BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 March, 2009, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر پر کسی کو اعتبار نہیں: شہباز

گیلانی ، زرداری
سابق وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمہوریت کو بچانے کے اپنا کردار ادا کریں گے
مسلم لیگ نون کے صدر اور سابق وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمہوریت کو بچانے کے اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے یہ مطالبہ جمعرات کو لاہور کی ضلعی بار میں وکیلوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نظام کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں کیونکہ عوام کو صدر آصف علی زرداری پر بقول ان کے اعتبار نہیں ہے۔

انہوں نے آصف زرداری پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ صدر زرداری نے جو وعدے اور معاہدے کیے انہیں اپنی صدارت کے لیے استعمال کیا اور صدر بننے کے بعد ان معاہدوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی خان اور نواب اسلم ریئسانی ان کے لیے قابل احترام ہیں جو صدر زرداری سے ملاقات کے بعد مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ صدر آصف زرداری اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔

مسلم لیگ نون کے صدر نے کہا کہ اگر آصف زرداری نے اپنا وطیرہ نہ بدلا تو تاریخ انہیں کوڑے دان میں ڈال دے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ابھی وقت ہے صدر زرداری ہوش کے ناخن لیں اور ججوں کو بحال کریں، سترہویں ترمیم کو ختم کیا جائے جبکہ پنجاب میں صورت حال پچیس فروری والی حالت میں واپس لائی جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ہی شاید قوم ان کی وعدہ خلافی کو معاف کر سکے گی اور بقول ان کے اس طرح صدر زرداری اپنی وعدہ خلافی کا کچھ تاوان ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آصف زرداری نے اپنے فریب اور چکر پالیسی نہ چھوڑے تو لانگ مارچ اس پالیسی کو بہا لے جائے گا اور معزول ججوں کو بحال کرا کے ہی دم لے گا۔

اس طرح انصاف کا خون ہوتا
 عہدوں کی خواہش ہوتی تو آصف زرداری کی پیشکش قبول کرلیتے ہیں اور وزارت اعلیْ پر بیٹھے ہوتے لیکن اس طرح انصاف کا خون ہوتا جو انہیں کسی صورت منظور نہیں ہے
شہباز شریف

شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران وکیلوں کو آصف علی زرداری کے خلاف غیر مہذب نعرے لگانے سے روک دیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ غیر مہذب نعرے لگائیں گے تو وہ خطاب نہیں کریں گے۔

مسلم لیگ نون کے صدر نے واضح کیا کہ اگر انہیں عہدوں کی خواہش ہوتی تو آصف زرداری کی پیشکش قبول کرلیتے ہیں اور وزارت اعلیْ پر بیٹھے ہوتے لیکن اس طرح انصاف کا خون ہوتا جو انہیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔

انہوں نے وکیلوں سے خطاب کرتے ہوئے لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کرنے کی اپیل کی۔ان کا کہنا ہے کہ جب اسلام آباد کی طرف مارچ ہوگا تو کوئی ماں کا لعل جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر معزول ججوں کو ان کی کرسیوں پر بٹھانے سے نہیں روک سکے گا۔

اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے منتخب صدر جسٹس (ریٹائرڈ) ایم اے شاہد صدیقی نے خطاب میں کہا کہ تین نومبر کے آئین سے انحراف کے اقدامات کو اس لیے پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا کیونکہ عوام نے ان اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے جو سیاسی جماعت بھی تین نومبر کے اقدامات کی توثیق کرے گی وہ اپنی موت آپ مرجائے گی۔

شہباز شریف کے خطاب کے بعد وکیلوں نے اپنے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں ریلی نکالی جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے افراد بھی شامل ہوئے۔

وکیلوں کی ریلی مال روڈ سے گزرتے ہوئے پنجاب اسمبلی پہنچی جہاں وکلا رہنماؤں کے خطاب کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

نواز شریف اور آصف زرداری(فائل فوٹو)سیاسی مصالحت
پی پی پی، مسلم لیگ (ن) مصالحت ناممکن نہیں
لیگیوں کا احتجاجقیادت کی نااہلی
لیگیوں کا علامتی اجلاس اور مظاہرہ
اقتدار کا کھیل؟
’خفیہ اطلاعات‘ نے پیپلز پارٹی کو ڈرا دیا
پاکستانی اخبارات تنقید کی زد میں
نااہلی اور گورنر راج پاکستانی اخبارات میں
جنرل اشفاق پرویز کیانیمبصرین کی رائے
’فوج مداخلت کی پوزیشن میں نہیں‘
زرداریوال سٹریٹ جرنل
زرداری نفاق کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد