BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 February, 2009, 17:49 GMT 22:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی سی ایل نہیں چھوڑ سکتا: یوسف

 کرکٹرمحمد یوسف
آئی سی ایل سے نیا معاہدہ نہیں کیا پرانے معاہدے ہی پر بھارت جاکر کرکٹ کھیلی۔
پاکستانی بیٹسیمن محمد یوسف نے واضح کردیا ہے کہ وہ آئی سی ایل نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل کے اس الزام کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے کہ انہوں نے آئی سی ایل چھوڑ کر پاکستان کی طرف سےکھیلنے کے عوض ایک کروڑروپے لیے تھے۔

محمد یوسف نے ہفتے کو کراچی پریس کلب کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں کہا کہ آئی سی ایل سے ان کا تین سالہ معاہدہ ہے جسے وہ نہیں توڑ سکتے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ نے انہیں پیشکش کی ہے کہ اگر وہ آئی سی ایل چھوڑدیتے ہیں تو انہیں پاکستانی ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

محمد یوسف نے کہا کہ آئی سی ایل کھیلنا ان کا جرم نہیں۔ انہوں نے میچ فکسنگ کی نہ ہی سٹے بازی کی ہے۔ وہ اب بھی پاکستان سے کھیلنا چاہتے ہیں اور صدر آصف زرداری سے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں انصاف دلائیں۔

انہوں نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ آئی سی ایل کرکٹرز پر پابندی آئی سی سی نے عائد نہیں کی جب کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ تاثر دیتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود آئی سی سی کے خلاف عدالت میں نہیں جاسکتے لیکن یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر آئی سی سی سے بات کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا نقصان پاکستانی کرکٹ کو پہنچا ہے۔

محمد یوسف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل شان گل کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا کہ انہوں نے آئی سی ایل چھوڑ کر پاکستان کے لیے کھیلنے کے عوض ڈاکٹر نسیم اشرف سے مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے لیے تھے۔

پاکستان کو بھی میری ضرورت ہے
 اب بھی تین سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتا ہوں اور پاکستانی ٹیم کو بھی میری ضرورت ہے
محمد یوسف

محمد یوسف نے کہا کہ یہ رقم ایک کروڑ بیس لاکھ بنتی ہے لیکن ساٹھ لاکھ روپے سینٹرل کنٹریکٹ اور ساٹھ لاکھ روپے ورلڈ ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پلیئر آف دی ائر کے انہیں ملے تھے۔

محمد یوسف نے کہا کہ انہوں نے آئی سی ایل سے نیا معاہدہ نہیں کیا بلکہ پرانے معاہدے ہی پر انہوں نے بھارت جاکر کرکٹ کھیلی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی تین سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتے ہیں اور پاکستانی ٹیم کو بھی ان کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد