BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 February, 2009, 02:02 GMT 07:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دھرنے میں ن لیگ شرکت کرے گی‘

نواز شریف
’ججوں کی بحالی کے لیے تحریک کا آغاز کیا گیا اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں تھی لیکن جمہوریت آنے کے بعد آج بھی عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری ہے‘
مسلم لیگ(ن) نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے آئندہ ماہ ہونے والے لانگ مارچ کےبعد شاہراہ دستور پر دیئے جانے والے دھرنے میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ اعلان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے جمعہ کی رات وکیل رہنماؤں کے بارہ رکنی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے دیگر وکیل رہنماؤں کے ہمراہ نواز شریف سمیت مسلم لیگ کی قیادت سے ملاقات کی اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ اور دھرنا دینے کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رائیگاں نہیں جائے گی
 پہلی بار عدلیہ اس آمر کے سامنے کھڑی ہوئی ہے جس نے آئین کو پامال کیا ہے۔ ججوں کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی اس تحریک کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا
نواز شریف
وکلاء کے وفد میں اعتزاز احسن، حامد خان، منیر اے ملک، طارق محمود، اطہر من اللہ، حافظ عبدالرحمن انصاری، شوکت عمر پیرزادہ، انور کمال اور رانا اسد اللہ خان سمیت دیگر وکیل رہنما شامل تھے جبکہ اس ملاقات میں مسلم لیگ ن کی طرف سے وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف، سید غوث علی شاہ، اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور احسن اقبال موجود تھے۔

تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں نواز شریف نے کہا کہ پہلی مرتبہ ملک کی عدلیہ اس آمر کے سامنے کھڑی ہوئی ہے جس نے آئین کو پامال کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی اس تحریک کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

نواز شریف نے کہاکہ جب وکیلوں نے ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو اسی وقت اس فیصلے پر لبیک کہا تھا۔ انہوں نے کا واضح کیا کہ وکلاء کی طرف سے دھرنے کے لیے فیصلہ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ دھرنے سے ایک قدم آگے جانے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اس بات روز دیا کہ ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کے بعد جو دھرنا دیا جائے وہ نیتجہ خیز ہو۔ان کا کہنا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر لانگ مارچ اور دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے کی تفیصلات طے کرلیں گے۔

دھرنا کب تک
 سولہ مارچ کو اس وقت تک دھرنا دیا جائے جب تک معزول جج بحال نہیں ہوتے۔ مسلم لیگ نون پہلے دن سے وکلاء کا ساتھ دے رہی ہے
علی احمد کرد
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دو سال پہلے جب ججوں کی بحالی کے لیے تحریک کا آغاز کیا گیا اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں تھی لیکن جمہوریت آنے کے بعد آج بھی عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ججوں کی بحالی کی تحریک میں شامل تھے وہ آج اس کام کو کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے لیے وہ جدوجہد کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دکھ اس بات ہے کہ جو وعدے کیےگئے وہ آج پورے نہیں کیے اور سب خواب چکنا چور ہوگئے۔

ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ ملاقات میں انہوں نے وکلا رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ تمام لانگ مارچ کے لیے وکیلوں کو لاہور میں اکٹھا کیا جائے جس کے بعد وکیل یہاں سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کریں ۔

پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد نے کہا کہ سولہ مارچ کو اس وقت تک دھرنا دیا جائے جب تک معزول جج بحال نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون پہلے دن سے وکلاء کا ساتھ دے رہی ہے۔

علی احمد کرد نے بتایا کہ وکلا رہنما آج جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد سے ملاقات کریں گے۔

ادھر مسلم لیگ نون کی سینٹرل کونسل کا اجلاس بھی آج ہو رہا ہے جس میں قبائلی علاقوں کی صورت حال اور پارٹی کی تنظیم نو سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
144: لانگ مارچ روکنے کی کوشش
08 February, 2009 | پاکستان
آج بھی غیر سیاسی ہوں: چودھری
07 February, 2009 | پاکستان
’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘
01 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد