BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 March, 2009, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ میں بھی امن معاہدہ

جرگہ
باجوڑ میں اس طرح کے معاہدے پہلے بھی ہوئے ہیں لیکن زیادہ کامیاب نہیں رہے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ماموند قبائل اور حکومت کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت ایجنسی میں طالبان کی تمام عسکری تنظیمیں توڑ دی جائیگی۔

معاہدے کے تحت عسکریت پسند ہتھیار ڈال دیں گے جبکہ غیر قانونی ایف ایم چینلوں پر بھی پابندی ہوگی۔

باجوڑ کے ایک سرکاری اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو صدر مقام خار میں ماموند قبائل اور پولیٹکل انتظامیہ کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں باجوڑ میں امن کے سلسلے میں فریقین کی طرف سے اٹھائیس نکاتی اقرار نامے پر دستخط کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق باجوڑ میں تمام عسکری تنظیمیں توڑ دی جائیگی اور عسکریت پسند حکومت کے سامنے تسلیم ہونگے(یعنی ہتھیار ڈالیں گے) جبکہ ہتھیار ڈالنے والے افراد کی رجسٹریشن کے بعد قبائل ان کی نگرانی کریں گے۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ طالبان تنظیم کے عہدیداران مولوی فقیر محمد، جان ولی عرف شینا، مولوی سید محمد اور علی الرحمان ہتھیار پھینک کر حکومت کو تسلیم ہونگے جبکہ ان تنظیموں کے افراد اپنے قوم اور قبیلوں کے فیصلوں کے پابند ہونگے۔

ایجنسی میں متوازی حکومت قائم نہیں کی جائیگی اور عمل داری صرف حکومت پاکستان کی تسلیم ہوگی۔ علاقے میں کسی غیر ملکی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور نہ ہی اس کو مکان یا جائیداد کرائے پر دی جائے گی یا فروخت کی جائے گی اگر کسی علاقے میں غیر ملکی کی موجودگی کے شواہد ملے تو قوم خود اس کے خلاف کارروائی کریگی۔

معاہدے کے مطابق حکومتی اور سکیورٹی اہلکاروں کو کسی صورت نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور ان کے آلات و جائیداد کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا جبکہ کسی سرکاری یا سکیورٹی اہلکار کو اغواء نہیں کیا جائے گا۔

فرنٹیر کور کی تمام چیک پوسٹیں بدستور قائم رہیں گی اور نئی چیک پوسٹوں کے قیام پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تمام مدارس حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہونگے اور نیا مدرسہ انتظامیہ کی منظوری کے بغیر قائم نہیں ہوگا جبکہ سرکاری املاک سکول، ہسپتال اور پوسٹیں یا گشت وغیرہ کی متعلقہ قبیلوں کی اپنی حدود میں ذمہ داری ہوگی۔

غیر قانونی ایف ایم چینل پر پابندی ہوگی اور حکومت پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ نہیں کیا جائے گا، بالخصوص جمعے کے خطبات میں کسی قسم کے پروپیگنڈہ یا سیاسی بیانات سے اجتناب کیا جائے گا۔

علاقے میں کسی مرد کو نقاب پہننے ، وردی استعمال کرنے یا مسلح گشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت کو ایف سی ار کے تحت کارروائی کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

معاہدے پر ماموند قبائل کی طرف سے سات سو کے قریب ملکان نے دستخط کئے جبکہ حکومت کی طرف سے کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤاٹس نعمان سعید، پولٹیکل ایجنٹ باجوڑ، اے پی اے نواگئی اور تحصیلدار ماموند تحصیل نے دستخط کئے۔

اس سلسلے میں طالبان کا موقف معلوم کرنے کےلیے مقامی طالبان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے دو دن بعد حکومت نے بھی عارضی فائربندی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس سے قبل بھی باجوڑ میں متعدد بار امن معاہدے کئے جاچکے ہیں تاہم ان معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

اسی بارے میں
باجوڑ: طالبان کی جنگ بندی
23 February, 2009 | پاکستان
وزیرستان، دو ’جاسوس‘ ہلاک
07 February, 2009 | پاکستان
وزیرستان، دو ’جاسوس‘ ہلاک
12 January, 2009 | پاکستان
جاسوسی کے الزام میں تین قتل
05 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد