BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 March, 2009, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصالحت کی کوششیں

نواز شریف اور آصف زرداری(فائل فوٹو)
ججوں کی بحالی اور سترہویں ترمیم کے خاتمے سمیت جمہوری ایجنڈے پر عمل کے لیے اقدامات کریں تو مصالحت خود بخود ہوجائے گی:نواز
پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیاں دوبارہ مصالحت بظاہر انتہائی مشکل تو ہے مگر اب بھی ناممکن نہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی اور سترہویں ترمیم سے کم پر بات نہیں ہوگی۔ ستائیس فروری کو بی بی سی کو لاہور میں دیے گئے ایک انٹرویو میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’اگر میں اس جدوجہد سے پیچھے ہٹتا ہوں تو سول سوسائٹی مجھے جینے نہیں دے گی اور یہ وکلاء برادری مجھے جینے نہیں دے گی‘۔

مفاہمت کا دارومدار
فریقین میں معاملات کو آگے بڑھانے کا دارو مدار ’رئیسانی کے پیغام‘ کا مثبت جواب دینے پر ہے اور اس کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور امریکی سفیر کی شریف برادران سے ملاقاتیں متوقع ہیں
ترجمان وزیر اعظم
میاں نواز شریف کے مطابق اسفند یار ولی نے ان سے اظہار ہمدردی کی ہے مصالحت کے بارے میں بات نہیں کی۔ جبکہ ان کے بقول مولانا فضل الرحمٰن نے ان سے مصالحت کے لیے فون پر بات کی ہے اور انہیں بتا دیا ہے کہ ججوں کی بحالی اور سترہویں ترمیم کے خاتمے سمیت جمہوری ایجنڈے پر عمل کے لیے اقدامات کریں تو مصالحت خود بخود ہوجائے گی۔

لیکن بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اعتماد سازی کے لیے کم از کم وفاقی حکومت کو فوری طور پر پنجاب کا گورنر تبدیل کرنے اور صوبے میں گورنر راج ہٹاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ حکومت بنانے کی دعوت دے تو بھی برف پگھل سکتی ہے۔

اس بارے میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اب بھی پرامید ہیں کہ معاملہ بات چیت سے طے پاجائے گا۔ انہوں نے پیر کو فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات میں اپنے اُس عزم کا اعائدہ کیا اور کہا ہے کہ پنجاب میں سیاسی بحران، گورنر راج اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی نا اہلی سمیت تمام قومی اہمیت کے حامل معاملات پر حکومت کی مصالحت اور وسیع تر اتفاق رائے کی پالیسی جاری رہے گی۔

لیکن ایوان صدر کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ مصالحت کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی اور اس کے لیے مسلم لیگ (ن) کو تعاون یا مخالفت دونوں میں سے کسی ایک بات پر کھل کر آنا ہوگا۔

اتفاق رائے کی پالیسی
 پنجاب میں سیاسی بحران، گورنر راج اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی نا اہلی سمیت تمام قومی اہمیت کے حامل معاملات پر حکومت کی مصالحت اور وسیع تر اتفاق رائے کی پالیسی جاری رہے گی
وزیر اعظم گیلانی
’ایک سال تک سب سے بڑے صوبے کی حکومت مسلم لیگ (ن) کے حوالے کی، اس دوران ہمارے وزراء کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا، کارکنوں کا کوئی کام نہیں ہوتا، صوبائی حکومت میں رہتے ہوئے اس کی طاقت وفاقی حکومت کو کمزور کرنے پر صرف کی جائے گی تو پھر بات کیسے بنے گی؟۔‘

ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح گزشتہ چند روز میں میاں نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں نے صدر آصف علی زرداری پر شدید الفاظ میں تنقید شروع کی ہے ایسے میں بات بنتے نظر نہیں آتی اور فریقین میں تناؤ کم نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اختلافات کم کرنے کی خاطر برطانوی ہائی کمشنر بھی بظاہر سرگرم ہے اور انہوں نے گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔ برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے نے پیر کو وزیراعظم سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن برطانیہ کی خواہش ہے اور وہ توقع کر رہا ہے کہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں بہت جلد اپنے اختلافات پر قابو پالیں گی۔

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی نے برطانوی ہائی کمشنر کو مصالحت کے بارے میں اپنی کوششوں سے مطلع کیا اور کہا کہ پر امن جلوس نکالنا اور اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہائیڈ پارک کے طرز پر اسلام آباد کے کسی پارک میں احتجاج کے لیے جگہ مختص کرنے کے لیے تجویز زیر غور ہے، تاکہ لوگ مخصوص جگہ پر اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کر سکیں۔

فریقین میں کشیدگی کم کرانے کے لیے اب تک کی سیاسی اور سفارتی کوششوں کے باوجود بظاہر کوئی بڑی پیش رفت تو سامنے نہیں آئی ۔ البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ دونوں جماعتوں نے سخت اختلافات اور کشیدگی کے باوجود بھی بات چیت اور رابطوں کا دروازہ بند نہیں کیا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے پیر کو ایمرجنسی میں بہاولپور جا کر میاں شہباز شریف کو صدر آصف علی زرداری کا ایک خاص پیغام پہنچایا ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ نواز شریف سے مشاورت کے بعد اس کا جواب دیں گے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین میں معاملات کو آگے بڑھانے کا دارو مدار ’رئیسانی کے پیغام‘ کا مثبت جواب دینے پر ہے اور اس کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور امریکی سفیر کی شریف برادران سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد