BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گورنر راج سے سکیورٹی درہم برہم‘

 قذافی سٹیڈیم
’سیکورٹی لیول کو بڑھانا چاہیے تھا کیونکہ بھارت بھی سری لنکا کی ٹیم کے دورہ پاکستان سے ناراض تھا‘
ماہرین نے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ حکومت نے سکیورٹی انتظامات پہلے ٹیسٹ میچ جیسے نہیں کیے تھے۔

پاکستانی فوج کے ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈپٹی دائریکٹر جنرل میجر جنرل ریٹائرڈ احتشام ضمیر کا کہنا ہے کہ حکومت نے پنجاب میں دو روز پہلے گورنر راج نافذ کر کے سکیورٹی کے انتظامات درم برہم کر دیے جو لاہور کی سابق انتظامیہ نے سری لنکا ٹیم کے لاہور میں ہونے والے ٹیسٹ کے دوران کیے تھے۔

انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد حکمرانوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں اور سیکورٹی انتظامات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

’سکیورٹی بڑھنی چاہیے تھی‘
سیکورٹی لیول کو بڑھانا چاہیے تھا کیونکہ بھارت بھی سری لنکا کی ٹیم کے دورہ پاکستان سے ناراض تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ممبئی واقعہ کہ بعد دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو سبق پڑھایا جائے گا
سابق آئی جی سندھ
انہوں نے کہا کہ تفتیش میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ان حملوں میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را ملوث ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ملوث افراد کی تربیت افغانستان میں بھی ہو سکتی ہے اور وہاں سے ہوتی ہو ئی یہ ٹریننگ قبائلی علاقوں میں بھی پہنچ گئی ہے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ احتشام ضمیر کا کہنا ہے کہ بھارت سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے خوش نہیں تھا اور انہوں نے اس معاملے پر سری لنکن کرکٹ بورڈ سے بھی احتجاج کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والے واقعہ میں غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں اور یہ عناصر بھارت کی خفیہ ایجنسی کے پاس بھی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی عناصر ممبئی حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

سابق آئی جی سندھ افضل شگری کا کہنا ہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کرنے والے انتہائی تربیت یافتہ لوگ تھے جو کارروائی کرنے کے بعد بڑی ہوشیاری سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

گورنر راج
 حکومت نے پنجاب میں دو روز پہلے گورنر راج نافذ کر کے سکیورٹی کے انتظامات درم برہم کر دیے جو لاہور کی سابق انتظامیہ نے سری لنکا ٹیم کے لاہور میں ہونے والے ٹیسٹ کے دوران کیے تھے
میجر جنرل(ر) احتشام ضمیر
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس واقعہ میں قبائلی شدت پسند تنظیموں کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ قبائلی شدت پسند تنظیمیں اپنے لوگوں کو تو نشانہ بنا سکتی ہیں لیکن کسی مہمان پر حملہ نہیں کرتیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ممبئی میں ہونے والے حملے سے مماثلت رکھتا ہے۔ افضل شگری کا کہنا ہے کہ بعض شدت پسند تنظیمیں ایسے واقعات میں ایک دوسرے کی نقل کرتی ہیں۔

افضل شگری کا کہنا تھا کہ سیکورٹی لیول کو بڑھانا چاہیے تھا کیونکہ بھارت بھی سری لنکا کی ٹیم کے دورہ پاکستان سے ناراض تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ممبئی واقعہ کہ بعد دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تفتیش میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور عینی شاہدین کے بیانات بہت اہمیت کے حامل ہیں جن کی روشنی میں اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد