ویلنٹائن ڈے: کورونا کی وبا نے انڈیا میں محبت کا بازار کیسے بدل دیا؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, پرینکا جھا
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

محبت کے اس مہینے یعنی فروری میں عمومی طور پر دکھائی دینے والی ہلچل مٹ گئی ہے۔ پہلے کورونا کی وبا کا خوف اور پھر دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ رہنے والے لوگ اپنے چاہنے والوں کو کھو دینے کے بعد اس غم سے باہر آنے کی جدوجہد سے گزر رہے ہیں۔

یہ جدوجہد ہم سب کی ہے اور ہمارے اردگرد کے ان لوگوں کی بھی جو محبت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن جو تمام تر کوششوں کے بعد بھی لاک ڈاؤن کے جھٹکے سے نہیں نکل پاتے۔

درحقیقت سڑک کے کنارے پھولوں کو خوبصورت گلدستوں، چھوٹی بیکریوں اور چاکلیٹ اور گفٹ کی شکل دے کر بیچنے والے دکاندار کورونا کی وبا آنے سے پہلے ہی ای کامرس کی دنیا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اور پھر پچھلے دو سال سے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں نے ان لوگوں کے کاروبار کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ ہجوم میں جانا پسند نہیں کر رہے اور اس کا براہ راست اثر ان لوگوں پر پڑ رہا ہے جو اپنی دکانیں سجا کر گاہکوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا نوجوانوں نے ویلنٹائنز ڈے پر تحائف خریدنے بند کر دیے ہیں؟

عشق کا بازار کیسے بدل گیا؟

درحقیقت لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی آف لائن یعنی حقیقی زندگی میں شاپنگ میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بہار کے دربھنگہ ضلع میں رہنے والی 19 سالہ طالبہ نکیتا نکیتا وہاں کے ایک کالج سے انگلش آنرز کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ پچھلے سال انھوں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اپنے دوست کو آن لائن تحفہ بھیجا گیا کیونکہ وہ خود کہیں اور تھیں۔

'لیکن اس بار بھی میں آن لائن خریدوں گی۔ آن لائن خریدنا باہر جانے سے بہتر ہے اور اس سے زیادہ ورائٹی ملتی ہے۔'

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم کچھ لوگ اب بھی آن لائن شاپنگ کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتے اور انھیں تحفہ خریدنے کی خوشی اس وقت تک نہیں ملتی جب تک کہ اپنے سامنے والی چیز نہ خرید لیں۔

نیہا بھی ان جیسے لوگوں میں سے ہیں۔ دہلی میں رہنے والی نیہا کی منگنی ہو چکی ہے اور وہ ویلنٹائن ڈے پر اپنی منگیتر کو کچھ خاص تحفہ دینا چاہتی ہیں۔

لیکن گذشتہ سال دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والی نیہا نے آن لائن شاپنگ میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

'میں اپنے منگیتر کے لیے کچھ آف لائن خریدوں گی۔ آن لائن ہم صرف چیزیں خرید سکتے ہیں۔ اسے محسوس نہیں کر سکتے۔ اب کون جانتا ہے کہ چیزیں اصل میں کیسی ہوں گی۔ آن لائن رہنے سے بہتر ہے کہ اس دن مزہ کریں، دکان پر جائیں، اور اپنی پسند کی کوئی چیز خرید لیں۔'

نیہا نے کہا کہ وہ پچھلے دو سالوں سے گھر میں بند ہیں اور اب جب کہ حالات کچھ معمول کے ہوئے ہیں تو وہ گھر سے نکل کر اپنی اور اپنے منگیتر کی پسند کے مطابق چیزیں خریدنا چاہتی ہیں۔

پھولوں کا کاروبار

کورونا کی وجہ سے ان دنوں پھولوں کا کاروبار بھی اچھا نہیں چل رہا۔ دہلی کے چترنجن پارک میں پھولوں کی دکان چلانے والے 22 سالہ رنجن داس کہتے ہیں کہ انھوں نے 2017 میں اپنی دکان کھولی تھی لیکن کورونا آیا اور کام بالکل بند ہو گیا۔

'میں نے دکان بند کر دی تھی۔ اب آٹھ ماہ بعد دوبارہ پھول کھلے ہیں۔'

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رنجن داس، جو اصل میں کولکتہ کے رہنے والے ہیں، نے بتایا کہ جو کام ہو رہا ہے وہ بھی 'جسٹ ڈائل' (JustDial) جیسے آن لائن پلیٹ فارم پر رجسٹر ہونے کی وجہ سے ہے۔

'زیادہ تر کام آن لائن ہو رہا ہے۔ میں جسٹ ڈائل پر رجسٹرڈ ہوں۔ وہاں سے کام ہو جاتا ہے۔ کوئی بڑی تقریب نہیں ہو رہی۔ روز ڈے پر بھی صرف پانچ، چھ آرڈر ملتے ہیں۔ پتہ نہیں اس سال ویلنٹائن ڈے پر کیا ہوگا؟'

کشور کمار شرما مشرقی دہلی میں گذشتہ 20 سالوں سے گفٹ شاپ چلا رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔

'پہلے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر دکان پر کافی بھیڑ ہوتی تھی اور بہت زیادہ کام ہوتا تھا۔ پچھلے دو سالوں سے ایسا نہیں ہے۔ میں آن لائن سامان نہیں بیچتا، لیکن پرانے گاہک بھی واٹس ایپ کے ذریعے آرڈر دیتے ہیں۔ ہاں، دکان پر آنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔'

کیا دکانوں پر بھیڑ کم ہونے کی کوئی اور وجہ ہے؟

کورونا کے اثرات کے ساتھ ساتھ ای کامرس کی تیزی بھی دکانوں پر کم ہوتی بھیڑ کی وجہ ہے اور اعداد و شمار اس کی گواہی دیتے ہیں۔

انڈیا برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن کا گذشتہ سال دسمبر میں ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا میں ای کامرس نے ہمارے کاروبار کے طریقے کو بدل دیا ہے۔

انڈین ای کامرس مارکیٹ کو توقع ہے کہ سال 2025 تک اس کا حجم 111 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے اور 2030 تک 350 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہےآ

لیکن سال 2020 میں اس کا حجم 46.2 بلین ڈالر ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق انڈیا دنیا بھر میں ای کامرس کے لیے آٹھویں سب سے بڑی مارکیٹ بن گیا ہےاور اس نے فرانس، کینیڈا جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

کنسلٹنگ فرم بین اینڈ کمپنی نے گذشتہ سال لاک ڈاؤن اٹھائے جانے کے بعد ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ دو ماہ کی پابندیوں کے باوجود مالی سال 2020-21 میں انڈین ای ریٹیل مارکیٹ میں کس طرح 25 فیصد اضافہ ہوا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetr

اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے آٹھ میٹرو شہروں میں آن لائن شاپنگ بہت عام ہو چکی ہے اور یہاں ہر تین میں سے ایک شخص سال میں کم از کم ایک بار آن لائن خریداری کرتا ہے۔

ای کامرس کی بڑی کمپنیاں اس تبدیل ہوتے ہوئے رجحان پر کیا کہتی ہیں؟

ویلنٹائن ویک میں فروخت کے حوالے سے ای کامرس ویب سائٹ فلپ کارٹ سے جب سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے چھوٹے دکانداروں کو فروغ دینے کے لیے گذشتہ سال 'شاپسی' (Shopsy) ے نام سے ایک ایپ شروع کی تھی اور لوگ فلپ کارٹ کی طرح اس ایپ پر بھی خریداری کر سکتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ ویلنٹائنز کے ہفتے میں اب تک ایپ پر ٹریفک ڈیڑھ گنا بڑھ چکی ہے اور اس عرصے میں پھول، انگوٹھیاں، جوڑے، ٹی شرٹس، کھلونے اور فیشن کے لوازمات اس ہفتے میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے آئٹم ہیں۔

دوسری جانب ایمیزون کمپنی بھی ویلنٹائن ویک میں اپنے صارفین کو چاکلیٹ سے لے کر تازہ پھولوں اور تحائف تک مختلف قسم کے تحائف خریدنے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے ایک 'ون اسٹاپ ڈیسٹینیشن' بھی پیش کر رہا ہے۔

ایمیزون سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ویلنٹائن ڈے کے لیے خصوصی طور پر ایسا آن لائن اسٹور بنایا گیا ہے جہاں صارف ہر چیز کو ایک ہی جگہ پر حاصل کرسکتا ہے، چاہے وہ پھول ہوں، بیوٹی پراڈکٹس ہوں، اسمارٹ فونز ہوں یا چاکلیٹ ہوں۔

انڈیا میں 30 سال قبل ہونے والی معاشی پالیسی کی تبدیلی کا ویلنٹائن ڈے پر اثر

ویلنٹائن ڈے ہر سال 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن کے اعزاز میں منایا جاتا ہے لیکن انڈیا میں محبت کے اس تہوار نے 1992 کے آس پاس نوجوانوں کی توجہ حاصل کی۔

بہت سی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس وقت ملکی معیشت میں لبرلائزیشن کی وجہ سے بھی ہندوستان میں ویلنٹائن ڈے کو پنپنے میں مدد ملی اور میڈیا نے بھی اسے بہت زیادہ گلیمرائز کیا۔

پچھلے 15 سالوں میں ویلنٹائن ڈے ریستوراں، پب، بار، کلب کے ساتھ ساتھ کارڈ، چاکلیٹ بنانے والی کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کا موقع بن گیا ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGbet

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

سٹارٹ اپ ٹاکی نامی تحقیقی ویب سائٹ پر ملنے والے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2019 میں، یعنی کورونا سے ٹھیک پہلے، گذشتہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر انڈیا سے 30 کروڑ روپے مالیت کے گلاب کے پھول برآمد کیے گئے تھے۔

انڈین سوسائٹی آف فلوریکلچر پروفیشنلز (آئی ایس ایف پی) کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں ویلنٹائن ڈے پر انڈیا سے 23 کروڑ روپے اور 2017 میں 17 کروڑ روپے کے گلاب برآمد کیے گئے۔

سال 2019 میں ویلنٹائن ڈے پر ای کامرس ویب سائٹس کی فروخت بھی 20 سے 30 کروڑ کے لگ بھگ تھی۔

ایک اور تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ای کامرس ویب سائٹس پر بھاری رعایت اور مختلف قسم کی مصنوعات حاصل کرنے کی سہولت اور 24 گھنٹے ہوم ڈیلیوری نے قدرے چھوٹے شہروں میں رہنے والے صارفین کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

ای کامرس ویب سائٹ صارفین کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہے اور سات دن یعنی دکان بند کرنے کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمپنیاں اس طرح اشتہارات دیتی ہیں کہ ویلنٹائن ڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے صارفین بھی جلدی میں غیر ضروری اشیاء خریدتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم سے چھ فروری کے درمیان ای کامرس ویب سائٹس پر خریداری میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے اور ان خریداروں میں مردوں کے مقابلے خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔