مصالحت کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیاں دوبارہ مصالحت بظاہر انتہائی مشکل تو ہے مگر اب بھی ناممکن نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی اور سترہویں ترمیم سے کم پر بات نہیں ہوگی۔ ستائیس فروری کو بی بی سی کو لاہور میں دیے گئے ایک انٹرویو میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’اگر میں اس جدوجہد سے پیچھے ہٹتا ہوں تو سول سوسائٹی مجھے جینے نہیں دے گی اور یہ وکلاء برادری مجھے جینے نہیں دے گی‘۔
لیکن بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اعتماد سازی کے لیے کم از کم وفاقی حکومت کو فوری طور پر پنجاب کا گورنر تبدیل کرنے اور صوبے میں گورنر راج ہٹاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ حکومت بنانے کی دعوت دے تو بھی برف پگھل سکتی ہے۔ اس بارے میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اب بھی پرامید ہیں کہ معاملہ بات چیت سے طے پاجائے گا۔ انہوں نے پیر کو فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات میں اپنے اُس عزم کا اعائدہ کیا اور کہا ہے کہ پنجاب میں سیاسی بحران، گورنر راج اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی نا اہلی سمیت تمام قومی اہمیت کے حامل معاملات پر حکومت کی مصالحت اور وسیع تر اتفاق رائے کی پالیسی جاری رہے گی۔ لیکن ایوان صدر کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ مصالحت کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی اور اس کے لیے مسلم لیگ (ن) کو تعاون یا مخالفت دونوں میں سے کسی ایک بات پر کھل کر آنا ہوگا۔
ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح گزشتہ چند روز میں میاں نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں نے صدر آصف علی زرداری پر شدید الفاظ میں تنقید شروع کی ہے ایسے میں بات بنتے نظر نہیں آتی اور فریقین میں تناؤ کم نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اختلافات کم کرنے کی خاطر برطانوی ہائی کمشنر بھی بظاہر سرگرم ہے اور انہوں نے گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔ برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے نے پیر کو وزیراعظم سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن برطانیہ کی خواہش ہے اور وہ توقع کر رہا ہے کہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں بہت جلد اپنے اختلافات پر قابو پالیں گی۔ وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی نے برطانوی ہائی کمشنر کو مصالحت کے بارے میں اپنی کوششوں سے مطلع کیا اور کہا کہ پر امن جلوس نکالنا اور اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہائیڈ پارک کے طرز پر اسلام آباد کے کسی پارک میں احتجاج کے لیے جگہ مختص کرنے کے لیے تجویز زیر غور ہے، تاکہ لوگ مخصوص جگہ پر اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کر سکیں۔ فریقین میں کشیدگی کم کرانے کے لیے اب تک کی سیاسی اور سفارتی کوششوں کے باوجود بظاہر کوئی بڑی پیش رفت تو سامنے نہیں آئی ۔ البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ دونوں جماعتوں نے سخت اختلافات اور کشیدگی کے باوجود بھی بات چیت اور رابطوں کا دروازہ بند نہیں کیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے پیر کو ایمرجنسی میں بہاولپور جا کر میاں شہباز شریف کو صدر آصف علی زرداری کا ایک خاص پیغام پہنچایا ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ نواز شریف سے مشاورت کے بعد اس کا جواب دیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین میں معاملات کو آگے بڑھانے کا دارو مدار ’رئیسانی کے پیغام‘ کا مثبت جواب دینے پر ہے اور اس کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور امریکی سفیر کی شریف برادران سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ | اسی بارے میں قاضی، نواز:مل کر جہدوجہد کا اعلان02 March, 2009 | پاکستان وزیر اعلیٰ رئیسانی اور شہباز ملاقات 02 March, 2009 | پاکستان کسی سے اتحاد نہیں ہو گا: پرویز01 November, 2008 | پاکستان ملک گیر دھرنے کی کال پر ریلیاں27 February, 2009 | پاکستان اسمبلی کے اجلاس میں ہاتھا پائی28 February, 2009 | پاکستان گورنر راج:سپریم کورٹ میں چیلنج28 February, 2009 | پاکستان شریف برادران، نااہلی افسوسناک02 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||