اسلام آباد، دفعہ 144اٹھانے کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے شریک چئرمین سید اقبال حیدر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اسلام آباد میں لگائی جانے والی دفعہ ایک سو چوالیس کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے یہ اپیل جمعرات کو وکیلوں کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ سید اقبال حیدر نے دارالحکومت میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کی مذمت کی اور حکومت کو باور کرایا کہ یہ دفعہ وکلا کے اسلام آباد آنے والے قافلوں کو نہیں روک سکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت کے تحت سترہویں ترمیم کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے کی جانے والی دیگر ترامیم کو ختم کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولہ فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ ہوا ہے جس میں بقول ان کے آئین میں ترامیم کے لیے پیکیج پیش کیا جائے گا۔ سید اقبال حیدر نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے کہا کہ وہ سترہویں ترمیم سمیت جنرل مشرف کی دیگر ترمیم کو بھی ختم کریں۔ ان کے بقول اگر وزیر اعظم نے ان ترامیم کو ختم نہ کیا تو وہ بینظر بھٹو کے بجائے مشرف کے وارث ہونگے۔ ان کاکہنا ہے کہ میثاق جمہوریت پر مئی سنہ دو ہزار چھ میں دستخط کیے گئے تھے اس لیے تین نومبر کو اعلیْ عدلیہ کے جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا انہوں نے میثاق جمہوریت کی پاسداری کی جبکہ تین نومبر حلف اٹھانے والوں نے اس کی نفی کی ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میثاق جمہوریت کے مندرجات معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول حکومت کی طرف سے امریکیوں کو پاکستانی اعزاز سے نوازنا خود پاکستان کے اعزاز کی توہین ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد اور موثر عدلیہ کے بغیر جمہوریت مکمل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وکلا تحریک ملک بچاؤ تحریک ہے۔ ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے وکیلوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تحریک کے دوران سیاسی جماعتوں سے دوری اختیار نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت وکلا اور سیاسی جماعتوں کو دور کیا جارہا ہے تاکہ وکیل تنہا ہوجائیں۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت وکلا کے ساتھ لانگ مارچ کے بعد شاہراہ دستور پر دھرنا دے گی۔ انہوں نے یہ بتایا کہ وہ یہ بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ دھرنے کی صورت میں جج بحال نہ ہونے پر کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔ وکیلوں نے بارایسوسی ایشنوں کے اجلاسوں کے بعد جلوس نکالا جو ایوان عدل یعنی لاہور کی ضلعی بار سے شروع ہوا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ کر ختم ہوگیا۔ جلوس میں سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیل بھی شامل ہوئے۔ | اسی بارے میں ’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘01 February, 2009 | پاکستان بارکونسل نےآئینی ترامیم مستردکردیں23 June, 2008 | پاکستان انٹرنیشنل لائیرز کنونشن کا اعلان21 June, 2008 | پاکستان اے پی ڈی ایم: پیش رفت نہیں ہوئی19 June, 2008 | پاکستان پی بی سی: مجوزہ آئینی پیکج نامنظور16 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میڈیا کی نظرسے14 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات14 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||