے کی وجہ سے واپس ایک خصوصی ہوائی جہاز سے رانچی پہنچے ہیں۔

جھارکھنڈ کے یہ 174 مزدور جمعرات کی صبح ممبئی کے چھترپتی شواجی انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے جہاز پر سوار ہوئے تھے۔ سوا دو گھنٹے بعد یہ لوگ رانچی کے برسا منڈا ہوائی اڈے پہنچے۔

ان مزدوروں میں سے بعض نے پیروں میں چپلیں بھی نہیں پہنی ہوئی تھیں۔ ان میں سے بیشتر پہلی بار ہوائی جہاز پر سوار ہوئے تھے۔ یہ مزدور ریاست کے گڑھوا، ہزاری باغ، رانچی اضلاع کے رہنے والے ہیں۔ بعض مزدور اکیلے اپنے گھر واپس آئے ہیں، بعض کے ساتھ ان کا خاندان بھی آیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

دلچسپ بات یہ ہے ان میں بیشتر افراد ایسے ہیں جن کو اپنے گھر واپس آنے کے لیے ٹرین کا ٹکٹ نہیں مل پا رہا تھا اور اب وہ جہاز پر آئے ہیں۔ اس خصوصی پرواز کا خرچ بنگلور میں واقع نیشنل لا سکول کے پرانے طالب علموں نے اٹھایا ہے اور ابھی وہ مزید اس طرح کی پروازوں کا انتظام کررہے ہیں۔

گھر واپس لوٹنے کی خوشی

ممبئی سے اپنے گھر پہنچنے پر ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سرین نے انھیں مبارکباد دی ہے۔

وزیر اعلی کا کہنا تھا ’نیشنل لا سکول کے سابق سٹوڈینٹس کی مدد اور جھارکھنڈ کے حکومتی اہلکاروں کی ملی جلی کوشش سے یہ مزدور خیریت کے ساتھ اپنے گھر پہنچ سکے ہیں۔ اس نیک کام کے لیے میں نیشنل لا سکول کے الومینائی کا شکرگزار ہوں۔ آپ کو دیکھ کے دیگر ادارے بھی مدد کا ہاتھ بڑھائیں گے۔‘

اس جہاز پر سوار ہونے والوں میں گڑھوا ضلع کے سنجے کمار چودھری بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا ’مجھے گھر لوٹنے کی بے حد خوشی ہے۔ مجھے رجسٹریشن کرانے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس کے دو دن بعد ہی بتایا گیا کہ ایک جہاز 28 مئی کی صبح ممبئی سے رانچی جائے گا۔ میرا نام بھی اس جہاز پر سوار ہونے والے مسافروں کی فہرست میں تھا۔ اس وقت تو مجھے یقین نہیں ہوا لیکن اب گھر آ گیا ہوں۔ ایک آپریٹر ہوں۔ اس سے قبل میں نے کبھی جہاز پر سفر نہیں کیا تھا۔ اس لیے یہ بات پوری زندگی یاد رہے گی۔‘

اسی جہاز پر سفر کرنے والی میری کا بھی اپنی زندگی کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔

جھارکھنڈ

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH/BBC

،تصویر کا کیپشنواپس آنے والے مزدوروں میں خواتین بھی شامل ہیں

انھوں نے بتایا ’میں ان سب لوگوں کی شکرگزار ہوں جن کی مدد سے ہماری گھر واپسی ممکن ہوسکی ہے۔ ہم لوگ مایوس ہو چکے تھے کیونکہ ممبئی سے جھارکھنڈ جانے والی ٹرینیں بند ہیں۔ جب جہاز سے جانے کے بارے معلوم ہوا تو لوگوں کو لگا کہ مذاق ہے لیکن یہ مذاق نہیں تھا۔ ہم اپنی سرزمین پر آگئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پردیس میں ہم سب اکیلے تھے۔‘

جھارکھنڈ حکومت کی کوشش

رانچی ائیرپورٹ پر سبھی مسافروں کی سکریننگ کرنے کے بعد خصوصی بسوں سے ان کے اضلاع تک روانہ کیا گیا۔ ائیرپورٹ پر ان کے لیے ناشتے اور پانی کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ بسوں کو سینیٹائز کر کے تیار رکھا گیا تھا۔

اس سے پہلے جھارکھنڈ حکومت نے وزرات داخلہ کو درخواست دی تھی کہ حکومت اسے اپنے مزدوروں کو واپس لانے کے لیے چارٹرڈ فلائٹس چلانے کی اجازت دے۔

ایک ریاستی اہلکار نے شناخت نہ ظاہرکرنے کی شر ط پر بتایا کہ یہ کام آخری مرحلے میں ہے۔ ممکن ہے کہ اسی ہفتے یا کل بعض چارٹرڈ پروازیں چلانے کی اجازت مل جائے۔ یہ ملک کی پہلی ریاست ہو گی جو مزدروں کو ہوائی جہاز کے ذریعے واپس لے کر آئیں گے۔

جھارکھنڈ

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH/BBC

،تصویر کا کیپشنان مزدوروں میں سے بعض نے پیروں میں چپلیں بھی نہیں پہنی ہوئی تھیں

پہلی ٹرین بھی جھارکھنڈ آئی تھی

یکم مئی کو مزدور ڈے پر ریاست تیلنگانہ کے لنگم پلی ریلوے سٹیشن سے جھارکھنڈ کے ہٹیہ تک آنے والی خصوصی ٹرین بھی ملک کی پہلی ایسی ٹرین تھی جو لاک ڈاؤن کے دوران چلی تھی۔

اس ٹرین کے چلنے کے بعد ہی ریلوے کی وزارت نے مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خصوصی ٹرین سے تقریباً 1200 مزدور جھارکھنڈ واپس لوٹے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ٹرین کے چلائے جانے پر کافی سیاست ہوئی تھی۔

ہوسکتا ہے کہ یہ محض ایک اتفاق ہو لیکن ایک ایسا اتفاق جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گ۔ مزدوروں کو گھر واپس لانے کے لیے پہلی ٹرین اور پہلی چارٹرڈ فلائٹ جھارکھنڈ کے مزدوروں کے لیے چلائی گئی ہے۔