BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 March, 2009, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پندرہ مارچ سے قبل قیدی رہا کریں‘

مولانا صوفی محمد نے حکومت اورطالبان کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے
کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ وہ سوات میں امن معاہدے کے بعد وہ صوبائی حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔

سوات میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صوفی محمد نے حکومت اور مقامی طالبان کو کہا ہے کہ وہ پندرہ مارچ تک ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کر دیں ورنہ نفاذ شریعت محمدی کے اہلکار احتجاج کریں گے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں جاری عدالتی کارروائی کو فوری طور پر روک کرکے شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔

مولانا صوفی محمد نے کہا کہ سوات میں شریعت کے عملی نفاذ کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوات کے شہری علاقوں میں اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں شرعی سزا دی جائے گی۔

اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر اشرف علی نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طالبان کا جن قیدیوں کی رہائی مطالبہ ہے وہ قیدی خفیہ اداروں کے تحویل میں ہیں۔اس سے پہلے جو معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی صوبائی حکومت ان کو رہا کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کر سکی جس کی وجہ بنا پر معاہدہ ٹوٹ گیا۔

اسی بارے میں
سوات:قوم کی پشت پناہی درکار
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد