BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 March, 2009, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لانگ مارچ سےنمٹنے کی حکمت عملی

وکلاء کے لانگ مارچ کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے

حکومت نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر معزول ججوں کی بحالی کے لیے 16 مارچ کو اسلام آباد میں متوقع لانگ مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنی شروع کر دی ہے۔

اس ضمن میں تمام ملک اور بالخصوص پنجاب کے ضلعوں میں کنٹرول روم قائم کرنے کے علاوہ ان علاقوں میں رہائش پذیر اس تحریک میں متحرک وکلاء کی فہرستیں بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد کے علاقے ریڈ زون کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا ہے۔

 اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے جن میں پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی ڈویژن میں تعینات ہیں اور ان پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو بھی واپس بُلالیا گیا ہے اور اُنہیں ڈیوٹیاں سونپ دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ شاہراہ دستور اس زون میں واقع ہے جہاں پر وکلاء نے معزول چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کی بحالی تک دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ذرائع نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ صوبہ پنجاب میں جہاں پر پہلے ہی گورنر راج نافد ہے وہاں پر مختلف شہروں میں دفعہ 144 کا بھی نفاذ کیا جائے گا تاکہ جلسے، جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی عائد کی جاسکے۔

دوسرے شہروں کی نسبت اسلام آباد اور راولپنڈی میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ راولپنڈی میں پنجاب کانسٹیبلری کی بھاری نفری کو بھی طلب کرلیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کی بھی ایک خاصی نفری کو طلب کر لیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے بارہ سو سے زائد اہلکار موجود ہیں جنہیں اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں واقع مختلف ملکوں کے سفارتخانوں اور اہم عمارتوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مزید نفری کو اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقع ایک ایسی عمارت میں ٹھہرایا گیا ہے جسے اسلام آباد کی انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ جیل کا درجہ قرار دیا ہے۔

ریڈ زون کی تمام تر ذمہ داری رینجرز کو سونپ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اُن کو اسلام آباد کے داخلی راسے پر تعینات کیا جائے گا تاہم داخلی اور خارجی راستوں پر ایف سی کے اہلکاروں کو تعینات نہیں جائے گا۔ رینجرز کے اہلکاروں کو سپورٹس کمپلکس میں ٹھہرایا گیا ہے جبکہ افسران کو گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرایا گیا ہے۔

وکلاء کےنمائندوں نے چند روز قبل لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق بارہ مارچ کو کراچی اور کوئٹہ سے روانہ ہونے والے وکلاء سکھر میں رات کا قیام کریں گے جس کے بعد تیرہ مارچ کو وہ اپنا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔
اس وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے جن میں پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار سکیورٹی ڈویژن میں تعینات ہیں اور ان پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو بھی واپس بُلالیا گیا ہے اور اُنہیں ڈیوٹیاں سونپ دی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان سکیورٹی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی افسران کا اجلاس 9 مارچ کو اسلام آباد میں وزارت داخلہ میں طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شرکت کریں گے اور لانگ مارچ کے حوالے سے وکلاء کی طرف سے کیےگئے انتظامات کے بارے میں حکام کو آگاہ کریں گے۔
اس اجلاس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریوں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ اس اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اہم وکلاء رہنماوں کو اُن کے گھروں میں ہی نظر بند کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وکلاء کےنمائندوں نے چند روز قبل لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق بارہ مارچ کو کراچی اور کوئٹہ سے روانہ ہونے والے وکلاء سکھر میں رات کا قیام کریں گے جس کے بعد تیرہ مارچ کو وہ اپنا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔

چودہ مارچ کو لاہور سے روانگی ہے جبکہ یہ قافلہ پندرہ مارچ کو راولپنڈی پہنچے گا جہاں سے یہ اگلے روز اسلام آباد کے لیے سفر کرے گا اور وہاں غیرمعینہ مدت کے لیے دھرنا دے گا۔

اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے اور اس میں کسی کو جلسے اور ریلیوں کی اجازت نہیں ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ابھی تک وکلاء کو اسلام آباد میں ریلی اور دھرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

اسی بارے میں
وکلاء گروپ بندی کا شکار
09 January, 2009 | پاکستان
’لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں‘
01 February, 2009 | پاکستان
آج بھی غیر سیاسی ہوں: چودھری
07 February, 2009 | پاکستان
144: لانگ مارچ روکنے کی کوشش
08 February, 2009 | پاکستان
لانگ مارچ کے لیے ضابطۂ اخلاق
21 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد