سوات: تشدد میں درجنوں ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سنیچر کے روز ہونے والے تشدد کے مختلف واقعات میں سات سکیورٹی اہلکاروں، متعدد طالبان اور پولیس اہلکاروں سمیت سے زائد افراد ہلاک ہوئے پاکستانی فوج کے مطابق سنیچر کے روز سوات میں ہونے والی لڑائی کے دوران چالیس سے پینتالیس طالبان مارے گئے ہیں جبکہ گیارہ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سات زخمی بھی ہوئے ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان نے سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سے قبل سوات میں حکام نے بتایا تھا کہ تیس طالبان مارے گئے ہیں۔ طالبان نے حکومتی دعوے کو رد کرتے ہوئے بیس اہلکاروں کے ہلاکت کا جوابی دعویٰ کیا ہے۔ پولیس چوکی پر دھماکہ، چھ ہلاکتیں سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر ناصر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح سکیورٹی فورسز نے کانجو اور تحصیل کبل میں کرفیو نافذ کرکے طالبان کے خلاف بھرپور کاروائی شروع کی ہے۔
انہوں نے گزشتہ رات تحصیل مٹہ میں طالبان کے ایک ’غیر قانونی‘ ایف ایم اسٹیشن کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس سلسلے میں جب طالبان ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے مارے جانے کی حکومتی دعوے کی تردید کرتے ہوئے بیس اہلکاروں کی ہلاکت کا جوابی دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں ان کا محض ایک ساتھی زخمی ہوا ہے۔ خودکش حملہ، ہلاکتیں تاہم سیدو شریف ہسپتال کے ایک اہلکار عمر طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں اس واقعے میں ہلاک ہونے والے دو اہلکاروں اور دو شہریوں سمیت چار افراد کی لاشیں اور گیارہ اہلکاروں اور بارہ عام شہریوں سمیت تئیس زخمی لائے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چہار باغ کے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے بشمول سوات میں گزشتہ شب ہونے والے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے سینتیس افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ سوات کے تحصیل بری کوٹ کے علاقے ابوحہ میں بھی پولیس کے مطابق سنیچر کی صبح پولیس کی ایک خالی چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس کے قریب گزرنے والے دو بچے ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ تحصیل کبل کے ڈیرو کے علاقے میں گھر پر مارٹر گولہ گرنے کے ایک اور واقعہ میں ایک بچہ ہلاک اور چھ دیگر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے چہار باغ پولیس سٹیشن پر خود کش حملے اور ابوحہ پولیس چوکی کو بم سے اڑانے کے واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صوبائی حکومت ان کے ساتھ کیےگئےمعاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتی طالبان امن کے قیام کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ ان کے بقول معاہدے کے مطابق حکومت علاقے میں شرعی نظام نافذ کرے اور سوات سے سکیورٹی فورسز کو نکال دے۔ یاد رہے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے جمعہ کو کہا تھا کہ حکومت سوات میں طالبان سے کیے گئے معاہدے کی اب بھی پابند ہے۔ پولیس گاڑی پر فائرنگ، تین ہلاک | اسی بارے میں سوات:25 طالبان سمیت 30 ہلاک30 July, 2008 | پاکستان سوات:بم حملے میں پانچ اہلکار ہلاک02 August, 2008 | پاکستان سوات:سکول جلانے کا سلسلہ جاری07 August, 2008 | پاکستان سوات:سکول، سی ڈیز مارکیٹ تباہ15 August, 2008 | پاکستان سوات: مقامی رہنما سمیت 5 ہلاک21 August, 2008 | پاکستان واہ دھماکے: ستر ہلاکتیں، مقدمہ درج21 August, 2008 | پاکستان لاہور خودکش حملہ، تحقیقات شروع14 August, 2008 | پاکستان واہ حملے ردِ عمل ہیں: مولوی عمر21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||