محمد آصف واپسی کے لیے پرعزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر محمد آصف کو یقین ہے کہ کہنی کی تکلیف سے مکمل چھٹکارہ پاکر آئندہ ماہ ابوظہبی میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز سے ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی ہوجائے گی۔ محمد آصف جنہیں پاکستانی ذرائع ابلاغ شعیب ملک کے نائب کے طور پر دیکھ رہے ہیں ڈوپنگ اور فٹنس مسائل کے سبب ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی سے محروم رہے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد آصف نے کہا کہ وہ پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں اور اسوقت تین چار اوورز کسی تکلیف کے بغیر کرا رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ کیمپ میں وہ مکمل فٹنس کے ساتھ لمبی بولنگ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ قومی کیمپ ہفتے سے شروع ہو رہا ہے جس کے دوران محدود اوورز کےدو میچز بھی کھیلے جائیں گے ان میچوں کے بعد سلیکشن کمیٹی ٹیم منتخب کرے گی۔
چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو بھی کیمپ میں محمد آصف کی فٹنس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آصف کسی تکلیف کے بغیر دس بارہ اوورز کراتے ہیں تو یہ خوش آئند بات ہوگی۔ صرف9 ٹیسٹ میچوں میں49 وکٹیں حاصل کرنے والے24 سالہ محمد آصف گزشتہ سال انگلینڈ کے دورے میں کہنی کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے جس کے بعد چیمپئنز ٹرافی سے قبل مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے نتیجے میں انہیں بھارت سے واپس بلا لیا گیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں آصف نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے19 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی روانگی سے کچھ دیر پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں اور شعیب اختر کو یہ کہہ کر ٹیم سے دستبردار کرا لیا کہ وہ فٹ نہیں ہیں۔ تاہم ذرائع ابلاغ اس فیصلے کو ڈوپنگ کے تناظر میں دیکھتے آئے ہیں۔ فاسٹ بولر شعیب اختر ابھی تک فٹ نہیں ہیں اور انہوں نے چیف سلیکٹر سے مکمل فٹ ہونے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ |
اسی بارے میں کیمپ میں یونس، شعیب شامل نہیں22 April, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل علاج یا ڈوپ یاترا؟06 March, 2007 | کھیل سپیڈ کے ریمارکس پر پی سی بی ناراض02 March, 2007 | کھیل شعیب اور آصف ورلڈ کپ سے باہر01 March, 2007 | کھیل ’شعیب،آصف کے بغیرکامیابی مشکل‘27 February, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||