مثبت ڈوپ ٹیسٹ، متبادل کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی بی کی جانب سے اس ماہ کروائے جانے والے ڈوپ ٹیسٹ کے بعد عالمی کپ کے لیے پاکستانی سکواڈ میں شامل کسی کھلاڑی کا ٹیسٹ مثبت نکلا تو پاکستان کو اس کے متبادل کھلاڑی کا نام بھیجنے کی اجازت ہوگی۔ پی سی بی کی جانب سے دورۂ جنوبی افریقہ کے بعد ورلڈ کپ کے لیے ممکنہ تیس کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان میں سے ورلڈ کپ کے لیے منتخب ہونے والے پندرہ رکنی حتمی سکواڈ کے کسی رکن کا ڈوپ ٹیسٹ اگر مثبت نکلا تو اسے ٹیم سے نکال دیا جائے گا۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ’ آئی سی سی سے اس معاملے پر ہماری بات ہوئی ہے اور متبادل کھلاڑیوں کی اجازت عالمی کرکٹ کپ میں شریک اقوام کے معاہدے کے تحت ’خصوصی حالات‘ کی وجہ سے ملے گی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس حوالے سے کسی قسم کی مشکلات کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پی سی بی کو ممنوعہ ادویات کا استعمال ثابت ہونے کے بعد فاسٹ بالروں محمد آصف اور شعیب اختر کو تبدیل کرنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ محمد آصف اور شعیب اختر پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کی بنا پر بالترتیب ایک اور دو برس کی پابندی بھی لگائی گئی تھی جسے بعد ازاں اپیل ٹریبیونل نے ختم کر دیا تھا۔ بین الاقوامی انٹی ڈوپنگ ایجنسی’واڈا‘ نے اس فیصلے کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عادلت میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔ | اسی بارے میں شعیب اختر کا کیا بنے گا؟01 February, 2007 | کھیل شعیب، آصف کے ٹیسٹوں کی مخالفت17 January, 2007 | کھیل واڈا اپیل: ’ثالثی عدالت مجاز نہیں‘30 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ: واڈا کے مؤقف سے انکار16 December, 2006 | کھیل شعیب، آصف پر پابندی ختم 05 December, 2006 | کھیل کرکٹ بھی ڈوپنگ تنازعات کی لپیٹ میں17 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||