BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2008, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویسٹ انڈیز کے ساتھ ٹیسٹ متوقع

اعجاز بٹ
دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے سیریز کے بعد دو ٹیسٹ ابوظہبی میں ہی کھیلے جاسکیں گے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا امکان ہے جس کے لیے سپانسر تلاش کیا جا رہا ہے۔

اعجاز بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیرملکی ٹیمیں سکیورٹی کے خدشات کی بنا پر پاکستان نہیں آتیں تو پاکستانی ٹیم کے بیرون ملک کھیلنے میں کوئی ہرج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے اجلاس کے موقع پر ان کی ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر سے بات ہوئی تھی جنہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی ٹیم سے کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

توقع ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے سیریز کے بعد دو ٹیسٹ ابوظہبی میں ہی کھیلے جاسکیں گے۔ چونکہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سیریز ہے لہٰذا اسے سپانسر تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں مارکیٹنگ کے حکام سے کہا ہے کہ وہ سپانسرشپ حاصل کریں تاکہ اس سیریز کو یقینی بنایا جاسکے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ بہت ضروری ہے۔ کرکٹ سے زیادہ دیر دوری کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ سکیورٹی کے سبب غیرملکی ٹیمیں یہاں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں اس صورتحال میں آپ کم ازکم ’ آف شور‘ سینٹرز پر جاکر تو کھیلیں۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ دبئی میں ان کی مختلف کرکٹ بورڈز کے سربراہوں سے بات ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کرکٹ ملے گی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کے نتیجے میں مالی فائدہ بھی ہوگا۔

اعجازبٹ سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے آئی سی سی، سری لنکا، بنگلہ دیش اور آئی پی ایل کے بارے میں سخت بیانات دے کر کئی محاذ نہیں کھول لیے تو انہوں نے کہا کہ کیا وہ جھوٹ اور ڈپلومیٹک انداز اختیار کریں اور کیا وہ سچ بات نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس کی بہتری اور مفاد میں جو بھی ممکن ہوا وہ اقدامات کرینگے۔ تاہم انہوں نے آئی سی ایل پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا۔

اعجاز بٹ نے جیف لاسن کے بارے میں اپنے سابقہ بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے کہ وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر کے طور پر کہا ہے جس کا انہیں حق حاصل ہے۔ لیکن پی سی بی کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ لاسن سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری کرینگے کیونکہ وہ بورڈ کے ملازم ہیں۔

اس سوال پر کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میچز نہ ہونے کی صورت میں لاسن کو فارغ بیٹھنے کے بجائے کیا اکیڈمی میں نوجوان کرکٹرز کے ساتھ نہیں ہونا چاہیئے، اعجاز بٹ نے کہا کہ یہ اچھی تجویز ہے اور آئندہ چند روز میں وہ لاسن سے ملنے والے ہیں اس معاملے پر وہ ضرور بات کرینگے۔

جب اعجاز بٹ سے پوچھاگیا کہ وہ سابق چیئرمین کے فیصلوں کو اب ون مین شو قرار دیتے ہیں جبکہ خود ان کے گورننگ بورڈ میں شامل تھے تو انہوں نے کہا کہ ریکارڈ پر یہ بات موجود ہے کہ انہوں نے کبھی خاموشی اختیار نہیں کی اور متعدد معاملات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے انہیں پی سی بی کی آڈٹ کمیٹی کا چیئرمین بنایا تھا تو انہوں نے اسوقت بھی شور مچایا جب آسٹریلیا سے سیریز کی انشورنس کی بات ہورہی تھی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ جو بھی دستاویز ہے وہ سامنے لائی جائے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ وہ اس بارے میں تمام معاملات عوام کے سامنے لائیں گے کیونکہ کرکٹ بورڈ حکومت کا ادارہ ہے اور حقائق چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جاوید میانداد اور محمد نعیم کو گورننگ بورڈ میں اپنی اور معین افضل کی جگہ شامل کرنے کے بارے میں اعجاز بٹ نے کہا کہ انہوں نے دونوں کے نام حکومت کو تجویز کر دیئے ہیں جس کی منظوری کے بعد باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں
کرکٹرز وکلاء دوستی
26 September, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد