BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 August, 2008, 04:11 GMT 09:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: تھانے پرخود کش حملہ،متعدد اہلکار ہلاک

سوات (فائل فوٹو)
پولیس سٹیشن پر حملے کے وقت تھانے کی اندر تیس پولیس اہلکار موجود تھے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں ایک پولیس اسٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ایک اور پولیس چوکی کو بم حملے سے اڑانے کی کوشش میں دو بچے ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان نے ان واقعات کی ذمہ دای قبول کر لی ہے۔

سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح بارود سے بھری ایک جیپ میں سوار خودکش حملہ آور نے چہار باغ پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں دو اہلکارہلاک جبکہ نو زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم دو مختلف سرکاری ذرائع نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئےمرنے والوں کی تعداد دس بتائی ہے۔

سیدو شریف ہسپتال کے ایک اہلکار میاں گل نے بی بی سی کو بتایا کہ چہار باغ بم حملے میں اب تک دو اہلکاروں سمیت تین افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سوات میں گزشتہ شب ہونے والے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے سینتیس افراد اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سوات کے تحصیل بری کوٹ کے علاقے ابوحہ میں بھی پولیس کے مطابق سنیچر کی صبح کو ی پولیس کی ایک خالی چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس کے قریب سے گزرنے والے دو بچے ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ تحصیل کبل کے ڈیرو کے علاقے میں گھر پر مارٹر گولہ گرنے کے ایک اور واقعہ میں ایک بچہ ہلاک ہوا ہے۔

دوسری طرف سوات میڈیا سنٹر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کانجو ، تحصیل کبل اور تو تانو بانڈہ میں سنیچر کی صبح غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کرکے طالبان کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

ان کے بقول سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جس میں ان کے دعوی کے مطابق متعدد طالبان ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ان کے مطابق اس کارروائی میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں جب طالبان کے ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے چہار باغ پولیس اسٹیشن پر ہونے والے خود کش حملے اور ابوحہ پولیس چوکی کو بم سے اڑانے کے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صوبائی حکومت ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتی طالبان علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ان کے بقول معاہدے کے مطابق حکومت علاقے میں شرعی نظام نافذ کرے اور سوات سے سکیورٹی فورسز کو نکال دے۔یاد رہے صوبہ سرحد کے وزیر اعلی امیرحیدر خان ہوتی نے جمعہ کو کہا تھا کہ حکومت سوات میں طالبان سے کیے گئے معاہدے کی اب بھی پابند ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد