BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 March, 2009, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نظام عدل کا نفاذ ہو چکا: ہوتی

وزیر اعلی کے مطابق قاضی عدالتیں جلد کام شروع کر دیں گی
صوبہ سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈیویژن میں شرعی نظام عدل کا نفاذ ہوچکا ہے لہذا اب ہتھیار اٹھانے کی ضرورت باقی نہیں رہی اور بہت جلد علاقے میں قاضی عدالتیں کام شروع کردیں گے۔

وزیراعلی سرحد نے پیر کی صبح سوات کے صدر مقام مینگورہ کا مختصر دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی جرگہ، تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ایک وفد اور مقامی صحافیوں سے سرکٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

بعدازاں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سوات میں مکمل امن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے طے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈیویژن کے عوام کا دیرینہ مطالبہ شرعی نظام عدل کا قیام تھا جو کہ حکومت نے پورا کردیا ہے لہذا اب ہتھیار اٹھانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق سوات میں بہت خون بہہ چکا ہے لیکن حکومت اب کسی بھی صورت مزید بے گناہ لوگوں کا خون نہیں بہنے دیگی۔

امیر حیدر خان کا کہنا تھا کہ سوات میں شرعی نظام عدل کے نفاذ کے بعد بہت جلد قاضی عدالتیں کام شروع کردیں گی اور تمام اپیلٹ کورٹس بھی مالاکنڈ میں ہی قائم کئے جائیں گے۔

انہوں نے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوفی محمد کی مسلسل کوششوں اور جدوجہد کے نتیجے میں سوات میں امن قائم ہوا ہے اور عوام نے چین کا سانس لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوفی محمد کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی حرف بحرف پاسداری کی جائیگی اور اس کا عملی آغاز ہوچکا ہے۔

وزیراعلی نے کہا کہ سوات میں تباہ ہونے والے سکولوں اور دیگر اداروں کی تعمیر نو کےلیے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے گا جبکہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت اور دیگر فلاحی اداروں سے فنڈز حاصل کرنے کےلیے درخواست کی جائیگی۔

وزیراعلی نے اس موقع پر سوات میں جان بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین میں امدادی چیک بھی تقسیم کئے۔

اس سے پہلے وزیراعلی پشاور سے مینگورہ پہنچے تو شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ وزرات اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد امیر حیدر خان ہوتی کا سوات کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں سوات کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزراء بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اسی بارے میں
سوات:قوم کی پشت پناہی درکار
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد