ٹیسٹ کے نتائج پر آصف کی حیرانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین پریمئر لیگ میں دِلی ڈئر ڈیولز کی جانب سے کھیلنے والے پاکستانی فاسٹ بالر محمد آصف کا کہنا ہے کہ ڈوپ ٹیسٹ کا نمونہ لینے کے ڈیڑھ ماہ بعد ان کا ٹیسٹ مثبت آنا ان کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ محمد آصف کا کہنا ہے کہ اگر ٹیسٹ مثبت ہو تو اس کا نتیجہ ایک ہفتے میں آ جاتا ہے اور ایک ہفتے میں نہ آئے تو کھلاڑی خود کو کلیئر ہی سمجھتا ہے اور اب ڈیڑھ مہینے کے بعد ٹیسٹ کا مثبت آنا ان کے لیے ایک معمہ ہے۔ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی ان کا ٹیسٹ ہوا تھا تب تو وہ کلیئر تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کیا وہ پاگل ہیں کہ ایسی کوئی چیز لیں جو ممنوعہ ادویہ میں آتی ہو۔ محمد آصف کا کہنا تھا کہ وہ بی نمونے کا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ اپنے وکیل کے ساتھ مشورے کے بعد کریں گے۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈوپنگ پالیسی کے مطابق اگر کسی کھلاڑی کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آئے تو کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس کے کرکٹ کھیلنے پر عارضی طور پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد ڈرگ ٹریبیونل قائم کیا جاتا ہے اور کرکٹر کو یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرگ ٹریبیونل کے سامنے اپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹر کے پاس یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے بی نمونے کا بھی ٹیسٹ کروائے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل کی انتظامیہ اس سلسلے میں جو تحقیق کرے گی وہ اپنی جگہ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے طور پر اس معاملے کے لیے ڈرگ ٹریبیونل بنائِے گا۔
محمد آصف جو 2006 میں بھارت میں ہونے والے چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ سے پہلے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے تنازعے کا شکار ہوئے تھے جنہیں پہلے تو کرکٹ بورڈ کی ڈرگ کمیٹی نے ایک سال کی سزا دی تھی لیکن بعد میں ایپلیٹ کمیٹی نے انہیں بے قصور قرار دے کر یہ سزا معاف کر دی تھی۔ محمد آصف چونکہ دوسری مرتبہ ڈوپ ٹیسٹ میں مثبت رپورٹ ہوئے ہیں تو کیا ان پر تا حیات پابندی لگائے جانے کا امکان تو نہیں۔ اس ضمن میں شفقت نغمی کا کہنا تھا کہ چونکہ پہلے معاملے میں محمد آصف بے قصور قرار پائے تھے اس لیے قانونی طور پر دیکھا جائے تو اس بار مثبت آنا ان کی پہلا جرم ہے۔ ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ کے دوبارہ مثبت آنے پر کرکٹ بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد آصف کے دوبارہ مثبت رپورٹ ہونے میں محمد آصف تو قصور وار ہیں ہی لیکن زیادہ قصور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں دو کھلاڑیوں کے مثبت رپورٹ ہونے کے بعد جو اقدامات کرکٹ بورڈ کو کرنے چاہیں تھے وہ نہیں کیے گئے اور یہ لوگ اس سلسلے میں کوئی واضح لائحہ عمل طے کرنے کی بجائے اپنی کرسیوں کو بچانے کی تگ و دو کرتے رہے۔ عامر سہیل نے کہا کہ کرکٹ بورڈ معاملات چلانے میں ناکام ہو گیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف جو کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ہیں اس پر کوئی سخت ایکشن لیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||