BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 February, 2009, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: پولیس اہلکاروں کی واپسی

پولیس کی ملازمت
پولیس کی ملازمت سے مستعفی ہونے کا ایک اشتہار
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں امن معاہدے کے بعد نوکریاں چھوڑ کر جانے والے پولیس اہلکاروں کی ملازمتوں کے لیے واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور اب تک ڈھائی سو کے قریب اہلکار دوبارہ حاضر ہوئے ہیں۔

سوات میں فوجی آپریشن کے دوران طالبان کے دباؤ پر تقریباً بارہ سو پولیس اہلکاوں میں سے آٹھ سو کے لگ بھگ اہلکار یا تومستعفی ہوگئے تھے یا نوکریاں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

سوات پولیس کے قائم مقام سربراہ قاضی فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد نوکریاں چھوڑ کر جانے والے اہلکاروں نے اپنی مرضی سے اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہونا شروع کردیا ہے۔

ان کے بقول گزشتہ چند دنوں کے دوران ڈھائی سو پولیس اہلکار اپنی نوکریوں پر واپس آچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق ان اہلکاروں پر اب طالبان کی جانب سے دباؤ کم ہوچکا ہے اس لیے وہ واپس حاضر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے بعد پولیس امن و امان کو برقرار رکھنےکے لیے دوبارہ فعال ہوچکی ہے اور اس وقت مینگورہ، سیدو شریف اور رحیم آباد کے علاقے میں پولیس نے کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں مٹہ، کبل اور آس پاس کے دیگر علاقوں میں کچھ مشکلات پیش آرہی ہیں جنہیں بہت جلد ختم کردیا جائے گا۔

سوات فوجی کارروائی کے دوران طالبان نے تمام پولیس اہلکاروں کو نوکریاں چھوڑنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد تقریباً بارہ سو اہلکاروں میں سے پولیس کے مطابق آٹھ سو اہلکار نوکریاں چوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

طالبان کے سابقہ مرکز کی تبدیلی
 امام ڈھیرئی میں قائم طالبان کے سابقہ مرکز کو دینی اور عصری علوم کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے اور مولانا صوفی محمد بہت جلد مستقل قیام کے لیے وہاں منتقل ہوجائیں گے
صوبائی وزیر قانون

دوسری طرف سنیچر کو صوبائی وزیر قانون بیرسٹر ارشد عبداللہ اور اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک نے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے قائدین سے مینگورہ میں مذاکرات کیے ہیں۔ بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے سربراہ افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ فریقین امن معاہدے کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام ڈھیرئی میں قائم طالبان کے سابقہ مرکز کو دینی اور عصری علوم کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے اور مولانا صوفی محمد بہت جلد مستقل قیام کے لیے وہاں منتقل ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں
سوات:گولہ باری سےہلاکتیں
24 August, 2008 | پاکستان
سوات:خودکش حملہ، ہلاکتیں
23 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد