’چیف جسٹس کی معزولی درست تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق صدر پرویز مشرف نے دو برس قبل نو مارچ کواس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجنے اور انہیں معزول کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس ضمن میں درست فیصلے کئے لیکن ان پر عملدرآمد میں انتظامیہ کی مبینہ کوتاہی کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ اپنی رہائشگاہ پر چند روز قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ معزول چیف جسٹس کے خلاف انکا ریفرنس بلکل درست اور آئین کے مطابق تھا۔ ’لیکن اس پولیس والے کو میں نے تو نہیں کہا تھا کہ چوہدری صاحب کے بال پکڑ کر کھینچے یا کابینہ ڈویژن کو میں نے تو حکم نہیں دیا تھا کہ اسی دن ان کے گھر سے ساری گاڑیاں اٹھوا لیں۔‘ پرویز مشرف دو برس قبل بری فوج کے سربراہ کے طور پر ایک مضبوط صدر مانے جاتے تھے لیکن نو مارچ کے فیصلے کے بارے میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے نے انکی کرسی کو ہلا دیا۔ پرویز مشرف نے تسلیم کیا کہ اس فیصلے کے بعد جو پے در پے واقعات ہوئے انہوں نے انکی شہرت کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا۔ ’لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ریفرنس بھینجے کا فصیلہ غلط تھا، تو میں کہنا چاہوں گا کہ یہ فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد لیا گیا تھا اور اس پر مجھے کوئی پشیمانی نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں چیف جسٹس کے بارے میں جو الزامات لگائے گئے تھے انکے دستاویزی ثبوت بھی ساتھ ہی موجود تھے۔ تاہم انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے بارے میں کہا کہ وہ اس سارے معاملے کو ’خراب‘ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ’جج موصوف نے سپریم جوڈیشل کونسل کو فیصلہ کرنے دینے کے بجائے اس ریفرنس کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے پیش کر دیا۔‘ پرویز مشرف نے کہا کہ یہ ایک غیر قانونی فعل تھا جسکی سپریم کورٹ میں کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔ ’آئینی طور پر سپریم کورٹ کے جج کے خلاف جو بھی ریفرنس آئیگا اسکا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کرنا ہے۔ اب یہ کیس بنچ کے سامنے کیسے چلا گیا، یہ بات بہت عجیب ہے۔‘ سابق صدر نے کہا کہ سٹیل مل کی نجکاری کے خلاف جسٹس افتخار کے اقدام کا انکی معزولی سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ ’لیکن میں نے نجکاری کے خلاف لگنے والے بد عنوانی کے معاملات کی خفیہ طور پر پوری چھان بین کروائی تھی اور اس میں کسی قسم کی بے قاعدگی سامنے نہیں آئی۔ اس بارے میں سارے الزام محض قیاس آرائیاں ہیں۔‘ | اسی بارے میں وکلاء گروپ بندی کا شکار09 January, 2009 | پاکستان ’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘01 February, 2009 | پاکستان آج بھی غیر سیاسی ہوں: چودھری07 February, 2009 | پاکستان وکلا لانگ مارچ کی تاریخیں تبدیل06 February, 2009 | پاکستان 144: لانگ مارچ روکنے کی کوشش08 February, 2009 | پاکستان ’دھرنے میں ن لیگ شرکت کرے گی‘21 February, 2009 | پاکستان لانگ مارچ کے لیے ضابطۂ اخلاق21 February, 2009 | پاکستان صدر پر کسی کو اعتبار نہیں: شہباز05 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||