’پندرہ مارچ سے قبل قیدی رہا کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ وہ سوات میں امن معاہدے کے بعد وہ صوبائی حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔ سوات میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صوفی محمد نے حکومت اور مقامی طالبان کو کہا ہے کہ وہ پندرہ مارچ تک ایک دوسرے کے قیدیوں کو رہا کر دیں ورنہ نفاذ شریعت محمدی کے اہلکار احتجاج کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں جاری عدالتی کارروائی کو فوری طور پر روک کرکے شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ مولانا صوفی محمد نے کہا کہ سوات میں شریعت کے عملی نفاذ کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوات کے شہری علاقوں میں اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کی صورت میں شرعی سزا دی جائے گی۔ اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر اشرف علی نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طالبان کا جن قیدیوں کی رہائی مطالبہ ہے وہ قیدی خفیہ اداروں کے تحویل میں ہیں۔اس سے پہلے جو معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی صوبائی حکومت ان کو رہا کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کر سکی جس کی وجہ بنا پر معاہدہ ٹوٹ گیا۔ | اسی بارے میں نیا سوات: ایک سال بعد سوات میں کیا دیکھا20 February, 2009 | پاکستان سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان سوات: حکومت کا اعلانِ جنگ بندی21 February, 2009 | پاکستان سوات:قوم کی پشت پناہی درکار 21 February, 2009 | پاکستان سوات: لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں22 February, 2009 | پاکستان امن معاہدے کے بعد سکول کھل گئے23 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||