مغوی بچے تاحال بازیاب نہیں ہوئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں جمعہ کو سکول بس سے اغواء ہونے والے چار بچوں کو تاحال بازایاب نہیں کرایا جاسکا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی بحفاظت بازایابی کے لیے مقامی عمائدین اور علماء کا ایک جرگہ اورکزئی ایجسنی پہنچ گیا ہے۔لیکن ابھی تک جرگے کو ناکامی کا سامنا ہے۔ پولیس کے ایک افسر سعید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو ایک سکول کی بس پر حملہ کرکے ڈرائیور کو ہلاک گیا جبکہ دو بچوں کو زخمی کردیاگیا تھا۔پولیس افسر کے مطابق اس وقت چار بچوں کو اغواء بھی کیا گیا جو تاحال بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی بازیابی کے لیے مقامی عمائدین اور علماء پر مشتمل ایک جرگہ دو دن سے اورکزئی ایجنسی میں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جرگہ یہ سراغ لگانے میں ناکام ہے کہ بچے کس کے پاس ہیں۔پولیس کے مطابق بچوں کے اغواء کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ چودہ سالہ سید شاہی عباس بھی اغواء ہونے والوں میں شامل ہیں۔ان کے بوڑھے داد سید سجاد حُسین نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں کے اغواء کے بعد صرف ان کے والدین نہیں بلکہ پورا علاقہ غم میں ڈوبہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تو سکول کے بچے ہیں ان کا کیا قصور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کو معلوم ہوا کہ سکول کے بچے اغواء ہوئے ہیں۔ وہ فوراً سکول پہنچ گئے لیکن سکول میں ان کا نواسہ نہیں تھا۔ان کے مطابق کسی کو معلوم نہیں کہ بچے کس نے اغواء کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تو گھر میں بیھٹے ہیں لوگ تسلیاں دینے کے لیے آتے ہیں۔وہ کیا کرسکتے ہیں۔بس اللہ سے دعگا مانگتے ہیں۔غریبوں کا اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں حالات بھی اچھے نہیں ہےکسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یادرہے کہ گزشتہ جمعہ کو ضلع ہنگو کے علاقے میروباک میں نامعلوم افراد نے سکول کی بس پرحملہ کیا تھا جس میں ڈرائیور ہلاک جبکہ دو بچے زخمی ہوگئے تھے۔اس کے بعد فائرنگ کرنے والے چار بچوں کو اغواء کر کے انہیں نامعلوم مقام کی طرف لے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں سوات: غیر معینہ مدت تک سیزفائر24 February, 2009 | پاکستان سوات: لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں22 February, 2009 | پاکستان سوات:قوم کی پشت پناہی درکار 21 February, 2009 | پاکستان سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان فوری فیصلہ مگر فوری انصاف نہیں18 February, 2009 | پاکستان نظام عدل، ’دستخط پانچ منٹ کا کام‘17 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||