BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ سکول تباہ، بنوں ناظم ہلاک

باجوڑ سکول (فائل فوٹو)
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں سکول کا بڑا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوا ہے (فائل فوٹو)
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں نامعلوم افراد نے لڑکوں کے ایک اور سکول کو تباہ کردیا ہے جس کے ساتھ ہی گزشتہ چھ ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران تباہ ہونے والے سکولوں کی تعداد چالیس سے تجاوز کرگئی ہے۔

دوسری طرف صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے بم حملے میں یونین کونسل کے ناظم کو ہلاک اور ان کے ساتھی کو زخمی کردیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو نامعلوم افراد نے تحصیل ناوگئی کے تربنڑو کے علاقے میں واقع بوائز مڈل سکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں سکول کا بڑا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوا ہے۔

اس سے دو روز قبل بھی نامعلوم افراد نے تحصیل ناوگئی ہی کے علاقے صاحبزادگانو کلی میں واقع لڑکیوں کے پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا تھا۔

باجوڑ میں گزشتہ سال چھ اگست کو سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی تھی اور اس دوران نامعلوم افراد نے چالیس سے زائد سکولوں کو تباہ کردیا ہے۔ اگرچہ کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر حکام اور مقامی لوگوں کو شک ہے کہ ان میں مشتبہ طالبان مبینہ طور پر ملوث ہوسکتے ہیں۔

تقریباً ایک ماہ قبل طالبان ترجمان مولوی عمر نے دھمکی دی تھی کہ آپریشن کے نہ رکنے کی صورت میں وہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیں گے تاہم بعد میں ایف سی کے سربراہ میجر جنرل طارق خان نے دعوی کیا کہ انہوں نے باجوڑ میں طالبان کو مکمل طور پر شکست دید ی ہے۔

دوسری طرف صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ شدت پسندوں نے مقامی لشکر کے ایک سرکردہ رہنماء اور یونین کونسل تکی کے ناظم خیراللہ خان کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بناکر ہلاک کردیا ہے۔

بنوں پولیس کے سربراہ اقبال مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ خیراللہ خان اپنے ایک ساتھی کے ساتھ گاڑی میں آرہے تھے کہ شہر سے کچھ دور نواں کلی میں انکی گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرائی۔ ان کے بقول دھماکے کے نتیجے میں خیراللہ خان موقع پر ہلاک جبکہ ان کا ساتھی شفیع اللہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول خیراللہ خان کو مشبہ شدت پسندوں سے خطرہ تھا کیونکہ وہ اس لشکر کے سرکردہ رہنماء تھے جو اپنے علاقے میں شدت پسندوں کو آنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد