کرکٹ: پاکستان میں حالات بہتر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی کے جنرل مینجر کرکٹ آپریشنز ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دو طرفہ کرکٹ کے لیے حالات تو بہتر نظر آتے ہیں لیکن آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں زیادہ ممالک کی ٹیمیں شریک ہوتی ہیں جن کی سیکیورٹی ایک پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ آئی سی سی کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آنے والے ڈیوڈ رچرڈ سن نے کہا کہ ’دور سے چیزیں زیادہ بہتر دکھائی نہیں دیتیں لیکن ہم نے یہاں آ کر حالات بہتر پائے ہیں اور میری تجویز یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سال کے آخر میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے دورۂ پاکستان کو یقینی بنانے کے لیے ان کے چیف آپریٹنگ آفیسر کو پاکستان بلوائیں تاکہ وہ خود حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں۔ ڈیوڈ رچرڈ سن نے لاہور میں آئی سی سی ہال آف فیم کے تین پاکستانی ارکان جاوید میانداد، حنیف محمد اور عمران خان کو اعزازی ٹوپیاں دینے کی تقریب بھی منعقد کی اور وہ آئی سی سی کے پرچم پر پاکستانی کھلاڑیوں کے دستخط بھی لے رہے ہیں۔ چیمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کی پاکستان سے منتقلی کے بعد سری لنکا میں انعقاد کے بارے میں ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا کہ ستمبر، اکتوبر میں سری لنکا میں بارشیں ہوتی ہیں اس لیے وہاں ٹورنامنٹ کے انعقاد میں مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اس سلسلے میں متبادل وینیوز پر غور کر رہی ہے اور یہ متبادل وینیوز پرتھ، جوہانسبرگ، ابوظہبی یا دبئی بھی ہو سکتے ہیں۔ آئی سی ایل میں شریک کھلاڑیوں کی بابت آئی سی سی کی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ آئی سی ایل ایک غیر تسلیم شدہ لیگ ہے اور ایسی کرکٹ اصل کھیل کو نقصان پہنچاتی ہے اس لیے کرکٹرز کو اس لیگ اور تسلیم شدہ کرکٹ میں سے ایک کو چننا ہو گا کیونکہ ایک وقت میں دو کشتیوں میں سوار نہیں ہوا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آئی سی ایل اور انڈین کرکٹ بورڈ میں بات چیت ہو رہی ہے لیکن بد قسمتی سے اس کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آئی سی ایل کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو عدالتی فیصلے پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے فیصلے کی بابت ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا کسی کھلاڑی کا حق ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے اس کی روزی روٹی وابستہ ہوتی ہے لیکن ملک کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا کھلاڑی کا اعزاز ہے اس لیے یہ کسی عدالت کی حد میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ انضمام الحق کے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا آئی سی ایل میں جانے کے بعد ایسا نہیں کہ وہ ہال آف فیم کے لیے منتخب نہیں ہو سکتے لیکن اس پر فوری سوچنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہال آف فیم کے کھلاڑیوں کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ انہیں ریٹائر ہوئے پانچ سال گزر چکے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہال آف فیم کی اگلی فہرست میں پاکستان کے ظہیر عباس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں حنیف،عمران،میانداد’ہال آف فیم‘ میں03 January, 2009 | کھیل انڈین کرکٹ لیگ، اعجاز بٹ کا عزم22 January, 2009 | کھیل یہ تو اک تماشا ہوا: انضمام02 February, 2009 | کھیل انٹیگا ٹیسٹ اب نئے میدان پر13 February, 2009 | کھیل آئی سی ایل نہیں چھوڑ سکتا: یوسف14 February, 2009 | کھیل پاکستان آسٹریلیا سیریز، یو اے ای06 February, 2009 | کھیل ڈوپنگ ماہر کی پاکستان آمد07 February, 2009 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||