BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

فائل فوٹو
طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ میں زخمی ہونے والے دو فوجی اہلکاروں نے ہسپتال میں دم توڑ دیا
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ میں زخمی ہونے والے دو فوجی اہلکاروں نے ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دوسری طرف کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے سوات میں سکیورٹی فورسز پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تو وہ اس سے الگ ہوجائیں گے۔

سوات کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح مقامی طالبان نے پانی لانے والے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر رونیال کے علاقے میں فائرنگ کی تھی جس میں تین فوجی اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے دو فوجی جوانوں نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں حالات ایک بار پھر کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔

 سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی فورسز خود امن معاہدے کی خلاف ورزی کر کے راشن لے جانے کی آاڑ میں فوج کو پہاڑی علاقوں میں تعینات کردی تھیں اس لیے ان پر حملہ کیا گیا۔

سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی فورسز خود امن معاہدے کی خلاف ورزی کر کے راشن لے جانے کی آڑ میں فوج کو پہاڑی علاقوں میں تعینات کررہی تھیں اس لیے ان پر حملہ کیا گیا۔

’انہوں نے دعوی کیا کہ معاہدے کے بعد سوات میں فوج کی نقل و حرکت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور ان کے مزید ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایک دو چیک پوسٹوں کے علاوہ باقی تمام چیک پوسٹیں بھی بدستور قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اعلان کے مطابق سوات میں شرعی نظام عدل کو حکومت کی مکمل رٹ کی بحالی سے مشروط کیا گیا ہے تاہم چترال اور بونیر میں تو پہلے ہی حکومت کی عمل داری بحال ہے وہاں ابھی تک شرعی نظام عدل پر عمل درآمد کیوں شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔

ادھر دوسری طرف کالعدم تحریک نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے حکومت پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تو وہ اس سے الگ ہوجائیں گے۔
مینگورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد حکومت نے دو بار خلاف ورزی کی ہے اور دونوں مرتبہ مسئلہ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت پر پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نقل و حرکت کرے گی تو امن معاہدے پر اثر پڑ سکتا ہے۔

صوفی محمد کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے حکومت کو پندرہ مارچ تک مہلت دی گئی ہے کہ اس دوران سوات اور دیگر اضلاع میں شرعی نظام عدل پر عمل درآمد شروع کیا جانا چاہیے اور فریقین ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی بھی ممکن بنائے۔ دو دن پہلے بھی ٹی این ایس ایم کے رہنما نے حکومت کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

دریں اثناء سوات میں نامعلوم مسلح افراد نے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن یامین خان کو اغوا کر لیا ہے۔ تاحال کسی تنظیم اس اغوا کی ذمہ اری قبول نہیں کی ہے۔

سوات میں امن معاہدے کے بعد فائرنگ کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سر سینڑی کے مقام پر بھی سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جبکہ فرنٹیر کانسٹیبلری کے ڈسٹرکٹ آفیسر سمیت چار ایف سی اہلکاروں کو اغوا کیا گیا تھا تاہم ایک دن کے بعد مغوی اہلکاروں کو رہا کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد