’دھرنے میں ن لیگ شرکت کرے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ(ن) نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے آئندہ ماہ ہونے والے لانگ مارچ کےبعد شاہراہ دستور پر دیئے جانے والے دھرنے میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے جمعہ کی رات وکیل رہنماؤں کے بارہ رکنی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے دیگر وکیل رہنماؤں کے ہمراہ نواز شریف سمیت مسلم لیگ کی قیادت سے ملاقات کی اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ اور دھرنا دینے کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں نواز شریف نے کہا کہ پہلی مرتبہ ملک کی عدلیہ اس آمر کے سامنے کھڑی ہوئی ہے جس نے آئین کو پامال کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی اس تحریک کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ نواز شریف نے کہاکہ جب وکیلوں نے ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو اسی وقت اس فیصلے پر لبیک کہا تھا۔ انہوں نے کا واضح کیا کہ وکلاء کی طرف سے دھرنے کے لیے فیصلہ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ دھرنے سے ایک قدم آگے جانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس بات روز دیا کہ ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کے بعد جو دھرنا دیا جائے وہ نیتجہ خیز ہو۔ان کا کہنا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر لانگ مارچ اور دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے کی تفیصلات طے کرلیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ججوں کی بحالی کی تحریک میں شامل تھے وہ آج اس کام کو کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے لیے وہ جدوجہد کر رہے تھے۔ ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ ملاقات میں انہوں نے وکلا رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ تمام لانگ مارچ کے لیے وکیلوں کو لاہور میں اکٹھا کیا جائے جس کے بعد وکیل یہاں سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کریں ۔ پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد نے کہا کہ سولہ مارچ کو اس وقت تک دھرنا دیا جائے جب تک معزول جج بحال نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون پہلے دن سے وکلاء کا ساتھ دے رہی ہے۔ علی احمد کرد نے بتایا کہ وکلا رہنما آج جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد سے ملاقات کریں گے۔ ادھر مسلم لیگ نون کی سینٹرل کونسل کا اجلاس بھی آج ہو رہا ہے جس میں قبائلی علاقوں کی صورت حال اور پارٹی کی تنظیم نو سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’سوات امن عدل کی فراہمی سے آیا‘18 February, 2009 | پاکستان اسلام آباد، دفعہ 144اٹھانے کی اپیل12 February, 2009 | پاکستان 144: لانگ مارچ روکنے کی کوشش08 February, 2009 | پاکستان آج بھی غیر سیاسی ہوں: چودھری07 February, 2009 | پاکستان ’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘01 February, 2009 | پاکستان کوریج پر پابندی، بار کا احتجاج23 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||