سوات: مولانا فضل اللہ کا مرکز خالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہناہے کہ فوج نے اپنے زیر قبضہ طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ کے امام ڈھیرئی مرکز کو خالی کردیا ہے جبکہ دس کے قریب طالبان کو رہا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے سوات میں ان خواتین اور افراد کے علاقہ بدر کرنے کا اعلان کیا ہے جو بقول اسکے مبینہ طور پر’ فحاشی پھیلانے‘ میں ملوث ہیں۔ یہ اعلانات ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید محمد جاوید نے منگل کو طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کےلیے بدھ کو کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ ہونے والی گفت وشنید کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیے ہیں۔ سید محمد جاوید کا کہنا تھا کہ بات چیت کے بعد انہوں نے تحریری طور پر بعض نکات پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے مولانا فضل اللہ کے امام ڈھیرئی مرکز کو خالی کردیا ہے اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کسی بھی وقت وہاں قیام کے لیے منتقل ہوسکتے ہیں۔ ان کے بقول حکومت نے فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے ابتدائی مرحلے میں ان دس طالبان کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے خلاف بقول ان کےچھوٹے چھوٹے مقدمات درج تھے۔اس کے علاوہ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تختہ بند چیک پوسٹ اور بعض دیگر ناکوں کو ختم کردیا ہے۔ کمشنر کے مطابق حکومتی اقدامات کے جواب میں طالبان سکیورٹی فورسز کے راشن لیجانے والے قافلوں پر حملہ نہیں کریں گے اور مینگورہ کے قمبر کے علاقے میں اپنی چیک پوسٹیں بھی ختم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک تین رکنی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جس میں وہ خود، فوج اور ٹی این ایس ایم کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔ ان کے بقول کمیٹی علاقے کا دورہ کر کے اس بات کا جائزہ لے گی کہ فوج اگر کہیں کسی کے گھر، سکول اور ہسپتال میں تعینات ہے اس سے وہاں سے نکالنے کے لیے صوبائی حکومت کو تحریری طور پر درخواست کرے گی۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے سرکاری طور پر بعض اہم اقدامات کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان عورتوں اور افراد کو مبینہ طور پر علاقہ بدر کیا جائے گا جو بقول ان کے کسی طور بھی’ فحاشی اور عریانی‘ پھیلانے میں ملوث پائے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں سی ڈی فلموں اور میوزک سینٹروں میں ’فحش فلمیں اور تصاویر‘ آویزاں کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا پہلے سے بند ان میوزک سنٹروں کو کھولنے کی اجازت ہوگی جو فحش مواد بیچنے میں ملوث نہ ہؤں۔ سوات میں میوزک اور سی ڈی کی پانچ سو سے زائد دکانیں پہلے ہی بند ہوچکی ہیں اور پورے شہر میں کوئی بھی دکان کھلی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔ سید جاوید نے مزید کہا کہ سوات میں تمام دکانیں نماز کے اوقات میں بند رہیں گی جبکہ رشوت لینے والے افسران بالخصوص پولیس اور ریونیو کے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کے بقول گرانفروشوں اور منشیات فروشوں کے خلاف بھی نہ صرف کارروائی کی جائے گی بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کی سطح پر منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی کا ایک مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ بقول ان کے لوگوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ جائیداد میں عورتوں کو شریعت کےمطابق حصہ دینا یقینی بنائیں۔ سوات میں تشدد کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت نے کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی کی توسط سے طالبان کے ساتھ نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کی شرط پر جو امن معاہدہ کیا تھا اس سے صوبائی حکومت صرف ’عدالتی شریعت کے نفاذ’ کے طور پر پیش کررہی تھی۔ لیکن تازہ اعلانات سے بظاہر ایسا معلوم ہورہا ہے کہ اس سے غیر محسوس طور پر زندگی کے دیگر شعبوں پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ |
اسی بارے میں سوات: دو سکیورٹی اہلکار ہلاک03 March, 2009 | پاکستان نظام عدل کا نفاذ ہو چکا: ہوتی02 March, 2009 | پاکستان سوات میں لڑکوں کےسکول کھل گئے02 March, 2009 | پاکستان ’پندرہ مارچ سے قبل قیدی رہا کریں‘01 March, 2009 | پاکستان معاہدے کے بعد سوات کا سفر03 March, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||