144: لانگ مارچ روکنے کی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی ایشیائی تنظیم نے اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت اجتماعات اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر پابندی کو وکلاء کا لانگ مارچ روکنے کی غیر قانونی کوشش قرار دیا ہے۔ وکیل رہنماؤں نے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں لانگ مارچ اور انتہائی سیکورٹی والے علاقے ریڈ زون میں واقع شاہراہ دستور پر ججوں کی بحالی تک دھرنا دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جسکے تحت شہر میں وال چاکنگ اور ہر قسم کے جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دریں اثناء بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وکلاء تحریک کے اہم رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ دفعہ ایک سو چوالیس حکومت کو وکلاء مارچ روکنے کا قانونی جواز تو فراہم کرتی ہے لیکن اخلاقی نہیں۔ انہوں نے کہا’ہم آئین کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آئین کو قانون پر ہمیشہ فوقیت حاصل ہوتی ہے اس لیے لانگ مارچ ضرور ہوگا اور اس قانون کی خلاف ورزی بھی کی جائیگی‘۔ ایشین ہیومن رائٹس کونسل نے ہانگ کانگ میں اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانوی سامراجی دور کی اس قانونی دفعہ کا نفاذ وکلاء کے پر امن مارچ اور دھرنے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ تنظیم کے مطابق ’اس انتظامی حکم کی آڑ لیکر اسلام آباد حکومت وکلاء کے خلاف طاقت کے استعمال کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس پرامن مارچ کے دوران بہنے والے خون کی ذمہ دار حکومت ہو گی‘۔ تنظیم کے ماہرین کے مطابق حکومت بارہ مارچ کو ہونے والے وکلاء مارچ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کیونکہ یہ وکلاء عدلیہ کو دو نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر بحال کرنے اور فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں کیے گئے’غیر آئینی‘ اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق برطانوی دور میں متعارف کرائے گئے اس انتظامی قانون کا مقصد قومی اجمتاعات اور احتجاج کو منعقد ہونے سے پہلے روکنا اور اس دوران طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا ہے۔ تنظیم کے قانونی ماہر چنمائی پرساد کہتے ہیں کہ ’یہ قانون بہت پر اثر ہے لیکن اسکے نفاذ کے ذمہ دار میجسٹریٹ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہر شہری کو اپنے جذبات کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے‘۔ انکا کہنا ہے کہ اس قانون کی آڑ لیکر جذبات کے اظہار کے لیے ہونے والے پر امن مظاہرے کوروکنا غیر قانونی فعل ہے۔ تنظیم کے مطابق دنیا کا کوئی قانون اظہار رائے اور دیگر شہری آزادیوں کو صلب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ | اسی بارے میں ’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘01 February, 2009 | پاکستان دوبارہ لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان02 July, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ، خود کش حملہ آورگرفتار‘17 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے مقاصدپورے:اعتزاز16 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میڈیا کی نظرسے14 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات14 June, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ‘: نمبروں کا کھیل13 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میں لال بینڈ12 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||