’ڈوپنگ کا شکار نائب کپتان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈوپنگ کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر دانش ظہیر نے ڈوپنگ کے شکار فاسٹ بولر محمد آصف کے نائب کپتان بنائے جانے کے فیصلے کو انتہائی خطرناک اور دنیائے کرکٹ کے لیے غلط مثال قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر دانش ظہیر نے برونائی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کا فائدہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ ممنوعہ ادویات استعمال کرنے پر محمد آصف پر عائد کردہ ایک سالہ پابندی سے بری کیےجانے کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی( واڈا ) نے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کررکھا ہے تاہم کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت ایک کمیٹی تشکیل دے کر یہ معلوم کررہی ہے کہ یہ کیس اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں؟ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف ایک سے زائد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف کا ڈوپنگ کا معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا اندرونی معاملہ تھا جسے وہ اب ختم سمجھتے ہیں۔ لیکن دونوں بالرز کے ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کو دنیائے کرکٹ میں شک کی نظر سے دیکھا گیا ۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ محمد آصف کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا نائب کپتان بنائے جانے پر آئی سی سی نے بھی تحفظات ظاہر کئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس کی تردید کررہا ہے۔ ڈاکٹر دانش ظہیر شعیبب اختر اور محمد آصف کو کلیئر کرنے والی کمیٹی میں شامل تھے لیکن انہوں نے اپنے دو ساتھیوں جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم اور حسیب احسن کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان اور سری لنکا کی سیریز میں ڈوپ ٹیسٹ نہیں ہونے تھے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے بلاخوف و خطر محمد آصف کو نہ صرف ٹیم میں شامل کیا بلکہ نائب کپتان بھی بنادیا۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی دونوں کو کھلائے جانے پر ہنگامہ ہوا تھا ۔ ڈاکٹر دانش نے کہا کہ اگر کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت پاکستانی فاسٹ بالرز کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو یہ کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ آپ کا نائب کپتان بین الاقوامی کرکٹ سے کچھ عرصے کے لیے باہر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈوپنگ کے بین الاقوامی قوانین کے تحت لاعلمی قابل قبول نہیں مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی یہ موقف اختیار کرکے نہیں بچ سکتا کہ اس نے لاعلمی میں ممنوعہ ادویات استعمال کی تھیں۔ | اسی بارے میں محمد آصف واپسی کے لیے پرعزم26 April, 2007 | کھیل شعیب، آصف کے ٹیسٹوں کی مخالفت17 January, 2007 | کھیل ڈوپنگ: پی سی بی کا محتاط انداز23 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ کیس کی سماعت کا جائزہ 07 February, 2007 | کھیل مسئلہ صرف فٹنس کا،’یقین نہیں آتا‘01 March, 2007 | کھیل پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشکل21 February, 2007 | کھیل مثبت ڈوپ ٹیسٹ، متبادل کی اجازت07 February, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||