BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 September, 2008, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹرز وکلاء دوستی

فضل محمود
فصل محمود کوگلہ رہا کہ انہیں جسٹس کارنیلیئس نے انصاف نہیں دیا تھا
کرکٹرز اور فلمی ستاروں کا تعلق نیا نہیں ہے لیکن اس وقت پاکستانی کرکٹرز کے نام بالی ووڈ یا لولی ووڈ کے خوبصورت چہروں سے زیادہ ان ذہین لوگوں کے ساتھ منسلک نظر آتے ہیں جو قانون کی موٹی موٹی کتابیں پڑھ کر اپنے دلائل سے عدالتوں کو قائل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

پاکستان کے پانچ سابق اور موجودہ کرکٹرز کے معاملات اس وقت عدالتوں سے جڑے ہوئے ہیں جن میں محمد آصف، محمد یوسف، شعیب اختر، سلیم ملک اور معین خان شامل ہیں۔

محمد یوسف کو آئی سی ایل کی جانب سے ممبئی ہائی کورٹ اور ممبئی کی ثالثی عدالت میں دائر مقدمات کا سامنا ہے ۔ محمد یوسف نے آئی سی ایل کے خلاف لاہور کی سول کورٹ میں جوابی مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

اسی تنازعے میں بار بار آئی سی ایل کا ایجنٹ کہے جانے پر ناراض معین خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو قانونی نوٹس بھیج رکھا ہے۔

سابق کپتان سلیم ملک کی جان ابھی تک میچ فکسنگ کے تنازعے سے نہیں چھوٹ سکی ہے اور وہ آٹھ سال سے سول کورٹ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چکر لگاتے ہوئے پھر سول کورٹ میں آچکے ہیں۔

محمد آصف بھی سرحد پار ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑے جانے پر وکیل اور ڈوپنگ ماہر کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان سب کے مقابلے میں سب سے زیادہ مرتبہ ڈسپلن سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے شعیب اختر بھی قانون کا سہارا لیتے ہوئے دوبارہ کھیلنے کے لیے کمربستہ ہیں۔

اسی پر اکتفا نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے ہاتھوں ملازمت سے نکالے جانے کے بعد ورلڈ کپ پراجیکٹ ڈائریکٹر سلیم الطاف نے بھی اپنے وکیل بھائی نعیم بخاری کی مدد سےعدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

عمران خان
عمران خان نے لندن کی عدالت میں ایئن بوتھم اور ایلن لیمب کے خلاف بال ٹمپرنگ تنازعے میں مقدمہ دائر کیا اور جیتا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ پی سی بی کے تقریباً دس مقدمات کی پیروی کررہے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق پی سی بی کی پراپرٹی سے ہے۔ ان میں کرکٹرز کے مقدمے شامل نہیں ہیں۔

تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ موکل عام آدمی ہویا کرکٹر وہ ہر مقدمے کو یکساں نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ کرکٹرز کو وی آئی پی کا درجہ نہیں دیتے۔

کرکٹرز کی عدالت تک رسائی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق قانونی مشیر علی سبطین فضلی کا کہنا ہے کہ قدرتی بات ہے جب کرکٹرز کو انصاف نہیں ملے گا اور ان کے ساتھ زیادتی ہوگی تو وہ قانون کا سہارا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹرز صرف پاکستان ہی میں عدالتوں کا رخ نہیں کرتے ہیں دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ عمران خان کی مثال سب کے سامنے ہے جنہوں نے لندن کی عدالت میں ایئن بوتھم اور ایلن لیمب کے خلاف بال ٹمپرنگ تنازعے میں مقدمہ دائر کیا اور جیتا۔

سلیم ملک اور محمد آصف کی وکالت کرنے والے شاہد کریم کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کے لیے عدالت تک جانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس میں ان کے کریئر کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس پر ارباب اختیار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔

شعیب اختر اور محمد آصف
شعیب اختر اور محمد آصف کو بھی وکلاء کا سہارا لینا پڑ رہا ہے

ان وکلاء کے برخلاف کھیلوں کے سینیئر صحافی گل حمید بھٹی اس معاملے کو خبروں میں رہنے کے گر کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جہانتک کرکٹرز کی جانب سے کرکٹ بورڈ کو ہرجانے کے نوٹس بھیجنے کا تعلق ہے تو زیادہ تر ان معاملات میں شہرت حاصل کرنا اصل مقصد ہوتا ہے۔ اس طرح کے معاملات کورٹ سے باہر ہی طے ہوجاتے ہیں جس میں کسی کو بھی کچھ نہیں ملتا۔

پاکستان میں شہریوں کی طرف سے کرکٹرز کےخلاف قومی اور مذہبی جذبات مجروح کرنے پر ہرجانے کے دعووں کا رجحان بھی عام رہا ہے۔اس طرح کے آٹھ مقدمات لڑنے والے وکیل عنصر باجوہ یہ مانتے ہیں کہ شہرت کسے اچھی نہیں لگتی لیکن شہرت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جذبات اور احساسات بھی اہم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ایسے دعووں میں زندگی کو خطرہ بھی لاحق رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹی وی چینل پر شراب کے اشتہار میں کام کرنے پر وسیم اکرم کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ اشتہار روک دیا گیا تھا۔
سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز متنازعہ بیانات دینے اور الزامات عائد کرنے پر جاوید میانداد اور عبدالرحمن بخاطر کی جانب سے دائر مقدمات کی زد میں آچکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ ڈوپنگ اور ڈسپلن کی خلاف ورزی جیسے معاملات کی تحقیقات کے لیے عدلیہ کی مدد لی جاتی رہی ہے۔ جسٹس ملک محمد قیوم، جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری، جسٹس فخرالدین جی ابراہیم، بیرسٹر شاہد حامد اور جسٹس آفتاب فرخ کی تقرری مختلف کمیشنوں اور ٹریبونلز میں ہوچکی ہے جبکہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز میں آفتاب گل باقاعدگی سے وکالت کر رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہوں میں دو صاحبان چیف جسٹس بھی تھے گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرکٹرز کو انصاف ان کے گھر میں میسر آگیا تھا لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہےکہ فضل محمود کو جسٹس کارنیلیئس اور عبدالقادر کو جسٹس نسیم حسن شاہ سے بھی انصاف نہ ملنے کا گلہ رہا۔

اسی بارے میں
آصف کے ویزے میں تاخیر
04 August, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد